داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ روز دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج میں دسیوں ہزار لوگوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا جسے قابو کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھیوں، ڈنڈوں کا استعمال ہوا اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔
23 دنوں تک بھوک ہڑتال پر رہنے والے طلبہ (دائيں سے بائيں) منیش، آمین اور نیہاانڈیا کا دارالحکومت دہلی کئی دنوں سے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ گذشتہ روز دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شامل دسیوں ہزار لوگوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جسے قابو میں کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھیوں، ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔
اس کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دہلی پولیس نے الزام لگایا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں ان کے 118 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹیکے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد بھی منگل کو ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ گذشتہ روز ہونے والی پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ بے جا طاقت کے استعال کی مذمت کی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پرامن احتجاج کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔
20 جولائی کے جنتر منتر سے پارلیمان کی جانب مارچ میں دسیوں ہزار نوجوانوں نے شرکت کیایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا گیا اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکام نے میٹرو سروسز اور موبائل انٹرنیٹ بند کر کے پرامن اجتماع کے حق پر مزید قدغنیں لگائیں۔
کانگریس کے رہنما اور انڈین پارلیمنٹ میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ ’انھیں طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور طلبہ پر تشدد کا یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے۔‘
عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’کل بچوں کے ساتھ جو بربریت کی گئی وہ انتہائی شرمناک ہے۔‘
یہ احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟
دراصل یہ احتجاج داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور سٹوڈنٹس وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
لیکن اس بھوک ہڑتال میں ان کے علاوہ تقریبا نصف درجن دیگر طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں، جن میں سے تین تو پہلے ہی ہسپتال منتقل ہو گئے تھے لیکن تین طلبہ نیہا بورا، امین امیتوج اور منیش کمار نے سوموار کو 23 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد اراکین پارلیمان، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ماہرینِ تعلیم کی اپیلوں پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اگرچہ اس کی نوعیت اور صورت مختلف ہوگی۔ ان تینوں طلبہ و طالبات کا تعلق آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) سے ہے۔
بھوک ہڑتال نئے مرحلے میں
ان طلبا نے اپنی بھوک ہڑتال اسی دن شروع کی تھی جس دن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ یہ احتجاج نوجوانوں کے ایک خود ساختہ پلیٹفارم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری ہے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ کل کے مظاہرے کے بعد یہ کسی ایک جماعت کا احتجاج نہیں رہا بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ملک میں موجودہ تعلیمی صورت حال سے مایوس نوجوانوں کے احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ان تینوں طلبہ سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرنے والوں میں ارکانِ پارلیمان منوج جھا، راجارام سنگھ اور امرارام کے ساتھ سماج کارکن یوگیندر یادو، وکیل پرشانت بھوشن، پروفیسر اتُل سود اور اداکار پرکاش راج اور شبانہ اعظمی بھی شامل تھے۔
بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا نے کہا: ’لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے ہجوم کو دیکھ کر ہمیں جس قدر خوشی ہوئی، وہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ تعلیم کے مسئلے پر اس قدر مضبوط عوامی بیداری اور تحریک کا خاص طور پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے سوموار (20 جولائی 2026) کو مظاہرین پر پولیس کے لاٹھی چارج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور پولیس یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ’یہ جدوجہد ان کے اپنے بچوں کے لیے ہے، جو ایک دن ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کا لاٹھی چارج صرف ہم پر نہیں، بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک کا ساتھ دیں، کیونکہ بھوک ہڑتال کے خاتمے کے بعد یہ جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘
20 جولائي کو پولیس کے لاٹھی چارج میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے مطالبات
دوسری جانب طلبہ یونین آئیسا نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’طلبہ رہنماؤں نے انتہائی بہادری کے ساتھ یہ جدوجہد کی ہے۔ ان سب کے جسمانی وزن میں 12 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی، ان کے خون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک کم رہی، اور ان کے اعضا پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں نے ان کے لیے انفرادی غذائی منصوبے تیار کیے ہیں تاکہ انھیں دوبارہ خوراک شروع کرنے کے بعد ہونے والی طبی پیچیدگی، یعنی ’ریفیڈنگ سنڈروم‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آئیسا سے تعلق رکھنے والے جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر این سائی بالاجی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک ماہ طویل مہم چلائیں گے، جس میں جنتر منتر پر پیش کیے گئے مطالبات کو دہرایا جائے گا۔
