لو آئی لینڈ اور ڈیٹنگ: کیا خواتین میں رومانوی تعلق قائم کرنے میں پہل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے؟

اپنے عروج کے دور میں لو آئی لینڈ کو ہر رات تقریباً 50 لاکھ ناظرین دیکھتے تھے۔ اگرچہ اب براہِ راست نشریات کے ناظرین کی تعداد پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن یہ پروگرام اب بھی 16 سے 34 سال عمر کے ناظرین میں آئی ٹی وی کا سب سے مقبول شو ہے۔
A treated image of the Love Island firepit with a image of couple edited on the side
BBC

سنہ 2018 میں نشر ہونے والے برطانوی رئیلٹی شو’لو آئی لینڈ یوکے‘ کے چوتھے سیزن میں میگن بارٹن ہینسن نے پروگرام میں شریک ساتھی ویس نیلسن کو بات چیت کے لیے علیحدہ سے ایک طرف بلایا۔

اس سے چند لمحے پہلے ہی میگن نے ایال بُکر کے ساتھ اپنا تعلق ختم کیا تھا اور تسلیم کیا تھا کہ ان دونوں کے درمیان جسمانی کشش کے علاوہ کوئی بھی چیز ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتی۔

اب وہ ویس کے سامنے بیٹھی تھیں، جو مقابلے کے آغاز سے ہی لورا اینڈرسن کے ساتھ ایک جوڑے کی شکل میں پروگرام کا حصہ تھا۔ میگن نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی نئے رشتے کی شروعات کے لیے ویس کے پہلے قدم اٹھانے کا انتظار نہیں کریں گی۔

میگن نے ویس کو بتایا ’میرے خیال میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ میں واقعی آپ کی جانب کشش محسوس کرتی ہوں اور مجھے لگا کہ اگر میں نے ابھی کچھ نہ کہا تو مجھے اس بات پر بہت زیادہ پچھتاوا ہوگا۔‘

’ لو آئی لینڈ یوکے‘ کی اس قسط کے اختتام تک ناظرین نے میگن کو ایک نیا لقب دے دیا تھا: ’مگی میگن۔‘

ناقدین نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ایک تعلق سے دوسرے تعلق کی طرف بہت جلدی بڑھ گئیں اور انھوں نے مبینہ طور پر ’گرل کوڈ‘ کی خلاف ورزی کی۔ تاہم بعض لوگوں نے ان کی صاف گوئی اور ایمانداری کو سراہا۔

اس وقت میگن کا مؤقف تھا کہ ان کے ساتھ پروگرام میں شریک مردوں کے مقابلے میں مختلف سلوک کیا گیا۔

انہوں نے کہا: ’لوگ یقینی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں... یہ جنسی تعصب ہے۔‘

تاہم ’ لو آئی لینڈ یوکے‘ کی اس قسط کے نشر ہونے کے آٹھ سال بعد میگن اور ویس کے درمیان گفتگو جیسے مناظر اب اتنے غیر معمولی محسوس نہیں ہوتے۔ اس سیزن سے پہلے تک پروگرام کے آغاز میں جوڑیاں بنانے کا عمل ہمیشہ مردوں کے پہلے انتخاب سے شروع ہوتا تھا، لیکن اس سال شو کے قواعد میں تبدیلی کی گئی اور خواتین کو پہلا انتخاب کرنے کا اختیار دیا گیا۔

Megan Barton Hanson and Wes Nelson chat together in the Love Island villa
ITV/Shutterstock
میگن بارٹن ہینسن اور ویس نیلسن

مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں سماجیات کی ماہر ایلیشیا ڈینبی کا کہنا ہے کہ پروگرام میں کی جانے والی یہ تبدیلی معاشرے میں آنے والی ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاس ہے، جہاں ’خواتین اب کسی میں دلچسپی ہونے کی صورت میں خود پہل کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔‘

اپنے عروج کے دور میں لو آئی لینڈ کو ہر رات تقریباً 50 لاکھ ناظرین دیکھتے تھے۔ اگرچہ اب براہِ راست نشریات کے ناظرین کی تعداد پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن یہ پروگرام اب بھی 16 سے 34 سال عمر کے ناظرین میں آئی ٹی وی کا سب سے مقبول شو ہے۔

