"شروع میں میری خواہش تھی کہ عمران اشرف میرے کیریئر میں مدد کریں، لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا اپنی پہچان خود بناؤ"
اداکار عباس اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ابتدا میں وہ چاہتے تھے کہ ان کے بڑے بھائی اور معروف اداکار عمران اشرف ان کے لیے راستہ آسان بنائیں، مگر عمران اشرف نے انہیں کسی قسم کی سفارش یا سہولت دینے کے بجائے اپنی محنت سے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
ایک انٹرویو میں عباس اشرف نے بتایا کہ عمران اشرف نے ان سے کہا کہ اگر وہ واقعی اس شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی صلاحیت اور محنت کے بل بوتے پر مقام حاصل کریں۔ عباس کے مطابق انہوں نے بھائی کے مشورے پر عمل کیا اور آج جو بھی مقام حاصل کیا ہے، وہ اپنی جدوجہد کی بدولت ہے۔
عباس اشرف نے کہا کہ اگرچہ عمران اشرف نے انہیں کام دلوانے میں مدد نہیں کی، تاہم اداکاری کے حوالے سے ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرامہ "ایک محبت اور" میں فارس کے کردار کے لیے عمران اشرف نے ان کی بھرپور معاونت کی۔ کردار کے مطابق مونچھیں رکھنے کا مشورہ دیا، دو اسٹائلسٹس سے ان کا نیا لک تیار کروایا، لباس کے انتخاب میں مدد کی اور کردار کو بہتر انداز میں نبھانے کے لیے قیمتی مشورے بھی دیے۔
اداکار نے اپنے بڑے بھائی سے تعلق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بڑا بھائی والد کے بعد سب سے مضبوط سہارا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں بڑے بھائی کی موجودگی انسان کو اعتماد اور حوصلہ دیتی ہے۔
عباس اشرف نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ ان کی والدہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ اداکاری کے شعبے میں آئیں، حالانکہ عمران اشرف پہلے ہی شوبز انڈسٹری کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والدہ نے مکہ مکرمہ میں دعا بھی کی تھی کہ وہ اداکار نہ بنیں، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ آخرکار اسی شعبے کا حصہ بن گئے۔