متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک قومی رہنما کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے کس بیان کو دشمن ملک سرخی بنا رہا ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اس سلسلے میں وضاحت پیش کریں گے۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جمہوری ملک میں سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ہر نقطۂ نظر کو بیان کرنے کی ایک حد ہوتی ہے تاکہ اس سے قومی بیانیہ متاثر نہ ہو۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور ایسا بیانیہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے جو قومی بیانیے کی نفی کرتا ہو یا جس سے دشمن کو خوش ہونے کا موقع ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خطے میں بڑھتی ہوئی آگ کو افواجِ پاکستان کی کوششوں سے روکا گیا ہے، اور ملک کو حاصل ہونے والے موجودہ عزت و وقار کو ایسے بیانات سے سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی گئی اور وہ ہمیشہ پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