بالا کوٹ کے رہائشی ماسٹر شفیق الرحمان نے سنہ 2005 میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں اپنے خاندان کے آٹھ افراد کو کھو دیا تھا۔
بالاکوٹ کے رہائشی ماسٹر شفیق الرحمان نے سنہ 2005 میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والے ہولناک زلزلے میں اپنے خاندان کے آٹھ افراد کو کھو دیا تھا۔
ان میں سے سات افراد کی لاشیں تو مل گئی تھیں لیکن انھیں اپنے پانچ سالہ بیٹے کی غائبانہ نماز جنازہ ہی ادا کرنا پڑی تھی کیونکہ بہت کوششوں کے بعد بھی انھیں ان کی لاش نہیں ملی تھی۔
لیکن 21 برس بعد آخر کار ان کے دل کو قرار اس وقت آیا جب 13 جولائی کو معجزاتی طور پر گھر میں تعمیرات کے دوران ان کے بیٹے کی باقیات ملیں۔
ماسٹر شفیق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہمیں گھر میں کچھ کمرے بنانے تھے اور مزدور پِلر کی تعمیر کے لیے مشینوں سے کھدائی کر رہے تھے۔‘
’اتنے میں ہمیں بچے کے کپڑے نظر آئے تو ہم نے کام روک دیا اور تھوڑی تلاش کے بعد ہمیں بچے کی باقیات بھی مل گئیں۔‘
ماسٹر شفیق بتاتے ہیں کہ 21 برس قبل ان کے بچے کی عمر صرف پانچ برس تھی۔ ان کے مطابق انھیں اب صرف بچے کی ہڈیاں ملی ہیں۔ تاہم ان کے کپڑے اور جوتے درست حالت میں تھے۔
’اہلخانہ اللہ کی امانت تھے‘
ماسٹر شفیق اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کی لاش ملنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آئے لیکن ساتھ ہی ان کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر بھی پھر تازہ ہو گیا جب ان کے علاقے میں ایک قیامت برپا ہوئی تھی۔
پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والا 7.6 شدت کا زلزلہ ملک کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
اس زلزلے کے نتیجے میں 35 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھےاس زلزلے کے سبب ملک بھر میں 73 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ تقریباً 70 ہزار افراد زخمی اور کوئی 35 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔
اس زلزلے میں سب سے زیادہ تباہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا کے علاقوں بالاکوٹ، مانسہرہ، بٹگرام اور شانگلہ جیسے علاقوں میں ہوئی تھی، جہاں پورے کے پورے گاؤں اور قصبے چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔
بالاکوٹ اس سانحے کا مرکز تھا کیونکہ یہ فالٹ لائن کے قریب واقع ہے۔
ماسٹر شفیق کہتے ہیں کہ جب زلزلہ آیا تو ان کا سات سالہ بڑا بیٹا سکول میں تھا اور وہ ادھر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ جبکہ پانچ سالہ جمال گھر پر ہی تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ بچے کی باقیات ملنے پر خدا کے شکر گزار ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ زلزلے میں ان کے گھرانے کے آٹھ افراد کی جانیں چلی گئی تھیں۔ اس میں ان کے دو بیٹے، اہلیہ، والدہ اور بھائی شامل تھے۔
وہ اپنے بیٹے جمال کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اللہ کی امانت تھے اور اس نے ہم سے یہ امانت واپس لے لی۔ لیکن ہم اس کرب سے نکل آئے ہیں کہ اس کی لاش نہیں ملی تھی۔‘
جمال شفیق کی نماز جنازہ کے بعد ان کی باقاعدہ تدفین کر دی گئی ہے۔
جب ماسٹر شفیق سے پوچھا گیا کہ جب زلزلے کے بعد ملبہ ہٹایا جا رہا تھا تو ان کے بیٹے کی لاش کیوں نہ مل سکی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’زلزلے کے بعد ہم نے بھرپور کوشش کی تھی، کئی دنوں تک تلاش کا کام جاری رہا۔
’ملبہ ہٹایا جا رہا تھا لیکن جمال کا کچھ پتا نہیں چلا۔ کافی کوششوں کے بعد پھر ہم امید کھو بیٹھے تھے۔‘
جمال کی لاش ملنے سے جہاں ان کے والد کا غم ہلکا ہوا ہے، وہیں علاقہ مکینوں کو ایک بار پھر اس ہولناک زلزلے کی یادوں نے جکڑ لیا ہے۔
مقامی صحافی ذوالفقار علی پیر کو ماسٹر شفیق کے گھر پر موجود تھے جب پانچ سالہ جمال کی باقیات نکالی جا رہی تھیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ماسٹر شفیق کے ’مکان کی تعمیر کا کام جاری تھا، پلر کی کھدائی کا کام ہو رہا تھا اور اچانک بچے کی باقیات مل گئیں۔‘
’علاقے میں 21 سال پہلے آئے زلزلے کا غم تازہ ہوگیا۔ وہ منظر پھر سب کی آنکھوں کے سامنے آ گیا، جب شدید زلزلے کے بعد ہر گھر سے لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔‘