ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار سے جب آن کمیرہ بات چیت کی تو انھوں نے بات چیت کرنے سے پہلے ہی یہ کہہ دیا کہ ’آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔‘آف کمیرہ لوگوں سے بات کریں تو وہ اپنی جماعت کے امیدواروں کو سپورٹ ضرور کرتے ہیں لیکن جب انھیں کہا جائے کہ وہ کمیرے کے سامنے آکر بات کریں تو وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شیڈول کے مطابق 27 جولائی کو ہونے جارہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے ان انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوراوں کی حتمی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے لیکن ابھی بھی وہاں کے بہت سارے حلقوں میں غیر یقینی کی سی صورت حال ہے۔
کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے دورے کے دوران بی بی سی نے یہ دیکھا کہ لوگ نہ تو اپنے امیدوار کی کھل کر حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی کلعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے گئے دھرنے اور احتجاج کی مخالفت کرتے ہیں۔
آف کمیرہ لوگوں سے بات کریں تو وہ اپنی جماعت کے امیدواروں کو سپورٹ ضرور کرتے ہیں لیکن جب انھیں کہا جائے کہ وہ کمیرے کے سامنے آکر بات کریں تو وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں۔
لوگوں کی اکثریت کی عدم دلچسپی اور کھل کر حمایت نہ ہونے کی وجہ سے امیدوار گھروں کے ڈرائنگ روم جیسی چھوٹی جگہوں پر اپنی انتخابی مہم چلانے پر مجبور ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں کہ جب خطے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارنگ کے اعلان کے پیش نظر خطے کی حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت سے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری طلب کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 27 جولائی کے انتخابات میں 45 حلقوں سے 852 امیدوار حصہ لیں گے۔ 24 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں کو بھی نشان الاٹ ہو چکے ہیں جبکہ ووٹرز کی کل تعداد 23 لاکھ 50 ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔
مگر اِن 45 حلقوں میں سے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 حلقے ایسے ہیں جن کی مخالفت کالعدم ہونے والے گروہ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کی جاتی ہے۔ یہ اِن مطالبات میں شامل ہے جس کے حق میں اس نے 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس صورت حال میں سیاسی جماعتوں کے امیدوار پاکستان میں موجود اپنی مرکزی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں آئیں اور جلسے کر کے انھیں ’سیاسی طور پر ریسکیو‘ کریں۔
مظفر آباد میں قانون ساز اسمبلی کے پانچ حلقے ہیں۔ ہمیں ان میں سے کچھ انتخابی حلقوں میں الیکشن مہم کو کور کرنے اور لوگوں سے گفتگو کرنے کا بھی موقع ملا۔
جس امیدوار سے بھی یہ پوچھا گیا کہ یہاں کے حالات اس نہج پر کیوں پہنچے تو کوئی بھی امیدوار اس پر بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔

ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار سے جب آن کمیرہ بات چیت کی تو انھوں نے بات چیت کرنے سے پہلے ہی یہ کہہ دیا کہ ’آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔‘
ایسی ہی صورت حال ایک اور بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی تھی جن کا کہنا تھا کہ صرف الیکشن اور ان کی جماعت کے منشور تک ہی اپنے سوالات کو محدود رکھا جائے۔
اس الیکشن مہم کے دوران جب ایک امیدوار کسی کے گھر کے صحن میں اپنی انتخابی مہم کے دوران دو درجن سے زائد اپنے سپورٹرز سے خطاب کر رہے تھے اور اسی دوران دو افراد آپس میں اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے نظر آئے۔
ان کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دونوں باپ بیٹا تھے اور بیٹا اپنے باپ سے اس معاملے پر گفتگو کر رہا تھا کہ انھوں نے اپنے پسندیدہ امیدوار کی کارنر میٹنگ اپنے گھر میں کیوں رکھی ہے؟
کیونکہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں وہاں پر لوگ کسی امیدوار کو سپورٹ نہیں کر رہے۔
بیٹے نے اپنا باپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اعلان کے بعد اس کا گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو علاقے کے لوگ اسے سرعام ’سہولت کار‘ کہہ کر بلا رہے ہیں تاہم وہاں پر موجود افراد نے یہ معاملہ رفع دفع کروادیا۔

’ایک جانب آگ ہے اور دوسری جانب کھائی‘
