شدید گرمی میں پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اکثر لوگ ٹھنڈے مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مخصوص حالات میں گرم چائے بھی جسم کو گرمی برداشت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرم مشروبات خون کی نالیوں کو پھیلا دیتے ہیں، جس سے جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کے عمل میں مدد ملتی ہےشدید گرمی میں پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اکثر لوگ ٹھنڈے مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مخصوص حالات میں گرم چائے بھی جسم کو گرمی برداشت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرم مشروبات خون کی نالیوں کو پھیلا دیتے ہیں، جس سے جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنے کے عمل میں مدد ملتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کھلی فضا یا ایسی جگہ موجود ہوں جہاں ہوا چل رہی ہو اور ماحول بند کمرے کے نسبت بہتر ہو تو ایسے میں گرم چائے پینا فائدہ مند ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے پسینہ زیادہ آتا ہے اور جسم قدرتی طور پر ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جسم کا قدرتی نظام حرارت کو خارج کرنے کا کام کرتا ہے، اس لیے بعض اوقات شدید گرمی میں ٹھنڈے لیموں پانی کی بجائے گرم چائے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
البتہ اگر آپ بند کمرے یا ایسی جگہ موجود ہوں جو ہوا دار نہیں تو پھر ایسے میں گرم چائے پینے کے بجائے ٹھنڈے مشروبات کا استعمال زیادہ مناسب ہے۔

گرمی میں گرم چائے، ٹھنڈے پانی سے بہتر کیوں سمجھی جاتی ہے؟
شدید گرمی میں اکثر لوگ زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پیاس جلد ختم نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کو صرف پانی ہی نہیں بلکہ اپنے درجہ حرارت کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں خود کو ٹھنڈا رکھنے کا ایک قدرتی نظام موجود ہے، جو زیادہ گرمی محسوس ہونے پر پسینہ پیدا کرتا ہے۔ پسینہ بخارات بن کر اڑتا ہے تو جسم کا درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے۔
اسی لیے اگر گرم موسم میں گرم چائے پی جائے تو جسم زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے، جس سے جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا ہونے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم اس کا فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب آپ کھلی فضا یا ایسی جگہ موجود ہوں جو ہوا دار ہو یا جہاں ہوا کی مناسب آمدورفت ہو، کیونکہ ہوا پسینے کو خشک کرکے جسم کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ بند کمرے یا ایسی جگہ موجود ہوں جہاں ہوا نہ چل رہی ہو تو گرم چائے پینے سے گرمی کا احساس مزید بڑھ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کھلی یا ہوادار جگہ پر گرم مشروبات پینے سے خون کی نالیاں پھیلتی ہیں، جسم اضافی حرارت خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیاس کا احساس بھی ٹھنڈا پانی پینے کے مقابلے میں کم ہو سکتا ہے۔
ٹھنڈے مشروبات کا جسم پر کیا اثر ہوتا ہے؟
گرمی کے موسم میں اکثر لوگ ایسے جوس یا مشروبات پینا پسند کرتے ہیں کہ جن میں یا تو برف کی خاصی مقدار ڈلی ہو یا وہ پہلے سے ٹھنڈے ہوں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مشروبات جسم کو ٹھنڈا کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے اور اگر ان کا اثر ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کم وقت کے لیے ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ٹھنڈا مشروب جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسمانی درجہ حرارت میں وقتی طور پر معمولی کمی آتی ہے اور پسینہ بھی کچھ کم ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ جسم کی اضافی حرارت خارج نہیں ہو پاتی، اس لیے یہ اثر جلد ختم ہو جاتا ہے اور پیاس دوبارہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمیوں میں ٹھنڈے مشروبات اس وقت زیادہ مفید ہوتے ہیں جب آپ بند کمرے میں موجود ہوں اور موسم انتہائی گرم اور مرطوب ہو۔ ایسی صورت میں یہ جسم کو ضرورت سے زیادہ گرم ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں زیادہ پسینہ آنے سے جسم سے پانی کی بڑی مقدار خارج ہو جاتی ہے، جس کے باعث تھکن محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے جسم کو درست طریقے سے کام کرنے کے لیے مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین روزانہ تقریباً دو لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور جسمانی نظام بہتر انداز میں کام کرتا رہے۔

البتہ جو لوگ زیادہ پانی پینا پسند نہیں کرتے، وہ جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے دیگر صحت بخش مشروبات یا پانی سے بھرپور غذاؤں کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
جن میں:
- گھر میں تیار کیا گیا لیموں پانی
- ناریل کا پانی
- سبزیوں اور پھلوں کے جوس
- کم چکنائی والا دودھ
- ٹھنڈی یا گرم چائے
- ہربل چائے
ماہرین کا مشورہ ہے کہ شدید گرمی میں کاربونیٹڈ مشروبات یعنی سافٹ ڈرنکس سے مکمل پرہیز کیا جائے، کیونکہ ان میں شکر اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ایسے مشروبات عمومی طور پر صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتے بلکہ ان کا زیادہ مقدار میں استعمال آپ کو ان کا عادی بنا سکتا ہے، جو گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

شدید گرمی جسم پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟
ماہرین کے مطابق جب جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تو خون کی نالیاں پھیلنے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے اور دل کو پورے جسم میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
اس سب کے دوران بعض اوقات جلد پر گرمی دانے نکلنا یا پاؤں میں سوجن ہونے لگتی ہے۔
شدید گرمی کے دوران زیادہ پسینہ آنے سے جسم سے پانی اور نمکیات خارج ہونے لگتے ہیں، جس سے جسم میں پانی اور نمک کا توازن متاثر ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم بلڈ پریشر کے ساتھ یہ صورتحال ہیٹ ایکزاسشن یعنی گرمی سے تھکن کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی علامات میں:
- چکر آنا
- متلی محسوس ہونا
- الجھن یا سوچنے سمجھنے میں دشواری
- پٹھوں میں درد یا کھنچاؤ
- سر درد
- بہت زیادہ پسینہ آنا
- اور تھکن اور کمزوری محسوس ہونا بھی شامل ہے