اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام نہیں لگایا، لیکن سائبر ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ حملے کی ہدایت تہران سے کی گئی۔

گذشتہ ہفتے بہت سے لوگ یہ خبر سن کر حیران رہ گئے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے 30 سے زیادہ آبی نظام ایک ’مربوط سائبر حملے‘ کا نشانہ بنے ہیں۔
چند روز بعد ایف بی آئی نے خبردار کیا کہ سات ریاستوں میں سائبر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس نے ’آبی نظاموں کو متاثر کیا۔‘
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکی سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سیسا) منی سوٹا میں ہونے والے حملوں کے ممکنہ ایرانی تعلق کی تحقیقات کر رہی ہے۔
سیسا نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام نہیں لگایا، لیکن سائبر ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ حملے کی ہدایت تہران سے کی گئی۔
کیا ایران ان حملوں کے پیچھے ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق انسداد دہشت گردی مشیر مورگن رائٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نوعیت کے حملوں کا الزام عموماً شمالی کوریا یا ایران پر عائد کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’اور اس وقت ہمارا تنازع کس کے ساتھ ہے؟ ایران کے ساتھ۔ چنانچہ وہ ان ممالک کی فہرست میں سرفہرست آ جاتا ہے جو ایسا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ایسا کرنے کی خواہش بھی۔‘
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق، امریکی تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا ہیکرز نے مزید اختلاف اور کشیدگی پیدا کرنے کے لیے، جو امریکہ اور ایران کی جنگ کے تناظر میں موجود ہے، خود کو ایران سے وابستہ ظاہر تو نہیں کیا۔
وائٹ ہاؤس کے سابق قائم مقام نائب نیشنل سائبر ڈائریکٹر جیک براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ خود بھی انفارمیشن جنگ میں مصروف ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ ایران نے امریکی آبی ڈھانچے میں کوئی چھڑ چھاڑ کی ہے تو وہ اسے تسلیم نہ کرے۔
گذشتہ جمعے کابینہ کے اجلاس میں ریپبلکن صدر ٹرمپ نے پانی کے نظام پر حملے کا ذمہ دار منی سوٹا کے ’انتہائی نااہل‘ حکام کو قرار دیا، جن میں گورنر ٹم والز بھی شامل تھے۔
ڈیموکریٹ گورنر والز نے جواب دیا: ’ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر ریاستیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔‘
ایران نے ابھی تک ان واقعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم تہران برسوں کے دوران اپنے اوپر لگنے والے دیگر سائبر حملوں کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ ان میں آبی نظام، صدارتی انتخابی مہمات، ہسپتال اور 2014 میں لاس ویگاس کی ایک کیسینو کمپنی شامل ہیں۔
2016 میں بینکوں اور نیویارک شہر کے باہر واقع ایک ڈیم کو نشانہ بنانے کے الزام کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ کو ایسے الزامات ثابت کرنے چاہییں۔
اس وقت سرکاری ٹی وی پر ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا تھا کہ ایران نے ’کبھی بھی سائبر سپیس میں کسی خطرناک اقدام کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا اور نہ ہی ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔‘

