کراچی میں ایک 25 سالہ نوجوان تاجر میر علی رضا کے اغوا اور قتل کا معمہ اب تک حل نہیں ہو پایا ہے۔
کراچی میں ایک 25 سالہ نوجوان تاجر میر علی رضا کے اغوا اور قتل کا معمہ اب تک حل نہیں ہو پایا ہے۔
یہ واقعہ 28 جولائی کو اس وقت شروع ہوا تھا جب میر علی رضا اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔
لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد بدھ کے دن پولیس کو ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔
بی بی سی نے اس حوالے سے پولیس اور میر علی رضا کے اہلخانہ سے بات چیت کی ہے۔
’دس منٹ میں واپس آتا ہوں‘
میر رضا علی کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ تھے جبکہ وافلکس کے بانی بھی تھے۔
ان کے والد میر حسین علی کی جانب سے کراچی کے فیروز آباد تھانے میں دائر کی جانے والے مقدمہ کی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ان کا 25 سالہ بیٹا 28 جولائی کی شب اپنی دکان وافلکس بہادر آباد چورنگی سے اپنی گاڑی پر گھر آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق میر رضا علی نے اپنی والدہ کو تقریباً چار بجے رات کو بتایا کہ وہ ’دس منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے۔‘
مدعی کے مطابق میر رضا علی کا موبائل فون ان کے پاس ہی تھا لیکن کافی دیر بعد جب بیٹا واپس نہیں آیا تو ان کی بیگم نے بیٹے کے نمبر پر کال کی جو بند تھا۔
میر رضا علی کی والدہ نے مدعی کو نیند سے اٹھا کر بتایا جس کے بعد وہ اپنے طور پر بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران انھوں نے مددگار 15 پر بھی اطلاع دی تھی۔
کپڑوں سے شناخت
ایک روز بعد پولیس کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔ لیکن اس لاش کی شناخت آسان نہیں تھی۔
ایس ایچ او کامران قریشی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا۔‘
تاہم پولیس کے مطابق ’جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔‘
پولیس کے مطابق مقتول کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔
’میرا غرور تو چلا گیا‘
میر حسین علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ’دو ہی بچے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کسی سے دشمنی، لین دین کے معاملے کا تعلق ہے، تو ایسا بالکل کچھ نہیں تھا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘
ان کے مطابق ’جس دن ایف آئی آرکٹی، اس کے اگلے ہی دن بچے کی باڈی مل گئی۔‘
و کہتے ہیں کہ ’لاش بھی تھانے کو ملی تھی اور انھوں نے اسے نامعلوم کے طور پر درج کیا تھا۔ اب اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ کل بچے کی تدفین تھی اور آج اس کا سوئم ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پڑھتا تھا اور مارکیٹنگ کے شعبے کا آنر سٹوڈنٹ تھا۔ ’وہ ایک بہت ہی لائق اور قابل بچہ تھا۔‘