شیفیلڈ یونیورسٹی میں تعلقات اور پاپولر کلچر پر تحقیق کرنے والی پروفیسر کٹی نکولز کے مطابق لو آئی لینڈ اب ’ایک اہم ثقافتی ذریعہ‘ بن چکا ہے، جو ہمیں ’موجودہ دور کے ڈیٹنگ کے رجحانات اور کلچر پر غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘

سابق پی ٹی (جسمانی تعلیم) کے استاد کائی فیگن نے 2023 کے سیزن میں کامیابی حاصل کرنے کے دوران اپنی موجودہ اہلیہ ثنام ہری نانن سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تجربے نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد سے میری زندگی ایک پریوں کی کہانی کی مانند بن گئی ہے۔ یہ پورا پروگرام محبت کے بارے میں ہے، اسی لیے تو اسے بنایا گیا ہے۔ آپ کو ایک ایسی صورتحال میں رکھا جاتا ہے جہاں محبت میں مبتلا ہو جانا فطری بات بن جاتی ہے۔‘

Sanam Harrinanan and Kai Fagan attend the UK Premiere of 'Wuthering Heights'
Future Publishing/Getty Images
اپنے عروج کے دور میں لو آئی لینڈ کو ہر رات تقریباً 50 لاکھ ناظرین دیکھتے تھے

کائی فیگن کے لیے پروگرام نے وہی کچھ فراہم کیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا: محبت۔ دوسری جانب گھر بیٹھے اسے دیکھنے والے ہزاروں ناظرین کے لیے لو آئی لینڈ ایک ایسی کھڑکی بن گیا ہے جس کے ذریعے وہ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جدید دور میں تعلقات کیسے بنتے ہیں، کس طرح آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور انہیں کس نظر سے سمجھا جاتا ہے۔

لو آئی لینڈ کے ایک اور سیزن کے اختتام کے قریب پہنچنے کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ عالیشان وِلا کے اندر بدلتی ہوئی تعلقات کی یہ نوعیت بیرونی دنیا کے ڈیٹنگ کلچر کے بارے میں ہمیں کیا بتاتی ہے؟ اور کیا خواتین کی جانب سے پہل کرنا واقعی صنفی مساوات کی جانب حقیقی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے؟

بدلتے ہوئے اصول

بیسویں صدی کے بیشتر عرصے میں مرد اور خواتین کے درمیان تعلقات اور ملاقاتوں (ڈیٹنگ) کا ایک ایسا طے شدہ طریقہ رائج تھا، جو پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کے کرداروں کے لیے بھی مانوس محسوس ہوتا تھا۔ عموماً یہ توقع کی جاتی تھی کہ پہلا قدم مرد ہی اٹھائیں گے۔ وہ خواتین کو ملاقات کی دعوت دیتے، ڈیٹ کے اخراجات برداشت کرتے اور بہت سے معاملات میں یہ بھی طے کرتے کہ تعلق آگے کب اور کیسے بڑھے گا۔

1960 کی دہائی تک خواتین کی آزادی کی تحریک نے ان میں سے بہت سے روایتی سماجی اصولوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسی دور میں اریتھا فرینکلن کا گانا ’رِسپیکٹ‘ زیادہ مساوات کا مطالبہ کرنے والی ایک نسل کی علامت بن گیا، جبکہ مانع حمل ذرائع کی وسیع دستیابی نے جنس اور تعلقات کے بارے میں تصورات کو بھی بدل دیا۔

بعد ازاں 2000 کی دہائی میں آن لائن ڈیٹنگ کے فروغ کے ساتھ لاکھوں افراد نے پہلے ویب سائٹس اور پھر ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے ایک دوسرے سے ملنا شروع کیا، جس نے تعلقات بنانے کے روایتی طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کر دی۔

تاہم یہ بات ابھی واضح نہیں کہ آیا ان تبدیلیوں نے واقعی صنفی کرداروں اور توقعات کے بارے میں روایتی تصورات کو بدلنے میں کوئی نمایاں کردار ادا کیا ہے یا نہیں۔

Aretha Franklin performing on a piano during the 'Soul Together' Concert at Madison Square Garden, New York
Getty Images
اریتھا فرینکلن کا 1967 کا مقبول گیت ’رسپیکٹ‘ خواتین کی آزادی کی تحریک اور زیادہ مساوات کے لیے جدوجہد کی ایک علامت بن گیا تھا

