امریکہ سمیت متعدد ممالک پر مشتمل ایک بحری گروپ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی)کے مطابق تنازع شروع ہونے سے پہلے اوسطاً روزانہ 138 جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر لڑائی چھڑنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں تین آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد امریکہ نے ایران میں مختلف مقامات پر بمباری کی ہے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔
سمندری انٹیلی جنس فرم ’کلپر‘ کے مطابق بدھ کے روز صرف 23 آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز اس اہم خلیجی آبی گزرگاہ سے گزرے جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 47 تھی۔
اس ہفتے نشانہ بنائے گئے تینوں جہاز عمانی پانیوں سے گزرنے والے اُس راستے پر سفر کر رہے تھے جس کی سفارش امریکہ نے کی تھی۔ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ واحد ’محفوظ‘ راستہ ایک الگ راستہ ہے جو اس کے اپنے پانیوں سے گزرتا ہے۔
کئی دہائیوں سے جہازوں کو اس آبنائے سے آزادانہ گزرنے کی اجازت حاصل رہی ہے جس کے ذریعے دنیا کی تیل اور گیس کی سپلائی کا 20 فیصد نیز کھاد کی ترسیلات اور دیگر اہم سامان گزرتا ہے۔
امریکہ سمیت متعدد ممالک پر مشتمل ایک بحری گروپ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی)کے مطابق تنازع شروع ہونے سے پہلے اوسطاً روزانہ 138 جہاز اس آبنائے سے گزرتے تھے۔
سمندری انٹیلی جنس فرم 'کلپر' کے مطابق بدھ کے روز صرف 23 آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز اس اہم خلیجی آبی گزرگاہ سے گزرے جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ تعداد 47 تھی28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر پہلی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد یہ تعداد کم ہو کر روزانہ صرف چند جہازوں تک رہ گئی تھی۔
ایران نے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملے کر کے اور بارودی سرنگیں بچھا کر عملاً آبنائے کو بند کر دیا تھا۔ جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی تمام بحری آمدورفت کا محاصرہ کر لیا تھا۔
17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے والے جنگ کے خاتمے کے معاہدے میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات شامل تھے۔ واشنگٹن نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
معاہدے کے بعد ابتدائی طور پر آبنائے میں مجموعی بحری آمدورفت میں اضافہ ہوا اور 24 جون کو یہ تعداد بڑھ کر 72 جہازوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
دوبارہ لڑائی شروع کیوں ہوئی؟
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اسے آبنائے سے گزرنے والی آمدورفت کو کنٹرول کرنے اور گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق حاصل ہے۔
امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی، نیز یورپ اور ایشیا کی حکومتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آبنائے سے گزرنے کا حق دوبارہ ویسا ہی آزاد اور کھلا ہونا چاہیے جیسا کہ تنازع شروع ہونے سے پہلے تھا۔
جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد ایرانی حکومت نے آبی گزرگاہ کے شمالی حصے میں ایرانی ساحل کے قریب گزرگاہوں کا ایک نظام مقرر کیا اور کہا کہ تمام بحری آمدورفت کو انھی راستوں کا استعمال کرنا ہو گا۔
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے مطابق آبنائے میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کی آمدورفت کے لیے واحد محفوظ راستہ وہی ہے جس کا تعین اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔
جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے اس کے بجائے سفارش کی کہ جہاز آبنائے کے جنوبی حصے میں عمانی پانیوں سے گزرنے والا مختلف راستہ اختیار کریں۔
کلپر کے اعداد و شمار کے مطابق 25 جون کو اس عمانی راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بڑھ کر 28 تک پہنچ گئی، جو ایرانی راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد سے زیادہ تھی۔
اس کے بعد 25 اور 27 جون کو عمانی پانیوں میں دو جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران نے تمام جہازوں کو خبردار کیا کہ وہ صرف اس کے منظور شدہ راستوں کا استعمال کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا اور امریکی فوج نے ایرانی اہداف پر حملے کیے۔
جواباً ایران نے امریکہ پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ اس نے خطے میں امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ان حملوں کے بعد عمانی راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد ابتدا میں نمایاں طور پر کم ہوئی، تاہم بعد ازاں یہ پہلے کے مقابلے میں کم سطح پر برقرار رہی۔
اب نقل و حرکت کی صورتحال کیا ہے؟