کیا یہ ایران کے طرزِ عمل سے مطابقت رکھتا ہے؟
ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی دستاویزی تاریخ موجود ہے۔
انھوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایران کی حمایت کرنے والے مگر ملک سے باہر موجود گروہ بھی اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
رائٹ نے کہا: ’اس سے ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اگر تمام حملے اور گروہ ایران ہی سے سامنے آ رہے ہوں تو آپ انھیں تقریباً یقین کے ساتھ ایران سے جوڑ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس طرح کی حکمت عملی بدنیت عناصر کو انکار کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
ان کے بقول: ’وہ یہ کام اس لیے کرتے ہیں تاکہ براہِ راست ان کا تعلق ان حملوں سے نہ جوڑا جا سکے۔‘
بی بی سی ویریفائی نے معلوم کیا ہے کہ اس سال امریکہ اور اسرائیل کے خلاف زیادہ تر ایرانی سائبر حملے ہنڈالا نامی ایک گروہ نے کیے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے اس گروہ کو ایران سے منسلک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس و سلامتی (ایم او آئی ایس) کی جانب سے کام کر رہا ہے۔
ایران کی جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے ہنڈالا پر بعض ذاتی معلومات اور ای میلز تک رسائی حاصل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
بی بی سی ویریفائی کے مطابق امریکہ میں ہنڈالا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا آخری سائبر حملہ جون کے وسط میں ہوا تھا۔
ہیکرز نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایرانی آبی ڈھانچے پر امریکی حملے کے جواب میں کیلیفورنیا کی ایک آبی تنصیب میں دراندازی کی۔
ایران سے منسلک سمجھے جانے والے دیگر نمایاں ہیکنگ آپریشنز درج ذیل ہیں:
2026: محکمہ انصاف نے ہنڈالا کی ایک ہیکنگ کارروائی ناکام بنائی جس کا ہدف طبی ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی تھی۔ اس کارروائی میں اسرائیلی حکومت اور فوج کے ارکان سے متعلق حساس معلومات بھی جاری کی گئی تھیں۔
2024: ایران پر امریکی صدارتی انتخابی مہمات میں ہیکنگ کا الزام عائد کیا گیا تاکہ ’اختلافات کو ہوا دی جا سکے، امریکی انتخابی عمل پر اعتماد کو کمزور کیا جا سکے، اور حکام سے متعلق معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کی جا سکیں۔‘
2023: سیسا کے مطابق امریکی پانی اور گندے پانی کے نظاموں کو ایک ایسے گروہ نے ہیک کیا جس پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہونے کا الزام تھا۔ یہ حملے 2023 اور بعد ازاں 2024 میں بھی ہوئے۔ اس واقعے کے باعث پنسلوانیا کے دو قصبوں میں پانی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے والا نظام عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
2020: دو ایرانی شہریوں پر صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے امریکی ووٹروں کی خفیہ معلومات حاصل کیں اور لوگوں کو ٹرمپ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے۔
2017: ایران میں موجود ہیکرز پر مقامی حکومتوں، سکولوں، صحت عامہ کے اداروں اور مالیاتی اداروں کو برسوں تک رینسم ویئر حملوں کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا، اگرچہ سیسا نے کہا تھا کہ اس گروہ کی سرگرمیاں ’غالباً ایرانی حکومت کی منظوری سے نہیں تھیں۔‘

کیا اس سے پانی کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے؟
ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ہیکس کا سب سے بڑا خطرہ پانی کی فراہمی کو براہِ راست نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام کے اس اعتماد کو کمزور کرنا ہے کہ ان کا پانی محفوظ ہے۔
براؤن نے کہا: ’وہ اس اعتماد پر حملہ کر رہے ہیں کہ ہماری حکومت بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک جنگ کے معاملے پر گہری تقسیم کا شکار ہو۔‘
ماہرین نے مزید کہا کہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں ایرانی ہیکرز امریکی آبی فراہمی کو واقعی خطرے میں ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں۔
رائٹ کے مطابق، بدنیتی پر مبنی کارروائیاں کیمیکلز کی نقصان دہ تقسیم کا سبب بن سکتی ہیں، پانی کی فراہمی بند کر سکتی ہیں یا سازوسامان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
سیسا اور امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی مشترکہ طور پر کہہ چکی ہیں کہ سائبر حملے آبی سہولیات کے لیے ’سنگین تشویش‘ کا باعث ہیں۔
امریکہ میں عوامی استعمال کے پینے کے پانی کے 152,000 نظام اور گندے پانی کی صفائی کی 16,000 سے زیادہ تنصیبات موجود ہیں۔
رائٹ نے کہا: ’اگر آپ کسی قوم کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں تو دو چیزوں کو نشانہ بناتے ہیں: بجلی اور پانی۔‘
ان حملوں کی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے؟
رائٹ نے کہا کہ پانی اور گندے پانی کے نظاموں میں استعمال ہونے والے بہت سے آلات سائبر حملوں کا آسان ہدف ہیں کیونکہ یا تو بنیادی ڈھانچہ پرانا ہے یا ٹیکنالوجی فرسودہ ہو چکی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا کہ جب تک ان نظاموں کی سکیورٹی بہتر نہیں بنائی جاتی، امریکہ کو قومی سلامتی کے اس خطرے کا سامنا رہے گا۔
امریکہ میں پانی کی فراہمی کے بیشتر ادارے سرکاری انتظام کی نگرانی میں ہیں، جبکہ دیگر زیادہ تر اہم بنیادی ڈھانچے نجی شعبے کے زیرِ انتظام ہیں۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو اقدام کرنا ہو گا۔
سیسا نے اس خطرے کو کم سے کم کرنے کی امید میں امریکہ بھر کی حکومتوں کو مختلف بہتریوں کی سفارش کی ہے۔
ہیکنگ کی کوششوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے ایجنسی نے سفارش کی ہے کہ آبی نظاموں کو جتنی جلد ممکن ہو انٹرنیٹ سے منقطع کیا جائے اور پاس ورڈز تبدیل کیے جائیں۔
اضافی رپورٹنگ: شیان سرداری زادہ، بی بی سی ویریفائی