چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ اس نوعیت کے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا مقصد چین کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے دعوے کیے گئے، مگر وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔
ترجمان کے مطابق چین ہمیشہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرتا ہے اور اسے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
یہ ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2020 کے صدارتی انتخابی عمل کے آغاز سے چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کیا، جسے انہوں نے انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیٹا خلاف ورزی قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی مداخلت اور انتخابی نظام کی کمزوریوں سے متعلق خفیہ معلومات کو عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔
چینی ترجمان نے امریکی موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتوں، کاروباری اداروں اور شہریوں کی نگرانی اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا ریکارڈ کس ملک کے پاس ہے، یہ سب کے سامنے ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا میں رواں برس نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی بیانات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنما انتخابی مہم کے دوران خارجہ پالیسی، قومی سلامتی اور غیر ملکی مداخلت جیسے موضوعات کو نمایاں کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی پالیسیوں، ایران سے متعلق تنازع اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث عوامی حمایت میں آنے والی کمی بھی سیاسی بحث کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