مظفر آباد میں پلوں، سڑکوں اور اس کے گردنواح میں مختلف امیدواروں کے بینرز وغیرہ تو نظر آئیں گے لیکن ابھی تک بہت کم لوگ کھل کر اپنے امیدوار کو سپورٹ کرتے ہوئے نظر آئے۔
مظفر آباد شہر کی مارکیٹوں کے دورے کے دوران بی بی سی نے متعدد لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی اور ان میں سے اکثریت الیکشن کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں تھی۔
تاہم کچھ افراد کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر کھل کر بات اس لیے نہیں کرسکتے کہ اگر وہ الیکشن اور اس میں حصہ لینے والے اپنے کسی امیدوار کے حق میں بیان دیتے ہیں تو عوامی ایکشن کمیٹی والے انھیں ’سہولت کار‘ کا نام دے دیتے ہیں اور اگر وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے اہلکار انھیں تنگ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ زبانی جمع خرچ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے کو اچھالا جاتا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں انٹرنیٹ بند ہے اور مظفر آباد اور اس کے گردنواح کے لوگ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ جا کر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
ان لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اس وقت حالات ایسے ہیں کہ ’ایک طرف آگ ہے اور دوسری جانب کھائی ہے۔‘
نوجوانوں پر مشتمل ’معقول ٹیمیں‘

مظفر آباد میں کہیں کہیں لوگ گاڑیوں کے پیچھے اپنے امیدوار کے پوسٹرز جسپاں کرواتے ہوئے بھی نظر آئے لیکن شہر میں ایسے لوگ بہت ہی کم نظر آئے جنھوں نے اپنے کپڑوں پر اپنے امیدواروں کے بیجرز لگائے تھے۔
اس انتخابی مہم کے دوران کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جس میں امیدواروں کی نہ صرف گاڑیوں اور دیگر اشیا کو نذر آتش کیا گیا بلکہ کچھ امیدواروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان واقعات کا تمام تر الزام عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد کردیتے ہیں۔
کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی اپنے کارکنوں سمیت راولاکوٹ کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اس تنظیم کی قیادت کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے مطالبات کے حل کے لیے مقامی حکومت کو 21 جولائی تک کی مہلت دے رکھی ہے اور اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ مظفر آباد کی جانب دوبارہ مارچ کرنے کی کال دیں گے۔
چند ہفتے پہلے دھیر کوٹ سے گرفتار ہونے والے اس تنظیم کے اہم رہنما شوکت نواز میر کا گھر بھی مظفر آباد میں ہے۔
بی بی سی نے اس علاقے کا دورہ کیا اور وہاں پر کچھ لوگوں سے بات چیت کی جن میں کچھ سرکاری ملازمین بھی شامل تھے۔ ان افراد کی گفتگو سے یہ تاثر ملا کہ وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
گفتگو کے دوران انھوں نے متعدد بار کہا کہ جس جگہ سے شوکت نواز میر کو گرفتار کیا گیا ہے اگر وہاں پر معقول ٹیمیں ہوتیں تو وہ گرفتار نہیں ہوسکتے تھے۔
’معقول ٹیمیں‘ کے الفاظ سے پہلے پہل میں نے یہ سمجھا کہ شاید یہ ٹیمیں ان افراد پر مشتمل ہوں گی جو کہ اپنی فہم و فراست سے معاملے کو حل کرنے کے لیے متعقلہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
لیکن جب گفتگو میں ان الفاظ کا بہت زیادہ استعمال ہوا تو ہم نے پوچھا کہ معقول ٹیموں سے کیا مراد ہے تو ہمیں بتایا گیا کہ یہ ٹیمیں ایسے نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو اپنی قیادت کی حفاظت کرنے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔
یاد رہے کہ معقول ٹیموں کی ٹرم سوشل میڈیا پر بھی چل رہی ہے۔
گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ کشمیر چونکہ زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اور معقول ٹیموں میں شامل افراد کو ایسے تمام خفیہ راستوں اور ٹھکانوں کا علم ہوتا ہے جس کے بارے میں شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی نہ جانتے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ہر علاقے کی الگ الگ معقول ٹیمیں ہوتی ہیں اور راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شامل افراد کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان ’معقول ٹیموں‘ کے پاس ہے۔
15 مارچ کو عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے تاہم لانگ مارچ 21 جولائی تک ملتوی کرنے کے بعد ان خواتین اور بچوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔
