چین میں فلم سازی کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والے ماں بیٹے کی پانچ سال کی محنت سے تیار ہونے والی اینیمیٹڈ فلم ’نیو لائی‘ نے ابتدائی ناکامی کے بعد اچانک غیر معمولی مقبولیت حاصل کر کے لاکھوں ڈالر کا بزنس کر لیا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انٹیریئر ڈیزائنر شن یومینگ نے اپنی 60 سالہ والدہ سن لی فینگ کے ساتھ مل کر اس فلم پر کام کیا۔ والدہ نے بیٹے کی مدد کے لیے خود اسکرین رائٹنگ سیکھی اور فلم کا اختتامی گانا بھی تحریر کیا۔ دونوں نے تحریر، ہدایت کاری، اینیمیشن، ایڈیٹنگ اور صداکاری سمیت تمام مراحل خود طے کیے۔
5 اگست کو بغیر کسی تشہیری بجٹ، ٹریلر یا مناسب پوسٹرز کے 245 سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے پہلے نو دنوں میں صرف 236 ٹکٹ فروخت ہوئے اور محض 7,169 یوآن کی آمدنی ہوئی۔ 14 اگست تک حالت یہ ہو گئی کہ پورے ملک میں صرف چار سینما گھروں نے اسے اپنے پاس برقرار رکھا۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر کسی صارف کی جانب سے شیئر کیا گیا فلم کا ایک کلپ وائرل ہو گیا، جس سے ناظرین میں شدید تجسس پیدا ہوا اور سینما گھروں نے شوز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کر دیا۔ روزانہ کی اسکریننگز 6 سے بڑھ کر 11,959 تک پہنچ گئیں، جبکہ فلم کی مجموعی آمدنی 24.5 ملین یوآن (تقریباً 3.4 ملین ڈالر) تک جا پہنچی۔
درحقیقت فلم میں روایتی معیار اور محنت کی کمی ہی اس کا سب سے بڑا مرکزِ توجہ بن گئی۔ ناظرین اس غیر معمولی اینیمیشن کو خود دیکھنے سینما پہنچے اور بغیر کسی مارکیٹنگ بجٹ کے وائرل ہونے والا یہی تجسس اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بن گیا۔ اس وقت اس فلم کو 2026ء کی نمایاں اینیمیٹڈ فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس کے اگلے سیکوئل پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