احتجاج کرنے والوں کے تین مطالبات ہیں جس کا اظہار انھوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات میں بھی کیا۔ سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور امیتابھ رنکا نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر مسٹر نڈا کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے مطالبات کا ذکر کیا ہے۔
دونوں ترجمان کی طرف سے جے پی نڈا کو پیش کردہ مبینہ خط میں تین مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
پہلا مطالبہ سونم وانگچک کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کا ہے اور یہ یقین دہانی بھی مانگی گئی ہے کہ احتجاج کے حوالے سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے۔
دوسرا مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا برخاستگی کے متعلق ہے۔
جبکہ تیسرا مطالبہ میڈیکل میں داخلے کے امتحان ’نیٹ‘ 2026 کے پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کا ہے۔
ترجمان کے مطابق جے پی نڈا کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب سطح پر بات کریں گے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا ہے۔
نیہا بورا کون ہیں؟
نیہا بورا دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کا تعلق شمالی انڈین ریاست اتراکھنڈ سے ہے۔
وہ جے این یو کے سکول آف آرٹس اینڈ ایستیٹھکس میں تحقیق کر رہی ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے دہلی کی امبیڈکر یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔
وہ جے این یو میں اسسٹنٹ پروفیسر اور احتجاج پر مشہور کتاب ’باڈی آن دی بیریکیڈز‘ کے مصنف برہم پرکاش کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔
وہ بائيں بازو کی جماعت سی پی آئی ایم ایل سے تعلق رکھنے والی طلبا کی جماعت آئیسا کی قومی صدر بھی ہیں۔
اس سے قبل نیہا نے جنتر منتر پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج نیشنل ایجوکیشن پالیسی متعارف کرا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی تعلیمی پالیسی سنہ 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس میں حکومت کی جوابدہی کو ختم کر دیا گیا اور یہ ایک ایسے ماحول کی آبیاری کرتا ہے جہاں بدعنوانی اور پرچے لیک ہوں۔‘
منیش کمار کون ہیں؟
منیش اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔
وہ الہ آباد یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اتر پردیش آئیسا یونٹ کے صدر بھی ہیں۔
ان کی طلبہ تحریک میں سرگرمی کی وجہ سے انھیں یونیورسٹی سے کئی بار نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں اور متنبہ کیا گيا ہے کہ اگر پھر سے وہ یونیورسٹی کے اصولوں کے خلاف جاتے ہیں تو ان کا داخلہ ختم ہو سکتا ہے۔
منیش کمار نے بی بی سی کی نمائندہ غافرہ قادر سے 16 جولائی کو بات کرتے ہوئے کہا کہ ’متعدد مقامات پر مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہوئے۔ سب سے بڑا معاملہ میڈیکل میں داخلے کے امتحانات ’نیٹ‘ کا تھا جس کی وجہ سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ بچوں نے خودکشی کر لی اور لاکھوں گھرانے اس سے متاثر ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے۔‘
منیش نے مزید کہا کہ ’سرکاری یونیورسٹیوں کو برباد کیا جا رہا ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی فیس 500 روپے تھی جو اب بڑھا کر 20 ہزار کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کے فنڈز میں کٹوتی کی جا رہی۔‘
انھوں نے کہا: ’ہم لوگ دھرنے پر بیٹھے ہی تھے کہ مدھیہ پردیش میں پیپر لیک ہو گیا، مہاراشٹر اور جے پور میں پرچے لیک ہوگئے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو افسران لیکس میں ملوث پائے جائيں ان کے خلاف سخت کارروائی ہو۔‘
سٹوڈنٹس میں اس صورت حال پر بہت تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
آمین امیتوج اور جین زی کی ہمت کی تعریف
آمین امیتوج کا تعلق بھی بائيں بازو کی طلبہ تنظیم آئیسا سے ہے۔ وہ فی الحال دہلی کی امبیڈکر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ انڈین پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔
امبیڈکر یونیورسٹی میں ہی ہندی زبان و ادب کے پروفیسر گوپال پردھان نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’جین زی کی سمجھداری‘ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جس طرح سے ہم لوگوں نے کسی احتجاج کی امید چھوڑ دی تھی انھوں نے جس بڑے پیمانے پر کامیابی کے ساتھ احتجاج کیا ہے اور جو سیاسی بصیرت دکھائی ہے اور جس طرح سے انتہائی حبس کے ماحول میں بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے اس نے ہمیں امید فراہم کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم کئی بار وہاں گئے، حکومت نے ان کی بجلی بھی کاٹ دی تھی لیکن پھر بھی وہ ڈٹے رہے اور جس ہمت کا مظاہرہ کیا ہے انھیں سلام ہے۔‘
دوسری جانب جے این یو میں استاد آصف زہری نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں وزیروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے مطابق مطالبہ 'پردھان سیوک' کے استعفے کا ہونا چاہیے۔
انھوں نے موجودہ صورت حال کے پیش نظر این ٹی اے یعنی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی جو امتحانات کرواتی ہے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور تعلیم کو 'ڈی سینٹرلائز اور ڈی پرائیوٹائز' کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