یمنی میزائل پروگرام سے روسی ڈرونز اور اماراتی مہم تک: کلاڈ کوڈ کیا ہے اور اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کون استعمال کر رہا ہے؟

رپورٹ میں پہلی بار ان واقعات کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں جن میں بعض عناصر نے روایتی ہتھیاروں کی تیاری، ڈیزائن اور خریداری کے عمل میں کلاڈ سے مدد لینے کی کوشش کی۔ اینتھروپک کے مطابق نومبر 2025 میں اپنی سابقہ تھریٹ رپورٹ کی اشاعت کے بعد کمپنی نے ایسے نئے گروہوں کی نشاندہی کی جو آتشیں اسلحے، میزائلوں، مسلح ڈرونز، بموں اور دیگر گولہ بارود سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے یا ان کے ٹارگٹنگ اور کنٹرول سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے کلاڈ استعمال کر رہے تھے۔

مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک اے آئی نے اپنی اب تک کی سب سے تفصیلی تھریٹ انٹیلیجنس رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بعض افراد نے اُن کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو سائبر حملوں، اثرورسوخ کی خفیہ مہمات، نگرانی، حیاتیاتی تحقیق اور ہتھیاروں کی تیاری جیسے مقاصد کے لیے غلط طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے کلاڈ کوڈ، اینتھروپک کی جانب سے فراہم کردہ ایک اے آئی پروگرامنگ معاون ہے، جو صارفین کو سافٹ ویئر کوڈ لکھنے، اس میں ترمیم کرنے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور تکنیکی مسائل حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق رپورٹ میں شامل تمام کارروائیوں کا سراغ لگا کر انھیں ناکام بنایا گیا، جبکہ ان سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر حفاظتی نظام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ جہاں ضروری سمجھا گیا وہاں حاصل شدہ معلومات متعلقہ حکام اور دیگر اے آئی کمپنیوں کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں ہیں۔

اینتھروپک نے واضح کیا کہ رپورٹ میں بیان کیے گئے واقعات معمول کی مثالیں نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کی چند انتہائی پیچیدہ اور جدید کوششیں ہیں۔

کمپنی کے بقول ان کیسز کا جائزہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال کے رجحانات کس سمت بڑھ رہے ہیں، موجودہ حفاظتی اقدامات کہاں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور کن شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں پہلی بار ان واقعات کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں جن میں بعض عناصر نے روایتی ہتھیاروں کی تیاری، ڈیزائن اور خریداری کے عمل میں کلاڈ سے مدد لینے کی کوشش کی۔

اینتھروپک کے مطابق نومبر 2025 میں اپنی سابقہ تھریٹ رپورٹ کی اشاعت کے بعد کمپنی نے ایسے نئے گروہوں کی نشاندہی کی جو آتشیں اسلحے، میزائلوں، مسلح ڈرونز، بموں اور دیگر گولہ بارود سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے یا اُن کے ٹارگٹنگ اور کنٹرول سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے کلاڈ استعمال کر رہے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران اُس کی تھریٹ انٹیلیجنس ٹیموں نے چھ ایسے کیسز کی تحقیقات کیں اور انھیں ناکام بنایا جن میں تین چین، دو روس اور ایک یمن سے متعلق تھے۔

اُن میں بعض عناصر نے ہتھیاروں کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے، جبکہ دیگر نے انٹیلیجنس معلومات جمع کرنے اور دفاعی منصوبوں کے لیے درکار سامان کی خریداری میں اے آئی کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں بعض عناصر نے ہتھیاروں سے متعلق سافٹ ویئر اور فرم ویئر تیار کرنے یا بہتر بنانے کے لیے کلاڈ سے استفادہ کیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ افراد کام کو مختلف سیشنز میں تقسیم کرتے اور اپنے اصل مقاصد کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ حفاظتی اقدامات سے بچا جا سکے۔

