’مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو ہزاروں میزائل ایران کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں‘، ’اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ‘ پر ٹرمپ کی دھمکی

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور امریکی فوج ایک سال کے عرصے کے لیے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے تیار اور پوری طرح اہل ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ فوری طور پر ایران پر ہزاروں میزائل داغ دے گا۔

سنیچر کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی حکومت دُنیا کے مختلف حصوں میں بارہا دہرائی گئی اس دھمکی پر عمل کرتی ہے کہ وہ امریکہ کے موجودہ صدر یعنی مجھے قتل کرے گی یا قتل کرنے کی کوشش کرے گی تو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب پہلے ہی ایک ہزار میزائل نشانے پر رکھے جا چکے ہیں اور ان کے فوراً بعد مزید ہزاروں میزائل بھی داغے جائیں گے۔‘

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورت میں احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور ’امریکی فوج ایک سال کے عرصے کے لیے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے تیار، پُرعزم اور مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کو امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ نئی انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان سے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے ایرانی منصوبے کا اشارہ ملتا ہے۔

لیکن رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہے کہ خفیہ معلومات کب یا کس ذریعے سے پہنچائی گئی تھیں۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اسرائیلی اخبارات میں یہ معاملہ کئی روز سے شہ سرخیوں میں ہے۔

گذشتہ روز یعنی 10 جولائی کو اسرائیلی میڈیا نے ان رپورٹس کو نمایاں کوریج دی جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایسی انٹیلی جنس معلومات فراہم کی ہیں جن کے مطابق ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

تاہم، اسرائیل کے درمیانی رجحان رکھنے والے چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام ان معلومات کو نہ تو فوری خطرہ سمجھ رہے تھے اور نہ ہی ان کی بنیاد پر فوری کارروائی کو ضروری قرار دے رہے تھے۔

’میں تو کافی عرصے سے اُن کی ہٹ لسٹ پر ہوں‘

اس سے قبل جمعے کو امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُنھوں نے ایرانی منصوبے کی کامیابی کی صورت میں ہدایات پہلے سے ہی دے رکھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ایران پر بمباری کر کے اسے تہس نہس کر دیا جائے۔

مبینہ اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کے ہاتھ کچھ نئی چیز نہیں آئی، میں کافی عرصے سے ایرانیوں کی ہٹ لسٹ پر ہوں اور یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ نے مذاق کے طور پر کہا کہ ’میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگ مجھے مس کریں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہدایات دے رکھی ہیں کہ اگر کچھ بھی ہوا، تو ان (ایران) پر ایسی شدید بمباری کی جائے جس کی مثال پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو۔‘

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے دوران بعض شرکا کی جانب سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف نعرہ بازی ہوتی رہی ہے۔

اس دوران خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں شامل بعض افراد کے ہاتھوں میں ایسے بینرز اور پوسٹرز بھی دیکھے گئے جن میں خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے مطالبات کیے گئے تھے، جبکہ کچھ پوسٹروں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو قتل کرنے کے بھی مطالبات کیے گئے تھے۔

اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ایران کے اندر سے صدر ٹرمپ سے انتقام لینے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

سنہ 2020 میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر نے ’انتقام‘ کا اعلان کیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے بعض کمانڈرز کی جانب سے بھی صدر ٹرمپ کا نام لے کر اُن سے انتقام لینے اور اُن کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی جاتی رہی ہے۔

28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایرانی حکام اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکہ اور صدر ٹرمپ کے خلاف سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایسی براہِ راست دھمکیاں، جن میں انھیں قتل کرنے کا ذکر ہو، سامنے نہیں آئیں۔

البتہ مارچ میں پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ایران کی نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کا یہ بیان رپورٹ کیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی کوشش جاری رکھیں گے۔

President of United States
Getty Images

مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات

امریکی صدر کی جانب سے ایران کو یہ دھمکی ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے اور فریقین ایک دوسرے پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد امریکہ نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہامریکی فوج نے ایرانی اہداف پر حملے کیے ہیں۔

جواباً ایران نے امریکہ پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ اس نے خطے میں امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ان حملوں کے بعد عمانی راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد ابتدا میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب بھی اس یادداشت پر قائم ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے تین امریکی عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ سنیچر تک عوامی سطح پر یہ اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلا ہے اور وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے ایسا اقدام کرنے سے انکار کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

مفاہمتی یادداشت کے ثالث امریکہ اور ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کر کے جنگ بندی برقرار رکھیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US