’سہولت کار، سہولت کار‘ کے نعرے
ایک شخص (جنھوں نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی) کا کہنا تھا کہ اگر وہ اکیلے ہوتے تو اس صورت حال کے بارے میں ضرور بیان دیتے کہ کون حق پر ہے اور کون غلط ہے لیکن انھیں اپنے سے زیادہ یہ فکر ہے کہ کہیں ان کے ایک بیان سے اس کے بیوی بچے کسی مشکل میں نہ پڑ جائیں۔
ایک امیدوار کی جب چند گاڑیوں پر مشتمل ایک ریلی جب سڑک سے گزرہی تھی تو سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے چند نوجوان اونچی آواز میں ’سہولت کار، سہولت کار‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، کی قیادت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کچھ متحرک ضرور ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پر الیکشن کا ماحول نظر نہیں آرہا۔
کچھ لوگوں کا خال ہے کہ شاید یہاں ابھی الیکشن نہ ہوں اور معاملات کے حل ہونے تک کوئی عبوری سیٹ اپ قائم کردیا جائے گا تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

مظفر آباد کے ترقیاتی ادارے کے سابق سربراہ زاہد امین بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں اگر الیکشن کروا بھی دیے جاییں تو ’ان کی کوئی حیثیت (کریڈیبیلٹی) نہیں ہوگی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بہت سے ریٹائرڈ کشمیری بیوورکریٹس اور فوجی جنرلز اس وقت بھی پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے قریب تصور کیے جاتے ہیں اور یہ افراد معاملات کے حل کے لیے اپنے تئیں کوششیں کر رہے ہیں۔‘
زاہد امین کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق ’پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں عبوری سیٹ اپ کے آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے اور یہ سیٹ اپ اس وقت تک کام کرے گا جب تک معاملات حل ہوکر حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔‘
سیاستدانوں کی جلسہ کیے بغیر اسلام آباد واپسی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی 12 سیٹوں سمیت دیگر معاملات کے حل کے لیے ’ٹروتھ ری کنسلیش کمیشن‘ بنانے کی تجویز تو ضرور دی ہے لیکن اب وہ انتخابات کو ملتوی کرنے کی بات نہیں کر رہے۔
بلاول بھٹو زرداری دو روز تک مظفر آباد میں رہے اور وہیں پر ایک ہوٹل میں انھوں نے اپنی جماعت کے امیدواروں سے ملاقاتیں کیں اور اس کے بعد وہ کوئی جلسہ کیے بغیراسلام آباد روانہ ہوگئے۔
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ 22 جولائی کے بعد بلاول بھٹو زرداری مظفر آباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا ثنا اللہ اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام بھی مظفر آباد تو ضرور آئے لیکن انھوں نے بھی ہوٹل میں ہی پارٹی میٹگز کرنے پر اکتفا کیا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نے امن اومان کی صورت حال پر انھیں بریفنگ دی جس کے بعد دونوں وزرا اسلام اباد واپس روانہ ہوگئے البتہ خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی نے پونچھ ڈویژن میں کوئی بڑا جلسہ کرنے کی بجائے کارنر میٹنگز کرنے پر ہی اکتفا کیا۔
اس جماعت کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جلد ہی مظفر آباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کا بائیکاٹ
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں، کی مرکزی قیادت تو دور کی بات، اب تک ان جماعتوں کی مقامی قیادت بھی اپنے امیدواروں کے حق میں کوئی بڑی انتخابی مہم نہیں چلا سکی ہیں۔
پاکستان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک وجہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے اس جماعت کی رجسٹریشن کی معطلی بھی شامل ہے۔
لیکن پی ٹی آئی کی قیادت یہ بیانیہ لے کر چل رہی ہے کہ انھوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کشمیری عوام کے ساتھ ان کے مطالبات کے حل کے سلسلے میں اظہار یکجتی کے طور پر کیا۔ دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی قیادت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے۔
انتخابی عمل سے جڑے کاروبار بھی ماند
انتخابی سرگرمیوں کی طرح اس انتخابی عمل سے جڑے کاروبار بھی ماند پڑے ہوئے ہیں۔
