کمنٹیٹر اسٹیورٹ براڈ نے پاکستان کے دوسرے ٹیسٹ میں لارڈز کے مقام پر پنڈلی کی چوٹ کے باوجود سائیڈ لائن پر پریکٹس کرنے کے امام الحق کے فیصلے پر سوال اٹھایا تو میچ کے دوران میدان سے باہر پریکٹس کرتے ہوئے امام الحق کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھی مزید منفی تبصرے سامنے آئے۔
امام الحق کو پہلے دن فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی میں معمولی درجے کی کھچاؤ کی چوٹ لگنے کے بعد باقی ٹیسٹ سے باہر قرار دے دیا گیا تھاپاکستانی کرکٹر امام الحق لارڈز ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد تنقید کی زد میں ہیں۔
کمنٹیٹر اسٹیورٹ براڈ نے پاکستان کے دوسرے ٹیسٹ میں لارڈز کے مقام پر پنڈلی کی چوٹ کے باوجود سائیڈ لائن پر پریکٹس کرنے کے امام الحق کے فیصلے پر سوال اٹھایا تو میچ کے دوران میدان سے باہر پریکٹس کرتے ہوئے امام الحق کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھی مزید منفی تبصرے سامنے آئے۔
امام الحق کو پہلے دن فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی میں معمولی درجے کی کھچاؤ کی چوٹ لگنے کے بعد باقی ٹیسٹ سے باہر قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ چوٹ اس وقت لگی جب وہ دو کیچز چھوڑ چکے تھے، اور اس کے بعد پاکستان بقیہ میچ میں ایک بلے باز سے محروم ہو گیا تھا۔
پاکستانی اوپنر دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے نہیں آئے، جبکہ ان کی ٹیم ایک اور بھاری شکست سے دوچار ہوئی اور تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2-0 سے پیچھے چلی گئی۔
چوتھے دن کے کھیل سے قبل امام کو لارڈز میں میدان کے کنارے اپنی زخمی پنڈلی پر ٹیپ باندھے ہوئے گیند سے ہلکی پھلکی پریکٹس کرتے دیکھا گیا۔ بیٹنگ کی مشق کے دوران وہ لنگڑاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
پاکستانی کیمپ کی جانب سے اشارے دیے گئے تھے کہ اگر دوسری اننگز میں ٹیم کو ضرورت پڑی تو امام ممکنہ طور پر بیٹنگ کر سکتے ہیں۔ تاہم براڈ نے جو کچھ دیکھا، اس سے وہ متاثر نہیں ہوئے۔
سکرین پر امام الحق تنہا پریکٹس کرتے نظر آئے تو کمنٹیٹر سٹیورٹ براڈ نے کہا ’وہ آرام سے اور تنہا ان ڈور سہولت میں پریکٹس کر سکتے تھے، لیکن وہ اچانک شارٹس میں زیادہ ساری پٹی لگا کر باہر آ گئے۔ یہ میڈیا اور شائقین کو دکھانے کی کوشش زیادہ لگتی ہے، اور معذرت کے ساتھ، میں اس سے بالکل متاثر نہیں ہوں۔‘
کئی سوشل میڈیا صارفین ان سے اتفاق کرتے نظر آئے۔
ماریہ راجپوت نامی صارف کا ایکس پرکہنا تھا کہ ’اگر چوٹ واقعی سنگین تھی اور فزیو نے بیٹنگ سے منع کیا تھا، تو پھر اس سارے ڈرامے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔‘
ابھیورما نامی صارف نے لکھا ’سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس نے اتنا ڈراما کیا، پھر بھی بیٹنگ کے لیے نہیں آیا۔ مجھے تو لگا تھا کہ وہ ضرور بیٹنگ کے لیے آئے گا، اسی لیے پریکٹس کر رہا ہے۔ یہ ٹیم اداکاروں سے بھری ہوئی ہے۔‘
کچھ صارفین کو تو لگتا ہے ماضی میں کئی کھلاڑیوں نے وقت پڑنے پر انجریز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کے لیے کھیلا لیکن آج کل ایسا نہیں ہو رہا۔
