میرے خیال میں والدین کو اپنے بچوں کو اس وقت تک شادی نہیں کرنی چاہیے جب تک وہ اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو جائیں۔ شادی کے بعد بھی اگر 40 یا 50 سال کا شخص والدین کے سہارے زندگی گزار رہا ہو تو یہ درست روایت نہیں، ہمیں بچوں کو خودمختار بنانا ہوگا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں خود اٹھا سکیں۔
پاکستان کی معروف میزبان ندا یاسر نے شادی شدہ مردوں کی مالی خودمختاری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی ہر مرحلے پر مالی کفالت کرنے کے بجائے انہیں خود کمانے اور ذمہ داریاں نبھانے کے قابل بنانا چاہیے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران ندا یاسر نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان کم عمری سے ہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جوانی میں اپنی تعلیم، رہائش اور دیگر اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، جبکہ ہمارے معاشرے میں کئی افراد شادی کے بعد بھی والدین پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کم عمر بچے گھر کے معاشی بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کئی بالغ افراد برسوں تک والدین کی آمدن پر زندگی گزارتے ہیں، جو ایک متوازن طرزِ عمل نہیں۔ ان کے مطابق اس سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان عملی زندگی کے لیے بہتر انداز میں تیار ہو سکیں۔
ندا یاسر نے والدین پر زور دیا کہ صرف تعلیم دلانا یا مالی ضروریات پوری کرنا کافی نہیں بلکہ بچوں میں خوداعتمادی، ذمہ داری اور خود کفالت پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے اور اخراجات خود سنبھال سکیں۔