یمن میں میزائل پروگرام کے لیے کلاڈ کے استعمال کی کوشش

یمن سے متعلق ایک کیس میں شمالی یمن میں سرگرم ایک گروہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو گائیڈڈ راکٹوں اور میزائل پروگراموں پر کام کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس گروہ نے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول (GNC) سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے کلاڈ کوڈ کو انسانی سافٹ ویئر انجینیئروں کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے حفاظتی نظام نے متعدد درخواستوں کو روک دیا، تاہم چند عناصر نے اپنے مقاصد چھپانے اور سرگرمیوں کو مختلف سیشنز میں تقسیم کرنے جیسے حربے بھی اختیار کیے۔

کمپنی کے مطابق اس گروہ نے ایک گائیڈز راکٹ کا تجرباتی آزمائشی فائر بھی کیا، تاہم دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا اور بعد میں اس ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے دوبارہ کلاڈ سے مدد لینے کی کوشش کی۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر نئے حفاظتی نظام اور کلاسیفائرز متعارف کرائے گئے ہیں، جو دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں کی زیادہ مؤثر انداز میں نشاندہی اور روک تھام کر سکتے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد دیگر پلیٹ فارمز کو بھی ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی میں مدد دینا اور عوام کو ابھرتے ہوئے خطرات کی نوعیت اور ان کی پیش رفت کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی اخوان المسلمون اور سوڈان تنازع پر اثرانداز ہونے کی مہم کا انکشاف

اینتھروپک کی رپورٹ میں ایک ایسے اثرورسوخ والے آپریشن کی تفصیلات بھی شامل ہیں جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اخوان المسلمین، سوڈان کے تنازع اور اقوام متحدہ کے احتسابی نظام سے متعلق بیانیوں پر اثر انداز ہونا تھا۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ایک ایسے اکاؤنٹ کو بند کیا جو ایک فرد کے زیرِ استعمال تھا اور طویل عرصے سے اخوان المسلمون کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہا تھا۔

اینتھروپک کے مطابق اس شخص نے ’ڈیڈ شاٹ‘ نامی ایک اے آئی شخصیت (AI Persona) تیار کی تھی، جو اس کے اپنے نجی پلیٹ فارم پر کام کر رہی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نظام میں شامل ہدایات بار بار کلاڈ کو ایک ہی مقصد کے تحت مواد تیار کرنے کی تلقین کرتی تھیں، جس کا ہدف اخوان المسلمون کے خلاف عالمی سطح پر ایک مربوط مہم چلانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ سرگرمی پانچ مختلف مگر ایک دوسرے سے منسلک شعبوں پر مشتمل تھی۔ ان میں تقریباً 300 جعلی یا غیر مستند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا نیٹ ورک چلانا شامل تھا، جنھیں مختلف بیانیوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس مہم کے تحت ایک ایسی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) بھی قائم کی گئی جس نے سوئٹزرلینڈ میں موجود ایک حقیقی تنظیم کی شناخت اور نام سے مشابہت اختیار کی، جبکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس شائع کی جاتی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس میں پیش کیے جانے کے لیے بیانات بھی تیار کیے گئے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ مواد اس انداز میں مرتب کیا گیا تھا کہ اسے آزاد گواہی کے طور پر پیش کیا جا سکے، جبکہ ان تحریروں میں متحدہ عرب امارات کا نام لینے سے دانستہ گریز کیا گیا تھا۔

اینتھروپک کے مطابق اس سرگرمی کے دوران یورپی پارلیمنٹ کے 18 ارکان اور متعدد صحافیوں کے بارے میں تفصیلی پروفائلز اور معلوماتی فائلیں بھی تیار کی گئیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ان خصوصی نمائندوں سے متعلق دستاویزات مرتب کی گئیں جنھوں نے سوڈان میں متحدہ عرب امارات کے کردار پر تنقید کی تھی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سرگرمی کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ اس کا سراغ اصل منتظمین تک نہ پہنچ سکے، تاہم اس کی داخلی تحقیقات نے اسے ’اعلیٰ درجے کے اعتماد‘ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے سرکاری عہدیداروں سے منسلک قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کی بنیادی دستاویزات میں بعض اعلیٰ اماراتی حکام کو تیار کردہ مواد کے مطلوبہ وصول کنندگان کے طور پر بھی ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم اینتھروپک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتی کہ تیار کیے گئے بیانات یا متعلقہ شخصیات کے بارے میں مرتب کردہ فائلیں اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچیں یا نہیں۔

