پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم تنظیم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں جبکہ میرپور میں بدھ کے روز دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم تنظیم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں جبکہ میرپور میں بدھ کے روز دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔
خطے کے کئی علاقوں میں شہریوں کو انٹرنیٹ سروسز تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔
کشمیر کے حکام کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں سے کالعدم تنظیم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح کارکنان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید فائرنگ ہو رہی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ راولاکوٹ اور میرپور میں سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے اس کے 17 ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف مقامی انتظامیہ کے مطابق دو روز کے دوران مسلح تصادم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے دونوں طرف سے جاری کردہ متضاد اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنان بڑی تعداد موجود ہیں اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ جبکہ بس ٹرمینل کی جانب سے آنے والے مظاہرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ دریک کے نزدیک کالعدم جماعت کے مسلح افراد نے چار زیرِ تعمیر مکانات میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں۔
فائل فوٹوضلعی انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کو موصول اطلاعات کے مطابق دریک کے نزدیک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق 48 گھنٹوں کے دوران صرف راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر فائرنگ کے نتیجے میں ان کے 11 کارکنان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ میرپور میں گذشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے چھ افراد مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
عابد شاہین کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے مقصد کے حصول تک مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھے گی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘
کشمیر اور پاکستان کے حکام کا کیا موقف ہے؟
ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے خطے میں اسمبلی انتخابات کے دوران ’مظفر آباد کی طرف مارچ کا سازشی منصوبہ بنایا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر بے امنی پھیلانا تھا۔‘
ان کا الزام ہے کہ مظاہرین ’جدید اسلحے سے لیس ہیں‘ اور وہ ’سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘
گذشتہ روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور ترجمان کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کاشفی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کے علاوہ بڑی تعداد میں ’عسکریت پسند‘ بھی اس صورتحال میں ملوث ہیں اور ’ریاست ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

پاکستان کے بعض وفاقی وزرا بھی اس بدامنی پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔
منگل کے روز پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر ’پُرتشدد کارروائیوں کے ذریعے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی عوام کو اس بات سے آگاہ کر چکی ہے کہ ’وہ ایسے پُرتشدد گروہوں سے دور رہیں۔‘
وزیرِ اطلاعات نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ عناصر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسے عناصر ماضی میں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ کامیاب ہوں گے۔‘
جیوز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، یہ اسی طرح کی تنظیموں کے لوگ ہیں، ان کے پاس اسلحہ ہے، ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین عام شہریوں کو ’شیلڈ بنا کر کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو ایکشن لیا یا ایکشن لیں گے، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘
انڈیا کا پاکستان پر کشمیر میں ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا الزام
گذشتہ روز انڈیا کے دفترِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجودہ انتخابی عمل محض ایک نمائشی مشق ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ’غیر قانونی قبضے‘ اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ 'جیسا کہ انڈیا پہلے بھی واضح کر چکا ہے، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، جن کی تازہ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں، دراصل وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔'
پاکستانی اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے اظہار تشویش، بلاول کا کمیشن کا مطالبہ
قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو ان مظالم کے خلاف کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
کوئٹہ میں منگل کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور مولانا فضل الرحمان نے وہاں حالات کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو جانے نہیں دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ کشمیری عوام پر مبینہ مظالم کو روکنے کے لیے پاکستانی عوام کو ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد کے قریبی علاقے تحصیل پٹیکہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ’سچ اور مفاہمت کمیشن‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'ان کی جماعت یہ نہیں کہتی کہ احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں، تاہم مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ ضرور نکالا جانا چاہیے تھا۔'
پی پی پی کے چیئرمین کے مطابق ’ان کے پاس ایک ایسا حل موجود تھا جس میں نہ ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑتا اور نہ ہی کسی فریق کا مطالبہ فوری طور پر تسلیم کرنا پڑتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر دونوں فریق اس کمیشن کو تسلیم کر لیتے تو احتجاج کرنے والوں سے کہا جا سکتا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک احتجاج مؤخر کر دیں۔' ان کے مطابق اس طرح کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو قانون کے مطابق کی جائے، تاہم کسی کو سڑکوں پر اس طرح سزا نہیں دی جا سکتی۔‘
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے کشمیر کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا تو اس کا موقف تھا کہ پہلے ماحول بناؤ، فری اینڈ فیئر الیکشن ہوگا تو ملک آگے جائے گا۔
انھوں نے الزام لگایا کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ نے سیاست کرتے ہوئے حالات کو اس نہج تک پہنچایا، اس وقت سیاست اور پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔
’کشمیر کی موجودہ صورتِ حال بدانتظامی کی نمایاں مثال ہے‘
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے مطالبہ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی بندش برقرار رہے گی، زمینی صورتِ حال کی ’مکمل اور آزادانہ تصدیق میں شدید رکاوٹ پیدا ہوتی رہے گی۔‘
’ہم پاکستانی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ مواصلاتی سروسز فوری طور پر بحال کریں اور میڈیا اور آزاد مبصرین کو علاقے تک رسائی کی اجازت دیں۔‘
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکام پر عائد ہوتی ہے، ’تاہم یہ ذمہ داری کبھی بھی زندگی کے حق اور پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی قیمت پر پوری نہیں کی جانی چاہیے۔‘
کمیشن نے غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
’ہم حکام پر یہ بھی زور دیتے ہیں کہ وہ مظاہروں سے نمٹنے میں تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘
بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ کشمیر میں پیدا ہونے والا بحران بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔
جیسے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ’موجودہ صورتِ حال بدانتظامی اور ناقص حکمرانی کی ایک نمایاں مثال ہے۔‘
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی کشمکش اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک غیر دانشمندانہ کوشش ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اطلاعات تک رسائی پر پابندیوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ’کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ ایسے تشویش ناک حالات دیکھنے کو ملیں گے۔‘
سابق وفاقی وزیر اور تجزیہ کار مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ’غلط پالیسی، غلط حکمتِ عملی اور غلط سوچ کے باعث سنگین غلطیاں کی گئی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی حمایت اور اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی پاکستان کے بیانیے کو نقصان پہنچے گا۔
صحافی ضرار کھوڑو کا خیال ہے کہ یہ معاملہ ’بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے‘ اور اس سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے، نہ کہ اس روایتی ریاستی ردِعمل کی جس سے لوگ پہلے ہی واقف ہیں۔‘
صحافی رضا رومی کہتے ہیں کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل بات چیت اور مذاکرات ہیں۔ جبکہ انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط کہتے ہیں کہ کشمیر کے انتخابات کو چند ماہ کے لیے مؤخر کر دینا چاہیے تھا۔ ’جو لوگ واقعی اس نعرے پر یقین رکھتے ہیں کہ ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘، ان کے لیے موجودہ صورتِ حال انتہائی تکلیف دہ ہے۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔
کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔ کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جو بے نتیجہ رہے جس کے بعد مظاہرین نے مظفرآباد پہنچنے کی کال دی تھی۔
کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور میں الیکشن ہوا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد میں دو اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی۔