یہ اڈہ الازرق کے علاقے میں واقع ہے، جو دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کا محلِ وقوع اردنی فضائیہ کو اردنی فضائی حدود اور مشرقی و شمالی سرحدوں کے وسیع علاقوں کی نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
2024 میں اردن کے علاقے الازرق میں ایک فوجی مقام پر تربیتی مشقیں’الشهید موفق السلطی‘ فضائی اڈہ، جو ’الازرق ایئر بیس‘ کے نام سے بھی مشہور ہے، اردن کی اہم ترین فوجی تنصیبات میں سے ایک ہے۔ یہ رائل اردن ایئر فورس کا ایک اہم مرکز ہے اور حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اس کی علاقائی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
خطے میں فوجی کشیدگی کے دوران یہ اڈہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہا، جب بین الاقوامی رپورٹس میں اشارہ کیا گیا کہ اسے اردن، امریکہ اور بین الاقوامی اتحاد کے درمیان فوجی تعاون کے انتظامات کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اردن کے حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ محض اردن کی رائل ایئر فورس کا ایک اڈہ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد اردن میں دو امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور ایک لاپتہ ہو گیا ہے۔
سینٹکام نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں فوجی جمعے کو اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائیاں امریکی افواج نے ’شراکت دار افواج‘ کے تعاون سے ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انجام دی تھیں، جبکہ ایک فوجی اہلکار اب بھی لاپتہ ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے ایک حملہ کیا جس میں اردن کے الازرق اڈے میں ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نے اڈے میں طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا۔
صحرا کے قلب میں ایک سٹریٹجک مقام
یہ اڈہ الازرق کے علاقے میں واقع ہے، جو دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کا محلِ وقوع اردنی فضائیہ کو اردنی فضائی حدود اور مشرقی و شمالی سرحدوں کے وسیع علاقوں کی نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
تاریخ کی جانب رجوع کریں تو اس اڈے کی ابتدا 1918 میں ہوئی، جب تھامس ایڈورڈ لارنس نے قلعہ الازرق کو ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا۔
شمالی جانب موجود مٹیلے میدان اس دور میں طیاروں کے لیے موزوں لینڈنگ گراؤنڈ تھے، جو عرب بغاوت کے دوران شمال کی جانب درعا کی سمت پیش قدمی کرنے والے دستے کی معاونت کر رہے تھے۔
یہ علاقہ بہترین حدِ نگاہ اور پرواز کے لیے موزوں موسم کی وجہ سے نمایاں تھا۔
اس اڈے کا باضابطہ افتتاح اردن کے مرحوم شاہ حسین بن طلال نے 24 مئی 1981 کو کیا تھا اور اسے لیفٹیننٹ موفق السلطي کی یاد میں یہ نام دیا گیا، جو 13 نومبر 1966 کو اسرائیلی افواج کے ساتھ ایک فضائی معرکے میں ہلاک ہوئے تھے۔
مملکت کا سب سے بڑا فضائی اڈہ
رائل اردنین ایئر فورس کے مطابق موفق السلطي اڈہ رقبے کے لحاظ سے اردن کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔ یہ تقریباً 35 کلومیٹر تک محیط ہے اور اس میں جنگی سکواڈرنز، دیکھ بھال کی تنصیبات، تکنیکی معاونت اور فضائی دفاعی سہولتیں شامل ہیں۔
اس اڈے پر رائل اردنین ایئر فورس کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن بھی موجود ہیں، جو 1990 کی دہائی کے اواخر سے بتدریج ’میراج‘ طیاروں کی جگہ لینے کے بعد اردن کی فضائی قوت کی بنیاد بن گئے ہیں۔
اڈے کی اہمیت صرف طیاروں کی آپریشنل سرگرمیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایف-16 طیاروں کی دیکھ بھال اور اپ گریڈ کے لیے خصوصی تنصیبات بھی موجود ہیں۔
یہ اڈہ الازرق کے علاقے میں واقع ہے، جو دارالحکومت عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں ہےرائل اردنین ایئر فورس کا کہنا ہے کہ اڈے کی دیکھ بھال کرنے والی یونٹس امریکی صنعت کار کمپنی اور تکنیکی اداروں کے تعاون سے پیچیدہ مرمت اور فنی اپ گریڈ انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے طیاروں کی عملی عمر میں اضافہ اور ان کی تیاری برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں میں کردار
نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شدت آنے کے ساتھ اس اڈے کو بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی، کیونکہ مغربی رپورٹس میں اشارہ کیا گیا کہ اس وقت بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے ضمن میں اسے امریکی افواج استعمال کرتی رہی ہیں۔
موفق السلطي اڈہ ان فوجی مقامات میں شامل ہے جہاں اردن اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کے انتظامات کے تحت امریکی موجودگی پائی جاتی ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اردن میں امریکہ اور مملکت کے درمیان عسکری تعاون کے معاہدے کے تحت امریکی فوجی موجود ہیں۔
دفاعی رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ نے گذشتہ برسوں کے دوران اس اڈے کو فضائی یونٹس اور عملے والے اور بغیر عملے کے طیاروں کی میزبانی کے لیے استعمال کیا ہے۔
اس وقت امریکہ نے اڈے کے اندر موجود تمام افواج یا سازوسامان کی نوعیت کی تفصیلی معلومات جاری نہیں کی تھیں اور کشیدگی والے علاقوں میں سرگرم فوجی اڈوں کے حوالے سے یہ ایک عام بات ہے۔
اسی تناظر میں مختلف مواقع پر خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے شائع کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں علاقائی کشیدگی کے دوران اڈے میں فوجی طیاروں کی تعداد میں اضافے کا عندیہ ملا، تاہم اس نقل و حرکت کی نوعیت کے بارے میں اردن کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا۔