22 سال کی عمر میں ایک نوجوان کے ایک چھوٹے سے نیک عمل نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں امید کی کرن روشن کر دی۔ محمد سجۃ اللہ نے اپنی جیب خرچ سے ریلوے اسٹیشن پر موجود ایک بھوکے شخص کو کھانا کھلایا، لیکن اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہی ایک قدم آگے چل کر لاکھوں ضرورت مند افراد کی مدد کا ذریعہ بن جائے گا۔
محمد سجۃ اللہ کا کہنا ہے کہ دنیا بدلنے کے لیے ہمیشہ دولت، طاقت یا کسی بڑے منصوبے کی ضرورت نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ سفر کسی بھوکے انسان کو ایک وقت کا کھانا کھلانے جیسے چھوٹے سے عمل سے شروع ہوتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اس جذبے نے ایک باقاعدہ فلاحی کام کی شکل اختیار کر لی۔ آج وہ ہیومینٹی فرسٹ فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں، جو سرکاری اسپتالوں کے باہر ہر روز مفت کھانا فراہم کرتی ہے تاکہ اپنے بیمار عزیزوں کی دیکھ بھال کرنے والے خاندانوں کو بھوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
محمد سجۃ اللہ نے حیدرآباد میں ہیومینٹی اسپتال بھی قائم کیا ہے۔ یہ اسپتال "نہ منافع، نہ نقصان" کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے، جہاں ضرورت مند افراد کو معیاری علاج کم خرچ میں فراہم کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق، "ایک کھانے سے ایک وعدہ شروع ہوا، ایسا وعدہ کہ کوئی بھی خاندان اپنے پیارے کی دیکھ بھال، کھانے یا علاج کے اخراجات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہ ہو۔"
محمد سجۃ اللہ کی یہ کہانی اس بات کی مثال ہے کہ دوسروں کے لیے ہمدردی اور مدد کا جذبہ کسی بڑے وسائل کا محتاج نہیں ہوتا۔ صرف ایک شخص کے پہلا قدم اٹھانے سے بھی معاشرے میں بڑا مثبت فرق پیدا کیا جا سکتا ہے۔