مجھے بار بار ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں بے ہوش ہونے والی ہوں، اسی وجہ سے کئی مرتبہ ایمرجنسی روم جانا پڑا۔ چونکہ میرے والد کا انتقال کارڈیک اریسٹ کے باعث ہوا تھا، اس لیے میں بہت خوفزدہ رہتی تھی کہ کہیں میرے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔ بعد ازاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ میں شدید اینگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار ہوں۔ میں نے باقاعدہ تھراپی کروائی، علاج مکمل کیا اور الحمدللہ اب پہلے سے بہت بہتر ہوں۔ اس وقت سب سے زیادہ خوف اس بات کا تھا کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میرے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارجمند رحیم نے اپنی زندگی کے ایک مشکل ترین دور سے متعلق پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور ڈپریشن کا شکار رہی ہیں۔
اداکارہ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئیں جہاں گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک طبیعت بگڑنے اور بار بار بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہونے کے باعث انہیں کئی مرتبہ اسپتال کے ایمرجنسی روم جانا پڑا۔ ابتدا میں وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھیں کہ آخر ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔
ارجمند رحیم نے بتایا کہ والد کے کارڈیک اریسٹ سے انتقال کے بعد انہیں ہر وقت یہی خوف رہتا تھا کہ کہیں وہ بھی کسی دل کے عارضے کا شکار نہ ہوں لیکن مختلف طبی معائنوں کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی تمام جسمانی رپورٹس درست ہیں اور اصل مسئلہ شدید اینگزائٹی اور ڈپریشن ہے۔
اداکارہ کے مطابق تشخیص ہونے کے بعد انہوں نے ماہرین سے باقاعدہ تھراپی لی اور علاج کروایا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب علاج اور پیشہ ورانہ رہنمائی کی بدولت وہ اب مکمل طور پر بہتر محسوس کرتی ہیں۔
ارجمند رحیم کے اس انکشاف کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ مل رہی ہے جہاں صارفین ان کی ہمت کو سراہتے ہوئے ذہنی صحت سے متعلق کھل کر بات کرنے کے اقدام کو اہم قرار دے رہے ہیں۔