بھارت میں آوارہ کتوں کے بڑھتے مسئلے نے شہریوں کو اس قدر پریشان کر دیا کہ ایک شخص نے حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے منفرد احتجاج کا طریقہ اختیار کرلیا۔ ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا میں ایک شہری کتے کا ماسک پہن کر اور اسی انداز میں سرکاری عوامی سماعت میں پہنچ گیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد مسلسل مسئلہ بنی ہوئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے اقدامات کے باوجود حالات بہتر نہیں ہوئے۔ اس کے منفرد حلیے نے سرکاری دفتر میں موجود افراد کو حیران کردیا، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ابتدا میں اسے اندر جانے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔
بعد ازاں اپوزیشن رہنماؤں کی مداخلت پر اسے عوامی سماعت میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ احتجاج میں موجود میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران آوارہ کتوں کی نس بندی پر تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود مسئلہ برقرار ہے۔
دیپک راٹھور کے مطابق اسی عرصے میں شہر میں کتوں کے کاٹنے کے 13 ہزار 225 واقعات رپورٹ ہوئے، جن سے بچے، خواتین اور بزرگ خاص طور پر متاثر اور خوفزدہ ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی مہم، اس پر خرچ ہونے والی رقم، ٹینڈرز اور متعلقہ ایجنسی کے کام کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ان کا سوال تھا کہ اگر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے ہیں تو پھر شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں آئی؟
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مظاہرین کو معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