اس ہفتے تین جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ کی تجویز کردہ عمانی گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
تینوں جہاز، قطر کی ملکیت والا مائع قدرتی گیس (LNG) ٹینکر، سعودی عرب کی ملکیت والا خام تیل کا ٹینکر، اور لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا خام تیل کا ٹینکر حملے کے وقت آبنائے سے عمانی راستے کے قریب گزر رہے تھے۔
کلپر کے مطابق ان واقعات کے بعد آبنائے سے گزرنے والے عمانی راستے پر جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔
بدھ کے روز اس راستے کو کسی بھی جہاز نے استعمال نہیں کیا، جبکہ اس سے ایک دن پہلے صرف تین جہاز اس راستے سے گزرے تھے۔ تازہ حملوں سے پہلے کے ہفتے میں اس راستے سے اوسطاً روزانہ تقریباً 10 جہاز گزرتے تھے۔
سکیورٹی فرم ای او ایس رسک گروپ کے سینئر انٹیلی جنس تجزیہ کار مارٹن کیلی کا خیال ہے کہ حملوں کا موجودہ سلسلہ گزشتہ مرحلے کی طرح ہی ایک مانوس طرز پر چلے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اب امریکہ اور ایران کے درمیان کچھ عرصے تک جوابی اقدامات کا تبادلہ ہوگا، پھر وہ دوبارہ تعلقات بہتر کر لیں گے، جہاز رانی محتاط انداز میں کبھی بڑھے گی اور کبھی کم ہوگی، یہاں تک کہ ایران ایک اور جہاز پر حملہ کرے گا اور یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔‘

مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا کہا گیا تھا؟
17 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیانمفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت تہران نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ ’60 روز تک بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔
اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران ’سلطنتِ عمان کے ساتھ مذاکرات کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی انتظامیہ اور سمندری خدمات کی وضاحت کی جا سکے۔‘
تہران کا کہنا تھا کہ معاہدے کے یہ حصے اسے آبنائے پر اختیار دیتے ہیں، لیکن ناقدین نے نشاندہی کی کہ اس میں ایران کی جانب سے طویل مدت تک آزادانہ آمدورفت کے حق کا احترام کرنے کا کوئی عہد شامل نہیں تھا۔
یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی بحری سلامتی کی ماہر جینیفر پارکر کے مطابق ’مفاہمتی یادداشت خاص طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق امور کے حوالے سے مبہم تھی، لیکن اس کے باوجود یہ ایران کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ جہازوں پر حملے کرے۔‘
تنازع سے پہلے استعمال ہونے والی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بحری گزرگاہوں میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں کے بارے میں خدشات نے بھی بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح تک واپس آنے سے روکے رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔
جمعرات کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنی منسلک خبر رساں ایجنسی کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’غیر ملکی طاقتوں کا نہ اس سرزمین پر اور نہ ہی آبنائے ہرمز پر کوئی حق ہے۔‘
بیان میں مزید خبردار کیا گیا کہ بحری راستوں کے تعین میں کسی بھِی مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

آبنائے کی دوبارہ بحالی امریکہ کے لیے ایک ’چیلنج‘
بدھ کے روز نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت (MOU) ’ختم ہو چکی ہے،‘ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔
ایران نے بھی واشنگٹن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد امریکہ نے امریکی محکمۂ خزانہ کا وہ لائسنس منسوخ کر دیا جس کے تحت ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔
جینیفر پارکر نے کہا کہ ’امریکہ کو واضح طور پر اُمید تھی کہ معاہدے میں دی گئی فراخ دلانہ اور بعض کے نزدیک حد سے زیادہ فراخ دلی، مالی مراعات ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر دباؤ ڈالنے سے روکیں گی، لیکن اب امریکہ کو اس حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ نہ تو اقتصادی ریلیف کے وعدے اور نہ ہی فوجی سزا کی دھمکی اب تک ایران کے رویے میں تبدیلی لا سکی ہے۔
اُن کے بقول چیلنج اب بھی یہی ہے کہ ترغیب اور دباؤ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