وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری جامعات میں پروفیسرز کی تقرریوں سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کی اپیل منظور کر لی اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
18 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس کے کے آغا نے تحریر کیا، جس میں یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کی سفارشات اور سینڈیکیٹ کے فیصلے کو بحال کر دیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار صرف اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب کسی قانونی یا لازمی ضابطے کی واضح خلاف ورزی ثابت ہو۔ فیصلے کے مطابق محض جانبداری کے الزامات یا دعوؤں کی بنیاد پر انتخابی عمل کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ تقرریوں کا عمل قانون کے منافی تھا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سلیکشن بورڈ امیدواروں کی اہلیت، تعلیمی ریکارڈ اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مجاز ادارہ ہے، اور واضح قانونی خلاف ورزی ثابت نہ ہونے کی صورت میں عدلیہ کو انتظامی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کامیاب امیدواروں کے خلاف کسی غیر قانونی اقدام کا کوئی ثبوت موجود نہیں جبکہ ہر ناکام امیدوار کے اعتراض پر عدالتی مداخلت سے جامعات کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی عدالتیں جامعات کے انتظامی فیصلوں کے خلاف اپیل سننے والا فورم نہیں بن سکتیں۔
آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ہر سروس سے متعلق تنازع آئینی درخواست کے ذریعے قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