ہوشیار پور کے پولیس انسپکٹر امریکہ میں مطلوب کیوں؟

کیلیفورنیا میں ایک نیوز کانفرنس میں گرفتاریوں کے اعلان کے ساتھ امریکی محکمہ انصاف نے انڈین پنجاب کے ایک پولیس افسر کے بھتہ وصولی میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے تفتیش کاروں نے ایک بڑے آپریشن میں انڈیا میں واقع جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے 24 ملزمان کو گرفتار اور ان پر فرد جرم عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کیلیفورنیا میں ایک نیوز کانفرنس میں ہونے والی ان گرفتاریوں کے اعلان کے ساتھ محکمہ انصاف کے اہلکار بل ایسیلی نے انڈین پنجاب کے ایک پولیس افسر کے بھتہ وصولی میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا۔

ایسیلی نے بتایا کہ انڈین پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے قصبہ ٹانڈہ کے ایس ایچ او گوریندر جیت سنگھ ناگرا نے مبینہ طور پر ایک جرائم پیشہ گروہ کے ارکان کی مدد سے امریکہ میں مقیم ایک انڈین فیملی کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے چار لاکھ ڈالر ادا نہ کیے تو وہ پنجاب میں ان کے خاندان کو قتل کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ناگرا نے ابتدائی طور پر اس فیملی سے زیادہ پیسوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد میں یہ معاملہ چار لاکھ ڈالر پر طے پایا۔

ایسیلی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ پولیس افسر ابھی امریکہ کی تحویل میں نہیں لیکن انھیں تحویل میں لیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں ںے کہا کہ ان پر مقدمہ چلانے کے لیے انھیں انڈیا سے امریکہ لایا جائے گا۔

انڈین حکومت نے اس بارے میں ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن پنجاب پولیس نے گوریندر جیت سنگھ ناگرا کو ایس ایچ او کے عہدے سے معطل کر دیا۔

جالندھر خطے کے ڈی آئی بی دفتر سے جاری بیان کے مطابق ناگرا کو بھتے کے معاملے کی تفتیش کے سلسلے میں معطلی کے بعد پولیس لائن منتقل کر دیا گیا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ ’پنجاب پولیس نے میڈیا کی خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کا نوٹس لیتے ہوئے ناگرا کو فوری طور پر ٹانڈہ کے ایس ایچ او کے عہدے سے ہٹا کر ہوشیار پور کی پولیس لائن منتقل کر دیا۔‘

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈی آئی جی نے ایک سپریٹنڈنٹ پولیس افسر کی سربراہی میں اس معاملے کی باضابطہ جانچ کے احکامات دیے ہیں۔

’انکوائری افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام الزامات اور حقائق کی جانچ کرنے کے بعد جلد سے جلد ایک مفصل رپورٹ پیش کریں۔ اس تفتیش کے بعد اگر ضرورت پڑی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

ایف بی آئی کے ذریعے سینٹرل ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت میں فرد جرم کے مطابق ناگرا نے اپریل اور جون کے درمیان لاس اینجلیس کاؤنٹی میں مکان خریدنے کی کوشش کی تھی۔

بھتہ
Getty Images

ایف بی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ گینگسٹر بھگوان، پوریا جو انڈیا کی ایک جیل سے اپنی مجرمانہ سرگرمیاں چلاتا ہے، کی مدد سے گوریندر جیت سنگھ ناگرا نے امریکہ میں مقیم ایک فیملی کو انڈیا میں قتل کے ایک جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی۔

فرد جرم کے مطابق اس فیملی سے چار لاکھ ڈالر کی رقم کیس میں نہ پھنسانے کے لیے مانگی گئی تھی ۔

گینگسٹر بھگوان پوریا کے خلاف پنجاب اور دوسری ریاستوں میں قتل، اقدام قتل اور دوسرے جرائم میں 100 سے زیادہ مقدمے درج ہیں۔

وہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل میں بھی ایک ملزم ہیں۔ مارچ 2025 میں انھیں بھٹنڈہ کی سینٹرل جیل سے آسام کی سلچر سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

ٹانڈہ، جالندھر پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ اسی سال 15 جنوری کو یہاں کے ایک گاؤں میانی میں بلوندر سنگھ نام کے ایک شخص کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

ایف بی آئی کے کیس کا تعلق بھی قتل کے اسی معاملے سے ہے اور فرد جرم کے مطابق اسی معاملے میں پولیس انسپکٹر نے امریکہ میں مقیم انڈین فیملی کو پھنسانے کی دھمکی دی۔

انڈین پنجاب کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس رہنما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھتہ وصولی میں ایک پولیس افسر کا جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ مبینہ طور پر ملوث ہونا بہت گمبھیر معاملہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پولیس افسر کو صرف پولیس لائن بھیج دیا گیا لیکن ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اپوزیشن جماعت شرومنی اکالی دل کے رہنما بکرم سنگھ مجیٹھا نے پنجاب کی موجودہ ‏عام آدمی پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس اب عالمی سطح پر شرمندگی کا سبب بن گئی ہے۔

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق انسپکٹر گوریندر جیت سنگھ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کر دیا۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھیں اس معاملے کے بارے میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں سے پتہ چلاانھیں تفتیشی ایجنسیوں سے ابھی تک کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US