نوید عباسی کا پرنٹنگ کا کاروبار ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں لوگوں کی عدم دلچسپی اور عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال کی وجہ سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب انتخابات ہوتے تھے تو ان سمیت اس کاروبار سے وابستہ افراد کے پاس اتنا زیادہ کام ہوتا تھا کہ وہ وقت پر آرڈر بھی نہیں دے سکتے تھے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ وہ آرڈر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سردار تبریز، جن کا کیٹرنگ کا کاروبار ہے، وہ بھی انتخابی عمل میں عوامی حلقوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں انتخابی مہم کے دوران ان کے اور اس کاروبار سے وابستہ دیگر افراد کو کھانوں کے اتنے زیادہ آرڈر ملتے تھے کہ بعض اوقات آرڈر منسوخ بھی کرنا پڑتے تھے۔

’احتجاج کے باعث ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی تین ڈویژن (پونچھ، میرپور اور مظفرآباد) میں 33 سیٹیں ہیں، یعنی ہر ڈویژن میں گیارہ، گیارہ نشستیں۔
رواں برس ہونے والے ان انتخابات میں اس وقت پونچھ ڈویژن میں راولاکوٹ سب سے زیادہ حساس علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں پر کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حل کے لیے گذشتہ ایک ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہے۔
اس عرصے کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں ایک درجن سے زیادہ افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ راولاکوٹ میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی پانچ نشستیں ہیں۔
کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ ان پانچ حلقوں میں انتخابی مہم نہیں چلائی جا رہی، جس کی بنیادی وجہ امن و امان کی خراب صورت حال ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان پانچ حلقوں میں امیدوار اپنے تئیں انتخابی مہم چلا رہے ہیں لیکن ویسی انتخابی گہما گہمی نہیں جس طرح اس ڈویژن کے دوسرے علاقوں یعنی باغ اور حویلی میں نظر آ رہی ہے۔
سردار وحید خان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی امیدوار کی جانب سے ان حلقوں میں انتخابات اس وقت تک نہ کروانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا جب تک علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی۔
انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے عوام کو ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘
کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن میں انتخابات کے دوران امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس اجلاس کے دوران کسی بھی ضلعی افسر کی طرف سے پولنگ کے دوران فوج کی تعیناتی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2016 میں ہونے والے انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوئے تھے۔
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں سب سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلم کانفرنس کی قیادت نے اس ماہ ہونے والے انتخابات بھی فوج کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم دیگر سیاسی جماعتوں نے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی تھی۔
’اس مرتبہ لوگ سیاسی جماعتوں کے منشور کی طرف دھیان نہیں دے رہے‘

صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف اس قدر مقبول ہو چکا ہے کہ اس کو طاقت کے ذریعے دبانے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو سیاسی جماعت کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے موقف سے ہٹ کر اپنا بیانیہ پیش کرتے ہیں اس کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ لوگ سیاسی جماعتوں کے منشور کی طرف دھیان ہی نہیں دے رہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور ان کی معلومات کے مطابق اس جماعت کی قیادت کشمیر میں انتخابات نہیں چاہتی تھی، اس لیے انھوں نے امن اوامان کی صورت حال کا معاملہ سامنے رکھ کر انتخابات کے شیڈول کو آگے لے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت ہے اور مرکز کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات بروقت ہونے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کا خیال تھا کہ ان کی جماعت ان حالات سے فائدہ اٹھائے گی اور ان کی جماعت اقتدار میں آ جائے گی۔‘
حامد میر نے یہ بھی کہا کہ جن انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی ہو تو ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین کے مطابق پہلے انتخابات 1975 میں ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں پاکستا ن پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد دس سال تک اس علاقے میں انتخابات نہیں ہوئے۔