امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی مبینہ ہدفی فہرست میں ان کا نام سب سے اوپر ہے اور ممکن ہے کہ وہ بھی زندہ نہ رہیں۔ یہ بات انہوں نے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔
ٹرمپ نے ایران کے موجودہ اور سابق حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے کئی رہنما تبدیل ہو چکے ہیں اور اگر ایران کا طرزعمل نہ بدلا تو اس کے نئے رہنماؤں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے اسی انداز میں کام کر رہا ہے جبکہ امریکا اپنی قومی سلامتی اور عالمی مفاد کے لیے فیصلے کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کا اولین ہدف ہیں تاہم انہوں نے اس دعوے کی کوئی دستاویز، انٹیلی جنس رپورٹ یا دوسری تفصیل سامنے نہیں رکھی۔ ایران کی جانب سے مبینہ قتل کی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی پس منظر میں ان کی سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے نیٹو اجلاس سے واپسی کے لیے قطر کی جانب سے دیے گئے نئے طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون میں سفر کیوں کیا۔ ٹرمپ کے مطابق نیا طیارہ برطانیہ کے ملڈن ہال ایئربیس بھیجا گیا تھا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اسے قریب سے دیکھ سکیں۔
نئے طیارے کو استعمال نہ کرنے پر کئی سوالات اٹھے خصوصاً اس لیے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی موجود ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ سروس کی سفارش پر احتیاطی طور پر پرانے طیارے کو ترجیح دی گئی اگرچہ حکام نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی فوری یا مخصوص خطرے کی بنیاد پر نہیں تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئے بوئنگ 747-8 میں پرانے ایئر فورس ون جیسی بعض حفاظتی اور مواصلاتی سہولتیں ابھی مکمل طور پر موجود نہیں ہیں۔ پرواز کے دوران صحافیوں کو طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی مگر اس کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے دیا گیا یہ طیارہ گزشتہ سال ٹرمپ کو تحفے میں ملا تھا۔ اس تحفے پر امریکا میں قانونی، اخلاقی اور قومی سلامتی سے متعلق اعتراضات بھی سامنے آئے کیونکہ طیارے کی مالیت سینکڑوں ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
امریکی حکومت پہلے ہی نئے سرکاری صدارتی طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا کر رہی ہے۔ موجودہ ایئر فورس ون طیارے 1990 کی دہائی سے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ نئے مستقل طیاروں کی فراہمی رواں دہائی کے اختتام تک متوقع ہے۔