انگلینڈ کا مجموعی سکور کم از کم قابلِ دفاع دکھائی دیتا ہے، تاہم اگر پاکستان اچھی بیٹنگ کرے تو اسے میچ میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ میچ ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
لارڈز کے میدان میں پاکستان کی ٹیم سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ پہلے ٹیسٹ میچ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائے گی اور بابر اعظم کی کپتانی میں پہلے دن ایسا ہی ہوا جب پاکستان کا بولنگ اٹیک انگلینڈ کے لیے شروع میں ہی مشکلات پیدا کرتا دکھائی دیا۔
جیمی سمتھ اور جورڈن کاکس نے مشکل حالات اور پاکستان کی بہتر کارکردگی کا مقابلہ کرتے ہوئے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن انگلینڈ کو ایک مسابقتی سکور تک پہنچایا۔
لارڈز میں نم اور تاریک موسم میں سمتھ نے 61 اور کاکس نے 55 رنز بنائے، جس کی بدولت انگلینڈ پہلے دن کے اختتام پر 248-9 تک پہنچ گیا۔ بارش کی وجہ سے کھیل تاخیر کا شکار ہوا جبکہ خراب روشنی کے باعث دن کا کھیل جلد ختم کرنا پڑا۔
انگلینڈ کے اس سکور کی اصل اہمیت وقت کے ساتھ ہی معلوم ہوگی۔ لارڈز کی پچ جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ کی جیت والے میچ میں استعمال ہونے والی خراب پچ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے، جبکہ اگلے تین دنوں میں مزید بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
ممکن ہے کہ انگلینڈ نے خود کو ایسی پوزیشن میں پہنچا لیا ہو جہاں سے وہ یہ میچ اور سیریز جیت سکتا ہے، جو برائیڈن کارس تنازع کے باعث پریشان کن ہفتے کے بعد ایک کامیاب اختتام ہوگا۔
کاکس نے اپنے صرف تیسرے ٹیسٹ میں ایک بار پھر متاثر کن کھیل پیش کیا۔ انھوں نے سمتھ کے ساتھ چھٹی وکٹ کے لیے 67 رنز کی شراکت قائم کی، جبکہ سمتھ نے روانی سے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو انتہائی ضروری نصف سنچری فراہم کی۔
دن کے اختتام پر گس اٹکنسن کی ناقابل شکست 34 رنز کی تیز اننگز نے انگلینڈ کو مزید تقویت دی، جبکہ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے چار اور محمد علی نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ اگر پاکستان نے تین کیچ نہ چھوڑے ہوتے توٹیم کی پوزیشن مزید بہتر ہو سکتی تھی۔
تاریک آسمان اور فلڈ لائٹس کے روشن ہونے کے باوجود، انگلینڈ غالباً دن ختم ہونے سے پہلے پاکستان کو بیٹنگ کے لیے بلانا چاہتا تھا، لیکن خراب روشنی کے باعث کھیل ختم کرنا پڑا۔

2024 کے بعد اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے کا موقع انگلینڈ کو ایک اور میدان سے باہر پیش آنے والے شراب نوشی کے واقعے کے بعد ملا ہے۔
کارس کو ہفتے کی رات ڈربی میں باہر جانے کے بعد اس ٹیسٹ کے لیے سکواڈ سے نکال دیا گیا تھا، جہاں پولیس مبینہ حملے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کارس اس وقت گلوسٹرشائر کے خلاف جاری کاؤنٹی چیمپئن شپ میچ میں ڈرہم کی ٹیم کا حصہ ہیں۔
جو روٹ کی بطور کپتان پہلی ٹیسٹ واپسی میں انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں پاکستان کو باآسانی شکست دی تھی۔ یہ تقریباً یقینی تھا کہ پاکستان لیڈز میں اپنی کارکردگی کے مقابلے میں بہتر کھیل پیش کرے گا، کیونکہ سیاحتی ٹیم شاید اس سے زیادہ خراب نہیں کھیل سکتی تھی۔
پاکستان کو کپتان بابر اعظم کی ہاتھ کی انجری کے بعد واپسی سے تقویت ملی، جو لیڈز میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئے۔ بابر کا پہلا اثر یہ تھا کہ انھوں نے ٹاس جیتا، اور بالآخر کھیل برطانوی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 20 منٹ پر شروع ہوا۔

پاکستان کے تین فاسٹ میڈیم بولرز اس موسم اور حالات کے لیے موزوں تھے اور انھوں نے گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔
انگلینڈ بعض اوقات اپنی غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتا رہا، جیسے ڈین لارنس کا رن آؤٹ ہونا اور ہیری بروک کا ڈرائیو کھیلتے ہوئے بولڈ ہونا، جبکہ بعض مواقع پر وہ بدقسمت بھی رہا، جیسے ایمیلیو گے کا لیگ سائیڈ پر کیچ آؤٹ ہونا۔ زیادہ تر مواقع پر بلے بازوں نے صبر اور محنت سے بیٹنگ کی، جو روٹ کی دوسری کپتانی کے آغاز میں ایک اور حوصلہ افزا علامت تھی۔
نتیجے میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا، جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت کشمکش رہی اور کوئی بھی فریق واضح طور پر برتری حاصل نہیں کر سکا۔
انگلینڈ کا مجموعی سکور کم از کم قابلِ دفاع دکھائی دیتا ہے، تاہم اگر پاکستان اچھی بیٹنگ کرے تو اسے میچ میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ میچ ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی، لیکن وہ اس سے بھی بہتر کر سکتا تھا
یہ سیریز میں واپسی کے لیے پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع تھا۔ اگر انگلینڈ ٹاس جیت جاتا تو یہ اندازہ لگانا مناسب ہوتا کہ میزبان ٹیم کے بولرز مہمان بلے بازوں کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دیتے، کیونکہ پاکستان کی بیٹنگ حالیہ عرصے میں کمزور دکھائی دی ہے۔
عباس شاندار رہے۔ ایک مرحلے پر انھوں نے صرف 16 گیندوں کے اندر چار رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جن میں ایمیلیو گے، بین ڈکٹ اور جو روٹ شامل تھے۔
انھیں محمد علی کی بھرپور حمایت حاصل رہی، جن کی تینوں وکٹیں بولڈ کی صورت میں آئیں۔ لارڈز کی ڈھلوان سے گیند کے اندر آنے کی وجہ سے ہیری بروک، سمتھ اور اولی رابنسن ان کا شکار بنے۔
پاکستان کی جانب سے چھوڑے گئے دو کیچ زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہوئے۔ امام الحق نے تھرڈ سلپ پر جو روٹ کا ایک آسان کیچ اس وقت چھوڑا جب وہ صرف ایک رن پر تھے، تاہم انگلش کپتان بعد میں صرف چار رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ شان مسعود نے مڈ وکٹ پر ڈین لارنس کا ایک آسان کیچ اس وقت چھوڑا جب ان کا انفرادی سکور 10 تھا، لیکن بعد میں اسی فیلڈر نے لارنس کو 17 رنز پر رن آؤٹ کرکے اپنی غلطی کا ازالہ کیا۔
سب سے زیادہ مہنگی غلطی رضوان کی ثابت ہوئی۔ یہ اس بات کی عکاسی بھی تھی کہ وکٹ کیپر اور سلپ میں کھڑے فیلڈرز دن کے بیشتر حصے میں شاید بہت زیادہ پیچھے کھڑے تھے، جس کی وجہ سے کئی کنارے لگنے والی گیندیں ان تک پہنچ ہی نہیں سکیں۔
کرکٹ شائقین کیچ چھوڑنے پر ناراض
پاکستان میں کرکٹ شائقین کرکٹرز کی جانب سے کیچ چھوڑنے پر ناراض ہیں۔
عمران صادق نامی صارف بھی میدان میں کھلاڑیوں کی کارکردگی سے مطمزین نظر نہیں آئے۔
انھوں نے لکھا ’آج صبح فیلڈنگ انتہائی خراب رہی۔ بولنگ منظم اور ڈسپلن کے ساتھ کی گئی، اور مجھے حیرت ہے کہ سلپ میں فیلڈرز اتنا پیچھے کیوں کھڑے تھے۔ میں نے شعیب اختر کی بولنگ کے دوران بھی سلپ فیلڈرز کو کبھی اتنا پیچھے کھڑا نہیں دیکھا۔
عدنان خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی فیلڈنگ ایک طویل عرصے سے خراب رہی ہے۔‘
لیکن سلمان آغاز کی جانب سے ایک شاندار کیچ بھی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
عاطف نواز نےاسی کیچ کے حوالے سے لکپا ’لارڈز میں موجود پورا میڈیا سینٹر سلمان علی آغا کے شاندار ڈائیونگ سلپ کیچ پر بیک وقت حیرت سے اچھل پڑا۔ یہ واقعی ایک غیرمعمولی کیچ تھا۔‘
محمد شاہنواز نے کمنٹ کیا کہ ’پاکستان کبھی کبھی انتہاؤں کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ ایک شاندار اور سبق آموز کیچ تھا، لیکن بعض اوقات، بلکہ اکثر اوقات، وہ ایک ایسا آسان کیچ بھی چھوڑ دیتے ہیں جسے پکڑنا ابتدائی سطح کی فیلڈنگ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔‘
ماریہ نامی صارف نے لکھا ’جب میں نے سلمان علی آغا کو سلپس میں دیکھا تو میرے ذہن میں آیا کہ اگرچہ وہ اس میچ کے لیے ٹیم سے باہر ہیں، لیکن متبادل فیلڈر کے طور پر وہ ضرور کوئی غیرمعمولی کام کریں گے، اور انھوں نے بالکل ایسا ہی کیا۔‘