پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد خالد کے دو بھانجے محمد حسن اور عبدالقدیر اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے سینکڑوں میل دور بلوچستان کے علاقے ماشکیل گئے تھے۔ مگر وہ ان پانچ افراد میں شامل ہیں جو نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں مارے گئے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد خالد کے دو بھانجے محمد حسن اور عبدالقدیر اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے سینکڑوں میل دور بلوچستان کے علاقے ماشکیل گئے تھے۔ مگر وہ ان پانچ افراد میں شامل ہیں جو نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں مارے گئے۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں اتوار کے روز شدت پسندوں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں پانچ مزدوروں کی ہلاکت ہوئی تھی اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
خالد کا کہنا ہے کہ ’ایک ہی واقعے میں دو نوجوانوں کی ناگہانی موت ہمارے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابل برداشت صدمہ ہے۔‘
محمد حسن اور عبدالقدیر ماشکیل میں ہیئر کٹنگ سیلون سے روزی کما کر اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے تھے۔ بلوچستان کے ماشکیل جیسے دوردراز اور پسماندہ علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
سٹی پولیس سٹیشن ماشکیل کے ایس ایچ او محمد حمزہ نے بتایا کہ حملہ آور تین موٹر سائیکلوں پر آئے تھے جن کی تعداد چھ تھی۔ حملہ آوروں نے ’دکان پر فائرنگ کی جس میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پانچوں افراد مارے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے محکمۂ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کو درخواست دے دی گئی۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کی ’نشاندہی اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔‘
تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔
مارے جانے والے محمد حسن اور عبدالقدیر کون تھے
ماشکیل میں اتوار کے روز حملے میں مارے جانے والے محمد حسن اور عبدالقدیر رشتے میں کزنز تھے اور ان کا تعلق پنجاب کے علاقے پسرور سے تھا۔
محمد خالد نے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ محمد حسن کا تعلق پنجاب کے علاقے ہیبت پور سے تھا جبکہ عبدالقدیر بٹر پڈے کے رہائشی تھے۔
محمد خالد کے مطابق محمد حسن ان کا بھانجہ تھا جبکہ عبدالقدیر ان کی بیوی کے بھانجے ہونے کے علاوہ والد کی جانب سے بھی قریبی رشتہ دار تھے۔
انھوں نے بتایا کہ دونوں نوجوان بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے اپنے رشتہ داروں اور آبائی علاقے کو چھوڑ کر ماشکیل جیسے دوردراز علاقے میں گئے تاکہ اپنے خاندانوں کی کفالت کرسکیں مگر اب وہاں سے ان کی لاشیں گھر آرہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دونوں کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کی منگنی کی باتیں چل رہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ تین چار سال پہلے ماشکیل گئے تھے اور وہاں ماشکیل شہر کے اندر ہی ہیئر کٹنگ سیلون کھول دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمارے نوجوان ایسے المناک انجام سے دوچار ہوں گے اور وہاں سے ان کی لاشیں آئیں گی تو ہم غریبی برداشت کرتے مگر اپنے پیاروں کو وہاں نہیں جانے دیتے۔‘
’حملہ آوروں نے گولیاں چلانے سے پہلے دو مقامی افراد کو دکان سے نکال دیا‘
ماشکیل سے تعلق رکھنے والے صحافی نصیرکُبدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ شہر کے مرکزی علاقے میں ایک گلی میں پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت ہلاک ہونے والے پانچوں افراد ہیئر کٹنگ سیلون میں ہی تھے۔
دوسری جانب محمد خالد نے بتایا کہ ہیئر کٹنگ سیلون کے قرب و جوار کے لوگوں سے انھیں معلوم ہوا کہ حملہ آور دن کے وقت ایک ڈیڑھ بجے کے قریب ہیئر کٹنگ سیلون آئے۔