2021 تک بھی صورتِ حال مکمل طور پر تبدیل ہوتی نظر نہیں آتی تھی۔ سماجیات کی ماہر ایلن لامونٹ نے مرد و خواتین کے درمیان تعلقات اور ڈیٹنگ سے متعلق 100 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ روایتی ڈیٹنگ کے اصول اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں، جن کے تحت اب بھی عموماً مردوں سے ہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلق کی ابتدا میں پہل کریں گے۔

لو آئی لینڈ پر تجزیاتی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر ایک لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کرنے والی ثقافتی مبصر کوکو کے نزدیک یہ صورتحال ایک اہم فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔

کوکو کے مطابق خواتین مردوں کی جگہ تعلقات میں پہل کرنے والوں کے طور پر نہیں لے رہیں، بلکہ اب انہیں صرف اپنی خواہشات اور پسند کے مطابق عمل کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے۔

کوکو کہتی ہیں ’خواتین نے مردوں کے کردار اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیے بلکہ انہیں صرف اپنی مرضی کے مطابق جینے کی اجازت ملی ہے۔‘

ان کے مطابق خواتین کو آج ’تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں انتخاب کے زیادہ آزادی اور زیادہ مواقع‘ حاصل ہیں۔

لو آئی لینڈ اور تضادات

تاہم ڈینبی کے مطابق اگرچہ خواتین اب تعلقات میں پہل کرنے کے معاملے میں زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صنف کی بنیاد پر قائم طاقت کے روایتی تعلقات ختم ہو گئے ہیں۔

ڈینبی کے مطابق لو آئی لینڈ میں خواتین شرکا کو عموماً اس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ صبر، وفاداری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جبکہ مرد شرکا کو اکثر دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات آزمانے اور نئے روابط قائم کرنے کی زیادہ آزادی دی جاتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب خواتین خود تعلقات کے حصول میں زیادہ فعال کردار ادا کرتی ہیں اور اپنی دلچسپی کا کھل کر اظہار کرتی ہیں، تو انہیں مختلف اور بعض اوقات زیادہ سخت معیار پر پرکھا جاتا ہے۔

’ایسا لگتا ہے جیسے وِلا میں خواتین کو اُس وقت زیادہ سراہا جاتا ہے جب وہ فرمانبردار کردار ادا کریں، کیونکہ جب وہ تعلقات میں زیادہ فعال یا اپنے جذبات کے اظہار میں زیادہ نمایاں کردار اپناتی ہیں تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

رواں سال کے لو آئی لینڈ میں، ایک ایسے اقدام میں جسے شو میں خواتین کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے رجحان کی عکاسی سمجھا جا سکتا ہے، ایلیشیا بیلی نے ایڈن مرفی اور فنلے میڈاک دونوں کو ہائیڈ اوے لے جانے کا انتخاب کیا، جو وِلا کا نجی اور رومانوی کمرہ سمجھا جاتا ہے۔

A shot of Elicia Bailey on Love Islands Aftersun
ITV/Shutterstock
اس سال کے سیریز میں ایلیشیا بیلی مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئیں، جنہوں نے ایڈن مرفی اور فنلے میڈاک دونوں کو ہائیڈاوے آنے کی دعوت دی

لیکن اس اقدام پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ڈینبی کے مطابق یہ خواتین کی جنسیت کے حوالے سے موجود ایک دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سال کے پروگرام میں شامل ایک اور خاتون پریا جسوال کو ایک مرد نے ’بہت زیادہ جنسی رجحان رکھنے والی شخصیت‘ قرار دیا اور ان پر ایڈن مرفی کے پیچھے پڑنے کا الزام لگایا۔

ڈینبی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تبصرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ: ’جب خواتین ڈیٹنگ یا تعلقات میں زیادہ فعال کردار ادا کرتی ہیں تو ان کے بارے میں فیصلے اور تنقید مختلف انداز میں کی جاتی ہے۔‘

نکولز بھی اسی نوعیت کے رجحانات دیکھتی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ لو آئی لینڈ میں ایسی ’تنوع کی جھلکیاں‘ اور ’تبدیلی کے مختصر لمحات‘ ضرور موجود ہوتے ہیں جہاں شرکا روایتی صنفی کرداروں کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق یہ لمحات اکثر عارضی ثابت ہوتے ہیں اور آخرکار شرکا دوبارہ ’روایتی اور متوقع صنفی کرداروں‘ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

