کراچی پولیس نے گزشتہ ماہ رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے منصوبہ ساز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار سے ہے۔

کراچی پولیس نے گزشتہ ماہ گلستانِ جوہر کے علاقے میں رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے منصوبہ ساز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار سے ہے۔
پاکستانی فوج نے تصدیق کی تھی کہ 27 جون کو کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، جو افغان شہری ہے۔
ابتدائی طور پر شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق منگل کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیاکہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور وہیں حملہ آوروں کو تربیتبھی دی گئی۔
پریس کانفرنس میں حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے جنان کا تعلق افغانستان کے صوبے فرح سے تھا۔ بلال نامی شدت پسند پیدا تو پاکستان میں باجوڑ کے علاقے میں ہوا لیکن اس کا تعلق قندھار سے تھا جبکہ عمر فاروق کنڑ سے تعلق رکھتا تھا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ زخمی حالت میں جس حملہ آور عثمان کو گرفتار کیا گیا وہ ننگرہار سے تعلق رکھتا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام افسر مہیسر نے بتایا کہ اس حملے کا منصوبہ ساز قاری بشیر تھا جس کا تعلق الاحرار گروپ سے ہے اور اسے افغانستان بلا کر یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔
ایس ایس پی عرفان بہار کا کہنا تھا کہ چاروں افغانی شدت پسند مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے۔
ان کے مطابق پہلے یہ چاروں افراد بلوچستان کے شہر حب پہنچے اور وہاں سے کراچی آئے جہاں قاری بشیر نے انھیں رہائش فراہم کی اور ضیا کالونی میں چمڑا چورنگی پر ٹھہرایا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ قاری بشیر اور اس کے 13 سہولت کاروں نے حملہ آوروں کو رینجرز کیمپ پہنچانے میں سہولت کاری کی اور انھیں کورنگی سے ٹیکسی کے ذریعے کے ٹی سی رینجرز کیمپ پہنچایا گیا۔
ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں سہولت کاری بھی افغان شہریوں نے کی ہے۔
ڈی آئی جی مہیسر کے مطابق الاحرار کا ماضی میں شہر سے خاتمہ کیا گیا تھا اور گروپ نے اس واقعے سے شہر میں دوبارہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ 27 جون کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
یہ واقعہ گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایاکہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔
رینجرز کا یہ کیمپ گلستان جوہر بلاک فائیو میں واقع ہے۔ اس کے بالکل سامنے محکمہ موسمیات کا دفتر اور تھوڑے فاصلے پر چمن اقبال کالونی نامی ایک آبادی واقع ہے، جبکہ اس کے قریب کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی واقع ہیں۔

’حملہ آور حفاظتی حصار توڑنے میں ناکام رہے‘
پاکستانی فوج کی جانب سے اس حملے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مذموم عزائم کو رینجرز کے دستوں کے چوکس اور پرعزم جواب سے ناکام بنا دیا گیا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جو اس کے مطابق ایک افغان شہری ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق اس حملے کے دوران چار سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے سی ای او ڈاکٹر عابد جلال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ رینجرز کے دفتر پر پہلے دستی بم پھینکا گیا، جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔
جائے وقوعہ پر موجود دو عینی شاہدین نے بی بی سی کے روحان احمد کو بتایا کہ دھماکے کے بعد علاقے میں مسلسل فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے رینجرز دفتر کی جانب جانے والے راستے سیل کر دیے تھے۔
ایک اور عینی شاہد کے مطابق اُنھوں نے علاقے میں ایمبولینس کی بڑی تعداد دیکھی جو زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی تھی۔
ایک ریسکیو اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ حملہ آوروں کا ہدف رینجرز کا دفتر ہی تھا۔
کراچی میں حالیہ برسوں شدت پسندوں کے کئی حملے ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں شہر کے ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے دو چینی شہری ہلاک اور دیگر 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ حملے کے اگلے مہینے نومبر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے اس حملے میں ملوث دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
اس سے قبل فروری 2023 میں شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس پر مسلح شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس اور رینجرز نے اس حملے کے دوران تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی، جس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

جماعت الاحرار کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2025 میں بی بی سی پشتو کے سید عبداللہ نظامی کو بتایا تھا کہ بعض غیر ملکی جنگجوؤں، جن میں پاکستانی طالبان کے مقامی دھڑے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند گروہ شامل ہیں، نے ایک اتحاد کے تحت اُن کے دھڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، جسے جماعت الاحرار کا نام دیا گیا۔
ان کے مطابق جماعت الاحرار کی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ تشکیل دی گئی تھی، جس نے باہمی ووٹنگ کے ذریعے عمر خالد خراسانی کو جماعت الاحرار کا سربراہ منتخب کیا تھا۔
احسان اللہ احسان کے مطابق بعد ازاں علامتی طور پر قیادت مولانا قاسم خراسانی المعروف 'ناظم' کے حوالے کی گئی، جو سوات کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کمانڈر ہیں۔ نومبر 2025 تک 'ناظم' جماعت الاحرار کے میڈیا اور مشاورتی امور میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
احسان اللہ احسان کے مطابق، حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جب سوات طالبان کے رہنما مولوی فضل اللہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت سنبھالی تھی، تو تنظیم کے اندر وسیع پیمانے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض مسلح کمانڈروں کی خواہش تھی کہ تنظیم کے اختیارات کے ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے اور افغان طالبان کی طرز پر ایک مضبوط شوریٰ قائم کی جائے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا جماعت الاحرار کا بنیادی مقصد 'پاکستانی حکومت کے خلاف پہلے سے جاری مسلح جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔'
احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب ہزاروں افراد نے اس گروہ میں ساتھ شمولیت اختیار کی تھی۔
بی بی سی پشتو کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس گروہ نے اپنی زیادہ تر توجہ مہمند ایجنسی اور اس کے ملحقہ علاقوں پر مرکوز رکھی کیونکہ اس کی قیادت کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔
مزید برآں، تحریک طالبان پاکستان کے متعدد اہم کمانڈرز بعدازاں جماعت الاحرار میں شامل ہوئے، جن میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مولوی صابر بھی شامل تھے۔
یہ تنظیم پاکستان میں کئی بڑے شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