ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہوں، کیونکہ پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ 8 جولائی کو ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ کسی نئے تنازع سے کسی بھی فریق کا فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کا حل مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر فریم ورک ہے۔ اگرچہ اس پر عمل درآمد کو بعض مشکلات کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد کے خاتمے اور 22 جون 2026 کے پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال سے بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان نے آبنائے ہرمز میں جلد معمول کی صورتحال بحال ہونے اور سمندری آمدورفت کی آزادی اور سلامتی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ کشیدہ حالات کے دوران پاکستان نے خطے کے اہم ممالک سے مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے۔ 10 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا، قطر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور تمام فریقوں پر تحمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے امن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور سفارتی رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ امیرِ قطر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
اسی روز وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں علاقائی امن و استحکام، کشیدگی میں کمی اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی صدر نے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ 12 جولائی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جبکہ 13 جولائی کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی صورتحال، تحمل، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ قطر گئے، جہاں انہوں نے امیرِ قطر سے ان کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر تعزیت کی۔
ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے 6 سے 9 جولائی تک کرغزستان کا سرکاری دورہ کیا، جو گزشتہ 21 برسوں میں کسی پاکستانی صدر کا وسطی ایشیائی ملک کا پہلا دورہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج شنگھائی روانہ ہوئے ہیں، جہاں وہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کے معاہدے پر پاکستان کی جانب سے بانی رکن کے طور پر دستخط کریں گے اور عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ 9 جولائی کو کروشیا کے وزیر خارجہ گورڈن گرلیچ ریڈمین نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت، ثقافتی تبادلوں، دفاعی تعاون اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 12 اور 13 جولائی کو اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن 57 ممالک کے نمائندوں نے خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس میں شرکت کی، جس میں خواتین کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی بااختیار بنانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ سیاسی مشاورت کا اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 30 جون 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 پر عمل درآمد سے متعلق اپنی ساتویں قومی رپورٹ اقوام متحدہ کی 1540 کمیٹی کو جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ میں جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام، سرحدی نگرانی، برآمدی کنٹرول، قومی قانون سازی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق پاکستان کی پیش رفت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