نکولز کے مطابق، دوہرے معیار اب بھی موجود ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اگر کوئی خاتون وہی رویہ اختیار کرے جو ایک مرد اختیار کرتا ہے، تو اسے تنقید اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

ان کے بقول اس ردِعمل کی جھلک پروگرام کی تاریخ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

مثال کے طور پر 2022 کے سیزن میں ایکن سو جُلجُول اوغلو کی جے ینگر میں دلچسپی اور اس کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش نے ناظرین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ بعض لوگوں نے ان پر ڈیوائیڈے سانکلیمنٹے سے بے وفائی کا الزام عائد کیا، جن کے ساتھ وہ بعد میں یہ شو جیتنے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ دیگر ناظرین نے ان کے اعتماد اور خودمختاری کو سراہا۔

A close up of Priya Jaswal in Love Island
ITV/Shutterstock
ایلیشیا ڈینبی کا مؤقف ہے کہ لو آئی لینڈ میں جنسی تعلقات اور ڈیٹنگ کے معاملے میں آج بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں مختلف انداز سے پرکھا جاتا ہے

نکولز کے مطابق یہ ردِعمل برطانیہ میں ڈیٹنگ سے متعلق سماجی رویوں کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میرے خیال میں ناظرین عموماً اس وقت زیادہ مثبت ردِعمل دیتے ہیں جب مرد اپنی متوقع صنفی حدود سے ہٹ کر رویہ اختیار کرتے ہیں۔‘

ان کے بقول ایسا شاید اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ناظرین اس قسم کے رویے کی توقع نہیں کرتے۔ تاہم وہ مزید کہتی ہیں ’جب خواتین اسی طرح کے رویے کا مظاہرہ کرتی ہیں تو بعض اوقات اسے اتنی مثبت نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔‘

روایات تبدیل ہوں تو کیا ہوتا ہے؟

طویل عرصے سے لو آئی لینڈ دیکھنے والے اور ٹک ٹاک پر 50,000 سے زائد فالوورز رکھنے والے مبصر طارق فرگوسن کے مطابق حالیہ سیزنز میں سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مرد شرکا پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر فعال دکھائی دینے لگے ہیں۔

طارق فرگوسن کہتے ہیں ’مرد اب ’پیسنجر پرنسس‘ بننا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرام سے بیٹھے رہیں، ٹانگیں پھیلا کر مزے کریں، جبکہ خواتین سارا جتن کریں اور تعلقات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اٹھائیں۔‘

رواں سیزن میں لورینزو الیسی نے جولیا مائخرژاک کے لیے صبح کی کافی بنانے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حالانکہ لو آئی لینڈ میں بہت سے شرکا اسے اپنے ساتھی کے لیے توجہ اور خیال رکھنے کی ایک علامت سمجھتے ہیں۔

یہ معاملہ پروگرام میں ایک تنازع کا سبب بن گیا اور ناظرین کے درمیان بھی اس پر بحث چھڑ گئی۔

فرگوسن کے مطابق اس نوعیت کے واقعات جدید ڈیٹنگ کلچر میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں بعض مرد تعلقات میں پہل کرنے اور قیادت سنبھالنے کے معاملے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

تاہم بعض تحقیقیں بتاتی ہیں کہ مردوں کی یہ ہچکچاہٹ دلچسپی کی کمی کے بجائے اس غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہو سکتی ہے کہ آج کے دور میں ڈیٹنگ کے معاملات کو کس طرح سنبھالا جائے۔

کاسموپولیٹن کے ایک حالیہ سروے میں مردوں نے کہا کہ آن لائن ڈیٹنگ نے انہیں اپنی ظاہری شکل و صورت کے حوالے سے خود کو مسلسل جانچے جانے کا احساس دلایا ہے۔ بعض دیگر مردوں کا کہنا تھا کہ بار بار مسترد کیے جانے اور مناسب میچز نہ ملنے کے تجربے نے ان کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

اس نوعیت کی تحقیقیں اس بات کی تائید کرتی ہیں، جس کے بارے میں کوکو کا خیال ہے کہ وہ لو آئی لینڈ کے وِلا کے اندر اور اس سے باہر، دونوں جگہوں پر وقوع پذیر ہو رہا ہے۔