انھوں نے بتایا کہ جب حملہ آور دکان پر آئے تو اس وقت اس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کے علاوہ مجموعی طور پر سات افراد موجود تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے دو افراد مقامی تھے جو کہ حملے کے وقت حجامت کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔
محمد خالد کے مطابق ’عینی شاہدین نے ہمیں بتایا کہ مسلح افراد نے آتے ہی وہاں فائرنگ نہیں کی بلکہ پہلے دونوں مقامی افراد کو باہر نکال دیا جس کے بعد انھوں نے باقی لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں میرے بھانجوں سمیت پانچوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
مرنے والے باقی تین افراد کی شناخت رحیم یار خان کے بلال غنی، محمد بلال اور ناروال کے محسن رضا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
رحیم یار خان کے دو افراد جو ڈیوٹی پر نہ جا سکے مگر موت کے منھ میں چلے گئے
محمد خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد وقوع کے روز ناگزیر حالات کی وجہ سے اپنے کام پر نہیں جاسکے تھے۔
محمد خالد نے بتایا کہ ناروال سے تعلق رکھنے والے محسن رضا ان کے بھانجوں کے ساتھ شاگرد کی حیثیت سے کام کررہے تھے جبکہ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والا ایک مستری اور دوسرا مزدور تھا۔
انھوں نے بتایا کہ وقوعہ کے روز ماشکیل میں شدید آندھی اور طوفان چل رہا تھا جس کی وجہ سے کام کرنا مشکل تھا جس کے باعث رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے بلال غنی اور محمد بلال دونوں آکر میرے بھانجوں کی دکان پر بیٹھ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب مسلح افراد نے اندھادھند فائرنگ کی تو وہ دونوں بھی اس میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
’کسے پتا تھا سہرا سجانے سے پہلے وہ منوں مٹی تلے جا سوئے گا‘
20 سالہ محمد بلال کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی علاقہ فلڈ کالونی سے تھا اور وہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوری کرتے تھے۔
بلال کے بھائی محمد اصغر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’کسے معلوم تھا کہ پیسے کمانے کے لیے بلوچستان جا کر مزدوری کرنے والا بلال سہرا سجانے سے پہلے منوں مٹی تلے جا سوئے گا۔‘
محمد بلال کے بھائی اصغر نے بتایا کہ ’بلال ہمارا سب سے چھوٹا بھائی تھا جس کی ہم نے شادی بھی کرنی تھی۔ قریبی گاؤں کے ایک ٹھیکے دار نے جب کہا کہ وہ کچھ مزدوروں کو بلوچستان لے کر جا رہا ہے جہاں ان کو آٹھ سو روپے دیہاڑی ملے گی، تو بلال نے کہا کہ یہ اچھا موقع ہے، ایک تو مستقل کام بھی مل گیا اور دوسرا بلوچستان کا موسم بھی ٹھنڈا ہوتا ہے، تو کام کا مزہ آئے گا۔‘
محمد اشرف بتاتے ہیں کہ اتوار کی شام جب وہ گھر واپس آئے تو ان کے بیٹے نے گھبرائے ہوئے انھیں بتایا کہ ’محلے کے کچھ لوگ بتا رہے تھے کہ بلال بھائی اور دوسرے لوگوں پر فائرنگ ہوئی ہے اور وہ فوت ہوگئے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں فوری طور پر خانپور شہر کی طرف بھاگا تاکہ ٹھیکے دار کے گھر والوں سے پتا کر سکوں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’وہاں پہنچا تو کسی کے پاس کوئی مصدقہ خبر نہ تھی۔ کچھ ہی دیر میں مقتول بلال کے بھائی اصغر کو بلوچستان سے ایک سرکاری ملازم کی کال آ گئی کہ ہم آپ کے بھائی کی لاش لے کر آ رہے ہیں۔‘
محمد اشرف نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ’بلال کو بلوچستان گئے تقریبا 13 مہینے ہی ہوئے تھے اور سب کو یہی پتا تھا کہ وہ اپنی شادی کے لیے پیسے جمع کر رہا ہے۔ ہمارا یہی ارادہ تھا کہ جب چار، پانچ سال میں وہ اچھی خاصی رقم بنا لے گا تو اس کی شادی کر دیں گے۔‘
وہ سوال کرتے ہیں کہ بلال نے ’کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو چڑیا کو بھی نہیں مار سکتا تھا۔ وہ معصوم لڑکا تھا جو کہ اپنی شادی کا خواب لیے محنت مزدوری کرنے بلوچستان گیا تھا۔‘
’کال جاری تھی جب فائرنگ کی آواز آئی‘
بلوچستان کے علاقے واشک میں شدت پسندوں کی فائرنگ میں قتل ہونے والے 18 سالہ محسن رضا کا تعلق پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے غازیوال کالونی سے تھا۔
