امریکی ریاست نیوجرسی کے ایک ساحل پر 11 سالہ بچے نے ایسی حیران کن دریافت کی جس نے اس کی عام چھٹیوں کو یادگار بنا دیا۔ بو بوورز اپنے والد مائیک براؤن کے ساتھ سی آئیل سٹی کے ساحل پر سیپیاں تلاش کر رہا تھا کہ اسے چٹانوں کے درمیان ایک غیر معمولی چیز نظر آئی۔
مائیک براؤن نے بتایا کہ انہوں نے بھی چٹانوں کے درمیان کوئی چیز دیکھی تھی، تاہم ہاتھ نہ پہنچنے پر اپنے بیٹے کو وہاں بھیجا۔ ابتدا میں بو نے چٹانوں کے درمیان ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاہٹ محسوس کی، لیکن ہمت کرکے اس نے جو چیز نکالی وہ ایک قدیم شارک کا فوسل شدہ دانت نکلا۔
بعد میں نیو جرسی اسٹیٹ میوزیم میں معائنے کے دوران تصدیق ہوئی کہ یہ دانت میگا لوڈون نامی دیوہیکل شارک کا ہے۔ دانت تقریباً بچے کی ہتھیلی جتنا بڑا ہے اور حیرت انگیز طور پر اچھی حالت میں محفوظ ہے۔
میگا لوڈون کو سمندری تاریخ کے سب سے بڑے شکاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شارک تقریباً 16 میٹر تک لمبی ہوسکتی تھی، جو موجودہ گریٹ وائٹ شارک سے تقریباً دو سے تین گنا زیادہ جسامت بنتی ہے۔ اس کے طاقتور جبڑوں اور جسامت نے اسے اپنے دور کے سمندروں کا خطرناک ترین شکاری بنا دیا تھا۔
سائنس دانوں کے مطابق میگا لوڈون تقریباً 40 لاکھ سال قبل دنیا کے سمندروں سے ختم ہوگئی۔ اس کے فوسل دانت آج بھی مختلف ساحلی علاقوں سے ملتے رہتے ہیں، جو اس قدیم مخلوق کی جسامت اور طاقت کا اندازہ فراہم کرتے ہیں۔
بو کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہی نہیں آیا کہ اس کے ہاتھ آنے والا دانت لاکھوں سال پرانا ہے۔ خاندان کے مطابق وہ صرف چھٹیاں گزارنے اور ساحل پر سیپیاں جمع کرنے آیا تھا، اس لیے ایسی دریافت کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
چونکہ یہ دانت ایک عوامی ساحل سے ملا، اس لیے خاندان کو اسے اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ نیوجرسی میں اس سے قبل میگا لوڈون کے ایسے پانچ دانت دریافت ہوچکے ہیں، تاہم اس فوسل کی اچھی حالت اسے خاص بنا رہی ہے۔