A shot of Coco sitting on a cow print chair
Coco
کوکو نے ولا سے باہر بھی ڈیٹنگ کی حرکیات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک بڑی تعداد میں مداحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے

کوکو کہتی ہیں ’معاشرے نے درست طور پر خواتین کے لیے امکانات اور مواقع کو وسیع کیا ہے، لیکن ہم نے اتنا وقت اس بات پر صرف نہیں کیا کہ نوجوان مردوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی جائے کہ اس بدلتے ہوئے ماحول میں ان کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ ثقافتی سطح پر ہونے والی گفتگو سماجی تبدیلی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو نے بھی اس غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے خیال میں جس قسم کا ’مینوسفیئر‘ مواد ہم دیکھ رہے ہیں، اس نے خواتین پر اثر ڈالا ہے۔ اس نے انہیں زیادہ محتاط اور دفاعی بنا دیا ہے۔‘

تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ’اچھے مرد اب موجود نہیں ہیں۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ اس کے بجائے مرد اب ڈیٹنگ کے معاملے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ تعلقات سے متعلق سماجی توقعات مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’وہ نہیں چاہتے کہ انہیں کسی ناپسندیدہ یا نامناسب شخص کے طور پر دیکھا جائے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے دوستوں کے سامنے ایسا لگے کہ وہ حد سے زیادہ کوشش کر رہے ہیں۔ وہ خود کو پُرسکون، پراعتماد اور بے فکر انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘

لو آئی لینڈ ہمیں جدید ڈیٹنگ کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

لو آئی لینڈ محض برطانیہ کے بدلتے ہوئے ڈیٹنگ کلچر کی عکاسی کرتا ہے یا اسے خود بھی تشکیل دیتا ہے؟

پروفیسر نکولز کے مطابق یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ پروگرام صرف ناظرین کی تفریح کا ذریعہ نہیں رہا۔ ہر موسمِ گرما میں لاکھوں افراد اسے دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس پر مسلسل بحث ہوتی رہتی ہے، جس کے باعث یہ جدید دور کے تعلقات اور ڈیٹنگ کے بارے میں ہونے والی وسیع تر سماجی گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔

’میرے خیال میں نوجوانوں کے لیے، جو اب بھی لو آئی لینڈ کے سب سے بڑے ناظرین ہیں، یہ پروگرام اس بات کے حوالے سے کچھ سماجی معیارات تشکیل دیتا ہے کہ وہ دوسروں سے کس طرح کے رویے کی توقع کریں یا ان کے نزدیک ڈیٹنگ کا عمل کیسے ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب کائی فیگن کا خیال ہے کہ کم عمر ناظرین بعض اوقات اسکرین پر نظر آنے والے رویوں اور تعلقات سے عملی سبق بھی حاصل کرتے ہیں۔

A wide view of the Love Island villa
ITV/Shutterstock
کائی فیگن کا ماننا ہے کہ یہ پروگرام کم عمر ناظرین کے ڈیٹنگ اور تعلقات کے بارے میں سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہو سکتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ ’کم عمر ناظرین شاید لو آئی لینڈ جیسے پروگراموں سے ڈیٹنگ کے بارے میں کچھ سیکھتے ہوں گے۔‘

تاہم انہوں نے مزید کہا: ’حقیقی زندگی میں آپ کے پاس اس بات پر کہیں زیادہ اختیار ہوتا ہے کہ آپ کسی تعلق کو کیسے آگے بڑھائیں، کیا فیصلے کریں اور کن رکاوٹوں کا سامنا کریں۔‘

’لو آئی لینڈ میں ممکن ہے کہ آپ تین ہفتوں تک کسی کے ساتھ تعلق میں ہوں، اور پھر اچانک آپ کو ایک ایسے چیلنج میں شامل کر دیا جائے جس سے محض ناظرین کی تفریح کے لیے آپ کے تعلق کو غیر محفوظ بنا دیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اگر ایسا کچھ حقیقی زندگی میں ہو رہا ہو تو ضروری نہیں کہ آپ کو اس کا علم ہو۔ لیکن لو آئی لینڈ میں آپ کو ان حالات کا براہِ راست سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

تاہم ان تمام فرقوں کے باوجود، بعض ناظرین اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ لو آئی لینڈ لوگوں کے ڈیٹنگ کے بارے میں تصورات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

