بیوی کے لیے کھانا بنانا، کپڑے استری کرنا، کچن صاف کرنا اور اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنا، ایک شخص کے لیے یہ سب کام کسی شرمندگی کی بات نہیں بلکہ اپنے خاندان کے لیے ذمہ داری نبھانے کا حصہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی روزمرہ زندگی کی ویڈیوز شیئر کرنے والے یہ ہاؤس ہسبینڈ صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جب لوگوں نے ان کے گھر کے معمولات کو ’رن مُریدی‘ کا نام دینا شروع کیا۔
ان کی اہلیہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کر رہی ہیں، جبکہ وہ خود گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کے لیے کھانا بناتے ہیں، ان کے کپڑے استری کرتے ہیں، کچن صاف کرتے ہیں اور گھر کے دیگر امور انجام دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کی دیکھ بھال اور روزمرہ ضروریات کی ذمہ داری بھی وہ خود سنبھالتے ہیں۔
وہ اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اس کی پرورش میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ذمہ داریاں کسی ’قربانی‘ سے زیادہ اپنے خاندان کے ساتھ محبت اور وابستگی کا اظہار ہیں۔
تاہم سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز پر بعض صارفین طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے انہیں ’رن مُرید‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب وہ اپنی اہلیہ کے لیے کھانا بناتے ہیں تو لوگ سوال اٹھاتے ہیں، کپڑے استری کرنے پر مذاق بنایا جاتا ہے اور کچن صاف کرنے کو بھی ’رن مُریدی‘ کہا جاتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ گھر کے کام کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھنا ضروری نہیں۔ اگر ایک شوہر گھر کے کام سنبھال رہا ہے اور اس کی اہلیہ ملازمت کے ذریعے خاندان کی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے تو اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر کا کہنا تھا کہ اگر اہلیہ اور بچوں کی خوشی کے لیے
ان کی کہانی کا ایک جذباتی پہلو یہ بھی ہے کہ جب ان کی اہلیہ کام پر ہوتی ہیں تو وہ اپنی بیٹی کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ بیٹی کی دیکھ بھال، گھر سنبھالنا اور اہلیہ کا ساتھ دینا ان کے روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک شخص کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تصور پر بھی سوال اٹھاتا ہے جہاں مرد کے گھر کا کام کرنے کو فوراً طنز کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
کیا بیوی کے لیے کھانا بنانا محبت ہے یا ’رن مُریدی‘؟ کیا اپنی بیٹی کی پرورش میں باپ کا بھرپور کردار ادا کرنا کمزوری ہے؟ یا پھر ایک خاندان کو مل کر سنبھالنا ہی اصل ذمہ داری ہے؟
شاید اس شخص کی کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ وہ لوگوں کے طعنوں سے زیادہ اپنے گھر والوں کی ضرورت کو اہمیت دے رہے ہیں۔ کیونکہ ایک باپ کے لیے اپنی بیٹی کی مسکراہٹ اور ایک شوہر کے لیے اپنی شریکِ حیات کا سکون، سوشل میڈیا کے کسی بھی طنزیہ کمنٹ سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