مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ خطے کے امن و سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
امریکی ادارے گلوبل کانفلکٹ ٹریکر کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے ملک بھر میں سخت قوانین کے تحت اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے، جبکہ القاعدہ جیسے شدت پسند گروہوں نے افغانستان کو دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور بیرون ملک بھیجنے کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی برقرار ہے، جبکہ خواتین مرد رشتہ دار کے بغیر سفر بھی نہیں کرسکتیں۔ اس کے علاوہ ملک میں دہشت گرد حملوں کے خدشات بھی بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت میں افغان خواتین بڑی حد تک عوامی زندگی سے باہر ہوچکی ہیں اور انہیں پرائمری تعلیم کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی اور انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے مختلف ممالک اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