تقریباً 35 سال پہلے ایک ٹی وی چینل نے مجھے بطور جیولر پروگرام میں مدعو کیا تھا تاکہ میں سونے سے متعلق ناظرین کے سوالات کے جواب دوں۔ مارننگ شو میں شرکت کے بعد ڈرامہ سازوں کی نظر مجھ پر پڑی، انہیں لگا کہ میں کیمرے کے سامنے پُراعتماد ہوں، یوں میری اداکاری کا سفر شروع ہوگیا۔
اب تک میں تقریباً 80 سے 85 ڈراموں میں نکاح پڑھوا چکا ہوں۔ تقریباً آٹھ سال بحرین میں بھی رہا، جہاں ڈراموں میں کام کیا۔ بعض اوقات نکاح کے دوران لڑائی جھگڑے والے مناظر ہوتے ہیں، جن میں مختلف تاثرات دینا پڑتے ہیں، اس لیے یہ کردار ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔
ہدایتکار اور پروڈیوسرز نے مجھے نکاح خواں کے علاوہ بھی کئی کردار دیے، جبکہ مداحوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ بہت سے لوگوں نے مجھے اپنی حقیقی شادیوں میں نکاح پڑھانے کی دعوت دی، لیکن میں نے ادب سے انکار کیا کیونکہ نکاح ایک مذہبی معاملہ ہے۔ البتہ نکاح کے بعد میں اکثر دلہا دلہن کی خوشحال زندگی کے لیے دعا ضرور کرتا ہوں۔
پاکستانی ڈراموں میں برسوں سے "نکاح خواں" یا "مولوی صاحب" کا کردار ادا کرنے والے سینئر اداکار ابو روحان نے پہلی بار بتایا ہے کہ وہ اداکاری کی دنیا میں کیسے آئے اور کیوں وہ حقیقی زندگی میں نکاح پڑھانے سے گریز کرتے ہیں۔
ابو روحان نے اپنی دلچسپ زندگی کے سفر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ان کا اصل پیشہ اداکاری نہیں بلکہ جیولری کا کاروبار ہے، جسے وہ کراچی میں کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قسمت نے انہیں غیر متوقع طور پر ٹی وی اسکرین تک پہنچایا، جہاں ایک پروگرام میں بطور جیولر شرکت نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
ابو روحان نے بتایا کہ کیمرے کے سامنے ان کے اعتماد کو دیکھ کر ہدایتکاروں نے انہیں ڈراموں میں کاسٹ کرنا شروع کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستانی ڈراموں کے سب سے پہچانے جانے والے "نکاح خواں" بن گئے۔ آج ان کی پہچان ایسے کردار سے جڑی ہوئی ہے جسے ناظرین تقریباً ہر بڑے ڈرامے میں دیکھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اکثر لوگ ان کے کردار کو سادہ سمجھتے ہیں، لیکن کئی مناظر ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں جذبات، ردعمل اور اداکاری کی مکمل صلاحیت دکھانا پڑتی ہے، خاص طور پر جب نکاح کے دوران ڈرامائی صورتحال یا جھگڑے کے مناظر فلمائے جا رہے ہوں۔
ابو روحان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈراموں میں بار بار نکاح پڑھواتے دیکھ کر بہت سے مداحوں نے انہیں اپنی حقیقی شادیوں میں بھی نکاح پڑھانے کی درخواست کی، مگر انہوں نے ہمیشہ مؤدبانہ انداز میں معذرت کی کیونکہ ان کے نزدیک نکاح ایک مذہبی ذمہ داری ہے، البتہ وہ شادی کی تقریب کے بعد نئے جوڑے کی خوشیوں اور کامیاب زندگی کے لیے دعا ضرور کرتے ہیں۔