محسن کے ماموں محمد عمران نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ محسن اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
’وہ اپنے محنت کش باپ کا سہارا بننا چاہتا تھا، وہ کام سیکھنے کے لیے تین ہفتے پہلے ہی بلوچستان اپنے کزنز کے پاس گیا تھا تاکہ روزگار کمائے اور گھر کے حالات بدلیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا یہ اس کے کزن کی دکان نہیں تھی، بلکہ وہ ایک دوسری دکان پر گپ شپ کرنے کے لیے گیا تھا، جہاں اچانک دہشت گردوں نے حملہ کیا۔‘
عمران بتاتے ہیں کہ بلوچستان کی تحصیل ماشکیل میں ان کے کئی رشتہ دار رہتے ہیں جن کے ذاتی کام اور دکانیں ہیں۔ ’اسی وجہ سے ہم نے محسن کو وہاں بھجوایا تھا تاکہ اپنوں میں رہے گا تو کام سیکھ جائے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ حملے کے وقت محسن گھر والوں سے کال پر بات کر رہے تھے۔ ’کال جاری تھی کہ اس دوران فائرنگ کی آواز آئی اور یہ وہی فائرنگ تھی جس میں محسن مارا گیا تھا۔‘
’وہ کہتے تھے کہ بلوچستان میں جان کو خطرہ ہے‘
بستی جٹکی کے رہائشی عبدالغنی کے بیٹے 40 سالہ بلال غنی بھی اسی واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ وہ گذشتہ 14، 15 برسوں سے بلوچستان میں محنت مزدوری کر رہے تھے جہاں ماشکیل کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں بلال ایک سال سے مزدوری کر رہا تھا۔
عبدالغنی بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا نائی کی دکان پر شیو کروا رہا تھا جب ان پر حملہ ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'بلال تین، چار مہینوں سے کہہ رہا تھا کہ اب یہاں (بلوچستان کے) حالات ٹھیک نہیں اور پنجابیوں کی جان کو خطرہ رہتا ہے تو اس نے اپنے ٹھیکے دار کو کہہ رکھا تھا کہ وہ پنجاب واپس جانا چاہتا ہے اس لیے اس کا حساب کتاب کلیئر کر دیا جائے اور اس کی مزدوری کی رقم ادا کردی جائے۔
’اگر بلال کو بروقت اس کی مزدوری کے بقایا جات مل جاتے تو اس نے واپس آ جانا تھا۔‘
ماشکیل میں اس نوعیت کا پہلا واقعہ
پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے بعد سے بلوچستان کے متعدد علاقے سنگین بدامنی کے واقعات کے لپیٹ میں آئے اور ان میں ٹارگٹ کلنگ کا بھی سلسلہ شروع ہوا۔
ٹارگٹڈ کلنگ کا سلسلہ ابتدا میں لسانی بنیادوں پر شروع ہوا تاہم چند سال بعد فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی۔
مذہبی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہیں جبکہ لسانی بنیادوں پر ایسے واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند قبول کرتی رہیں۔
ماشکیل میں ماضی میں فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل کے چند ایک واقعات رپورٹ ہوئے لیکن نصیر کُبدانی کے مطابق ماشکیل میں ماضی میں لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور یہ شہر میں لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ ہے۔
ماشکیل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے 7 سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
یہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع واشک کی ایک تحصیل ہے جبکہ ماشکیل شہر کا ایرانی سرحد سے فاصلہ صرف 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
صحرائی اور ریگستانی علاقے پر مشتمل ماشکیل کا شمار بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے جبکہ ریگستان کی وجہ سے ماشکیل میں ہر وقت گردوغبار اڑتی رہتی ہے۔
اس علاقے کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ ماشکیل میں کھجور کے درخت بھی بڑی تعداد میں ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ایرانی سرحد سے جڑا کاروبار ہے۔
اس سرحدی علاقے کا دوسرے علاقوں سے رابطے کے لیے کوئی پختہ سڑک بھِی نہیں ہے جس کی وجہ سے آمدورفت میں بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ماشکیل میں پیش آنے والے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ افراد صرف پنجابی مزدور نہیں تھے بلکہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے اپنے بھائی تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