کمپنی کے مطابق اس سرگرمی میں کلاڈ کا استعمال سیاسی ہدایات اور نظریاتی دستاویزات کو بظاہر سرکاری نوعیت کی انٹیلیجنس بریفنگز، جعلی شناخت پر مبنی رپورٹس، تیار شدہ گواہیوں اور مخصوص شخصیات کی پروفائلنگ میں تبدیل کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد متعلقہ اکاؤنٹ کو بند کر دیا گیا اور حاصل شدہ معلومات کو حفاظتی اقدامات مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

چین سے منسلک گروہ کی زیرِ آب جنگی نظام کے لیے اے آئی کے استعمال کی کوشش

رپورٹ میں شامل ایک اور اہم کیس میں اینتھروپک نے ایک ایسے گروہ کی نشاندہی کی ہے جو مبینہ طور پر چین سے منسلک تھا اور زیرِ آب جنگی نظام سے متعلق ایک اینٹی ٹارپیڈو ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کر رہا تھا۔

کمپنی کے مطابق اس گروہ نے کلاڈ کو تین مختلف شعبوں میں استعمال کیا۔ پہلی سرگرمی کے تحت اس نے چینی زبان میں ایک اینٹی ٹارپیڈو فائر کنٹرول سسٹم کی تکنیکی وضاحت تیار کرائی، جسے ایک چینی دفاعی صنعت کار سے منظوری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا تاکہ منصوبہ سرٹیفکیشن اور عملی آزمائش کے اگلے مراحل میں داخل ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق دوسری سرگرمی میں کلاڈ کی مدد سے 200 سے زائد صفحات پر مشتمل ایک تکنیکی تجویز اور اس کے ساتھ ایک ایگزیکٹو بریفنگ پریزنٹیشن تیار کی گئی۔ تیسری سرگرمی میں گروہ نے عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنے نظام کا موازنہ امریکی اینٹی ٹارپیڈو اور اینٹی آبدوز پروگراموں سے کیا اور بعد ازاں امریکی بحریہ کے نظاموں پر مبنی ایک چینی زبان کی بریفنگ بھی تیار کی۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ عناصر خود کو امریکی دفاعی شعبے سے وابستہ ایک اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررظاہر کرتے تھے، تاہم کمپنی کے جائزے کے مطابق ان کا تعلق ایک چینی دفاعی صنعت کار سے تھا جو ممکنہ طور پر پیپلز لبریشن آرمی نیوی کے لیے ہتھیاروں کی وضاحت اور حصولی منصوبہ تیار کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گروہ نے کلاڈ سے حصولی دستاویزات کے متعدد مسودے تیار کروائے اور ہر مرحلے پر ماڈل کو ایک سخت گیر ماہر مبصر کا کردار ادا کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ دستاویز میں خامیوں کی نشاندہی کرے۔ بعد میں اسی فیڈبیک کی بنیاد پر اگلے مسودے کو مزید بہتر بنایا جاتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ عناصر نے اینٹی ٹارپیڈو نظام کے فائر کنٹرول سافٹ ویئر کے مختلف حصے اور ان کی جانچ کے لیے ٹیسٹ میٹرکس بھی تیار کرنے کی کوشش کی۔

کمپنی کے مطابق اے آئی کے استعمال سے ان عناصر کو پیچیدہ تکنیکی دستاویزات، تعمیل سے متعلق ریکارڈ، سرٹیفکیشن دستاویزات اور خودکار فائر کنٹرول منطق کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملی، جبکہ روایتی انسانی ریویو کے عمل کو بھی کئی مراحل میں مختصر کیا گیا۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق مشتبہ معاملات کی داخلی تحقیقات کے دوران سامنے آئی۔ کمپنی کسی مخصوص ادارے یا فرد کی حتمی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکی، تاہم اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر متعلقہ اکاؤنٹ بند کر دیا گیا اور حاصل شدہ معلومات کو حفاظتی نظام مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

china
Getty Images

روس سے منسلک گروہ کی خودکار فوجی ڈرونز کی تیاری کی کوشش

اینتھروپک کی رپورٹ میں ایک ایسے گروہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو بظاہر روس میں موجود فری لانس ماہرین پر مشتمل تھا اور خودکار فرسٹ پرسن ویو (FPV) کامیکازی ڈرونز کے غول (drone swarm) کی تیاری پر کام کر رہا تھا۔