فرگوسن کے مطابق بہت سے نوجوان اس پروگرام کو صرف تفریح کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اسے اس بات کی عکاسی سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں تعلقات اور ڈیٹنگ کی دنیا کیسی دکھائی دیتی ہے۔

فرگوسن کے مطابق ’لوگ خصوصاً نوجوان ناظرین، یہ سب دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں: ’اگر لوگوں کے ساتھ یہاں اس طرح کا برتاؤ ہو رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ حقیقی زندگی میں بھی میں اسی قسم کے رویے کی توقع کر سکتا ہوں۔‘

A close up shot of Tareq Ferguson
Tareq Ferguson
طارق فرگوسن کا کہنا ہے کہ کم عمر ناظرین میں سے بعض لو آئی لینڈ کو اس بات کے لیے ایک رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں کہ جدید دور میں ڈیٹنگ کیسی ہونی چاہیے

لیورپول جان مورز یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے لو آئی لینڈ اور تعلقات سے متعلق تعلیم پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض نوجوان محبت اور تعلقات کے طرزِ عمل کے بارے میں تصورات حاصل کرنے کے لیے ریئلٹی ڈیٹنگ پروگراموں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

تاہم تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بیشتر ناظرین اس پروگرام کو بنیادی طور پر تفریح سمجھتے ہیں اور اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ جو کچھ وہ سکرین پر دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ حقیقی زندگی کی مکمل عکاسی کرتا ہو۔

نکولز کے نزدیک لو آئی لینڈ کا اثر ناقابلِ تردید ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ موجودہ ڈیٹنگ کلچر کی بعض نمایاں خصوصیات کی عکاسی بھی کرتا ہے اور انہیں تقویت بھی دیتا ہے، جہاں ہم تعلقات میں عارضی پن اور وابستگی کی کمی کا رجحان دیکھتے ہیں۔‘

مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’یہ ایسی صورتحال ہے جسے آپ ’مرغی پہلے یا انڈا؟‘ والے سوال سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ پروگرام ان رویّوں کو بہت حد تک معمول کا حصہ بنا دیتا ہے۔‘

کیا یہ صرف ایک ڈیٹنگ شو ہے؟

ہر نسل نے اپنے سے پہلے موجود ڈیٹنگ کے اصولوں اور توقعات کو کسی نہ کسی حد تک چیلنج کیا ہے۔ روایتی اور رسمی رشتوں کے طریقۂ کار سے دوری، ڈیٹنگ ایپس کا ظہور اور اب ایک ایسی نسل کا سامنے آنا جو یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھا رہی ہے کہ تعلقات میں پہل کس کو کرنی چاہیے، یہ سب اسی ارتقائی عمل کا حصہ ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ لو آئی لینڈ کو معاشرے کی مکمل اور درست عکاسی نہیں کہا جا سکتا، پھر بھی یہ ایک ایسے ثقافتی سٹیج کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں بدلتے ہوئے صنفی کرداروں اور ابھرتے ہوئے سماجی چیلنجوں کو عوام کے سامنے آزمایا اور زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔

ڈینبی کے نزدیک یہی بات لو آئی لینڈ کو اہم بناتی ہے۔

ڈینبی کہتی ہیں ’جوڑیاں بدلنے، ممکنہ ساتھیوں کے درمیان موازنہ کرنے اور یہ تصور کہ شاید اگلا شخص موجودہ ساتھی سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے، ڈیٹنگ ایپس پر مبنی ثقافت کے بعض کم مثبت پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔‘

تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ ناظرین اس پروگرام کو اندھا دھند قبول نہیں کرتے۔

ان کے مطابق ناظرین جو کچھ دیکھتے ہیں اس پر سوال بھی اٹھاتے ہیں، اس کا تجزیہ بھی کرتے ہیں اور ہر رویے یا رجحان کو لازماً درست نہیں سمجھتے۔

’میرے خیال میں ناظرین محض خاموش تماشائی یا مواد کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے والے صارفین نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ لو آئی لینڈ کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس میں جنس پرستی، طبقاتی امتیاز اور نسل پرستی جیسے مسائل پر بحث کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ پروگرام نہ صرف معاصر ڈیٹنگ ثقافت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US