کراچی میں ڈیڑھ سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے پر شوبز شخصیات بھی غم و غصے سے بھر اٹھیں۔ مختلف اداکاروں اور اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پر اس افسوسناک سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
مشی خان نے کہا، "خدا کے لیے یہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ایک 17 سالہ لڑکا ڈیڑھ سالہ بچی کو بازار لے جانے کے بہانے اپنے ساتھ لے گیا اور اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ بچی کو تشویشناک حالت میں واپس لایا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئی۔ یہ ناقابلِ یقین ہے کہ ایسے جرائم صرف اس لیے بڑھ رہے ہیں کیونکہ مجرموں کو سزا نہیں ملتی۔ ایسے درندہ صفت مجرموں کو سرِعام سخت سزا دی جانی چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ سندھ حکومت اس معاملے پر مؤثر کارروائی کرے گی۔"
مریم نفیس نے اپنے پیغام میں والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کسی کے بھی ساتھ تنہا نہ بھیجیں اور ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط برتیں۔
احسن خان نے بھی اس افسوسناک واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں سندھ حکومت کو ٹیگ کیا اور انصاف کی اپیل کی۔
ایمن خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا، "آخر ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے درندہ صفت مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔"
کراچی میں پیش آنے والے اس دل خراش واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ سالہ بچی کو مبینہ طور پر اس کے 17 سالہ کزن نے سیر کرانے کے بہانے گھر سے باہر لے جایا۔ کچھ دیر بعد بچی کو تشویشناک حالت میں واپس لایا گیا، جہاں اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکی۔
پولیس کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی مبینہ زیادتی کے شواہد سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ حتمی حقائق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور کم عمر بچوں کو کسی کے ساتھ بھی تنہا نہ بھیجا جائے۔ کئی افراد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوعمر بچوں کو بچپن ہی سے ذاتی حدود، احترام اور چھوٹے بچوں کے ساتھ مناسب رویے کی تعلیم دی جانی چاہیے، جبکہ بعض صارفین نے کہا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات صرف اجنبیوں ہی نہیں بلکہ بعض اوقات قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں بھی پیش آتے ہیں، اس لیے ہر صورت میں بچوں کی حفاظت اور نگرانی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