سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کارپوریٹ گورننس کی بہتری اور قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے مختلف کمپنیوں پر پونے پانچ ارب روپے کے بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں۔ فروری سے جون کے دوران التوا میں پڑے 531 کیسز کا فیصلہ سناتے ہوئے پرائیویٹ اور غیر لسٹڈ کمپنیوں پر 4.73 ارب روپے کے جرمانے کیے گئے، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کے 99 کیسز میں 90 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
بورڈ اجلاسوں کے انعقاد میں تاخیر اور خواتین و انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹرز کی عدم تقرری پر لسٹڈ کمپنیوں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی۔ دوسری جانب انشورنس سیکٹر سے متعلق 25 کیسز میں پالیسی ہولڈرز کے کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر اور سالوینسی مسائل پر 20 لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔ ایس ای سی پی نے سرمایہ کاری کی جعلی اسکیمیں چلانے والی 3 کمپنیوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ان پر 4 ارب روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا۔
علاوہ ازیں، کمپنیز ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے خلاف 117 آرڈرز جاری کیے گئے، جبکہ ٹیک اوور قوانین اور اینٹی منی لانڈرنگ (AML) ریگولیشنز کی خلاف ورزی پر 69 کیسز میں 16 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ اسی طرح اے ایم ایل قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر 53 این بی ایف سیز کو 14 لاکھ روپے کا جرمانہ کیا گیا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں شفافیت اور اقلیتی سرمایہ کاروں کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیح ہے، اور مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے قوانین کا بلا تفریق اور مؤثر نفاذ انتہائی ناگزیر ہے۔