کمپنی کے مطابق اس گروہ نے اپنے منصوبے کو ’DronDoc‘ یا ’Serafim‘ کا نام دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق عناصر نے کلاڈ کوڈ کی مدد سے ڈرونز کے بنیادی سافٹ ویئر کی تیاری اور آزمائش کی، جبکہ تیار کردہ کوڈ کو براہ راست اپنے منصوبے کی فائلوں میں محفوظ بھی کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے سافٹ ویئر سمولیشن پلیٹ فارم اور ماڈلز کی تربیت کے لیے کرائے پر حاصل کردہ کمپیوٹنگ وسائل بھی استعمال کیے۔

اینتھروپک کے مطابق گروہ نے کلاڈ کو ڈرونز کے باہمی رابطے اور ہم آہنگی کے نظام، مشترکہ ڈیجیٹل میموری، ہدف تک رسائی کے لیے رہنمائی فراہم کرنے والے سافٹ ویئر، مخالف ڈرون آپریٹرز کی جغرافیائی نشاندہی کرنے والے نظام اور ڈرونز کے پروگرام ایبل چپس کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے میں استعمال کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر خودکار مہلک کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا تھا، جہاں آن بورڈ ماڈل خود ہدف کی شناخت کر سکتا تھا، جس میں ’انسان‘ بھی ایک ممکنہ ہدف کے طور پر شامل تھا، اور انسانی مداخلت کے بغیر حملے یا دھماکے کا فیصلہ بھی کر سکتا تھا۔

کمپنی کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے شواہد بھی ملے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروہ حقیقی ہارڈویئر پر تجربات کر رہا تھا۔ ان میں فرِم ویئر کی تنصیب، سنگل بورڈ کمپیوٹرز کی تیاری اور میش نیٹ ورک کے ذریعے سمولیشن ماحول قائم کرنا شامل تھا۔

رپورٹ کے مطابق عناصر نے یوکرین کی جنگ سے متعلق حاصل کردہ ویڈیوز کی مدد سے ایک کمپیوٹر وژن نظام کو بھی تربیت دی، جس میں اہداف کو ’دشمن‘ اور ’دوست‘ کی درجہ بندی میں تقسیم کیا گیا، جبکہ روسی نظاموں کو علیحدہ طور پر شناخت کرنے کی کوشش کی گئی۔

مزید برآں یوکرین کے ڈونیتسک علاقے میں موجود ایک مخصوص مقام کو بار بار فرضی حملے کے ہدف کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ متعلقہ اکاؤنٹس 2025 کے اواخر اور 2026 کے اوائل میں بنائے گئے تھے جبکہ منصوبے پر باقاعدہ کام مئی 2026 میں شروع ہوا۔ کمپنی کے مطابق عناصر نے جغرافیائی پابندیوں سے بچنے کے لیے کمرشل ورچوئل پرائیویٹ سرورز (VPS) کا استعمال کیا۔

کمپنی کے جائزے کے مطابق یہ کسی روسی سرکاری ادارے کے بجائے ایک چھوٹی، خصوصی مہارت رکھنے والی فری لانس ٹیم تھی جو سول اور عسکری دونوں نوعیت کے منصوبوں پر کام کر رہی تھی۔ تحقیق میں اس گروہ سے منسلک نو اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے آٹھ صرف عام فری لانس کاموں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

اینتھروپک نے بتایا کہ تحقیقات کے بعد متعلقہ اکاؤنٹس بند کر دیے گئے اور حاصل شدہ معلومات کو حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے اس نوعیت کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US