باسط سبحانی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کا کہنا تھا ’بلے باز ٹوٹے ہوئے بازو، انگلیوں کے فریکچر اور اکھڑے ہوئے کندھوں کے ساتھ بھی میدان میں اترتے رہے ہیں۔ انھوں نے تکلیف برداشت کرتے ہوئے بیٹنگ کی کیونکہ بعض اوقات ٹیم کو واقعی آپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ سال کرس ووکس اوول میں انگلینڈ کے لیے اکھڑے ہوئے کندھے، ایک بازو کے سِلنگ میں ہونے اور اس کے تقریباً ناکارہ ہونے کے باوجود بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لارڈز میں امام الحق معمولی درجے کی پنڈلی کی تکلیف (لو گریڈ کاف سٹرین) کی وجہ سے بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں آ سکے۔ کرکٹ ان کھلاڑیوں کو زیادہ یاد رکھتی ہے جو تمام وجوہات کے باوجود میدان میں اترے، بہ نسبت ان کے جو کسی وجہ سے نہیں اترے۔‘
صحافی عمر قریشی کا موقف ہے کہ ’امام الحق کو ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا جب وہ دونوں اننگز میں بیٹنگ ہی نہیں کر سکے؟ آخر اسے منتخب کرنے کا فیصلہ کس بے وقوف نے کیا؟‘
انھوں نے تفصیلی پوسٹ میں لکھا ’جب آپ بری طرح شکست کے دہانے پر ہوں تو ہر کھلاڑی کو شکست سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ واقعی زخمی تھے تب بھی انھیں بیٹنگ کے لیے جانا چاہیے تھا۔ امام الحق پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے۔‘
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست: ’نہ بیٹ چلا نہ بال، لگتا ہے پاکستان کھیلنے نہیں انگلینڈ کو پریکٹس کروانے گیا تھا‘

یاد رہے کہ انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔
اتوار کے روز کھیل کے دوران سعود شکیل کی 97 رنز کی اننگز کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستان کی شکست ٹل سکتی ہے تاہم انگلینڈ نے مہمان ٹیم کو 194 رنز پر آل آؤٹ کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔
پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف ملا تھا جو لارڈز میں کسی بھی کامیاب رن چیس کے لیے ریکارڈ ہدف ہوتا۔ تاہم سیریز میں پاکستان کی پچھلی بہترین اننگز 171 رنز رہی تھی جس کے باعث میچ کو پانچویں روز تک لے جانا زیادہ حقیقت پسندانہ ہدف دکھائی دے رہا تھا۔
تاہم جب رابنسن نے اپنے تیسرے اوور میں دو وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کا سکور 14-3 کر دیا تو واضح ہو گیا کہ یہ ٹیسٹ چار دن کے اندر مکمل ہو جائے گااور اگر بارش اور خراب موسم کے باعث ضائع ہونے والے وقت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ مقابلہ تین دن سے بھی کم میں اختتام کو پہنچا۔
رابنسن نے اتوار کو 24 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ میچ میں ان کا مجموعی سکورار 35 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں رہا۔
بابر اعظملارڈز کرکٹ گراؤنڈ میںٹیسٹ میچ کے چوتھے روز آؤٹ ہونے کے بعد میدان سے باہر جاتے ہوئے پاکستانی بلے باز سعود شکیل نے 97 رنز بنائے، تاہم رابنسن نےمسلسل اوورز میں شان مسعود اور محمد رضوان کی وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی امیدیں مزید کمزور کر دیں۔
جب شکیل جوش ٹنگ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تو انگلینڈ کی فتح تقریباً یقینی ہو گئی اور پاکستان کی پوری ٹیم 194 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
اس فتح کے ساتھ جو روٹ نے کپتان کے طور پر اپنی دوسری مدت کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ جیت لیے ہیں۔
انگلینڈ نے ایک میچ باقی رہتے ہوئے سیریز اپنے نام کر لی ہے اور یہ اس کی 2024 کے بعد پہلی ٹیسٹ سیریز فتح بھی ہے۔
سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ نوستمبر بروز بدھ ایجبسٹن میں شروع ہو گا۔
’ایک بار پھر وہی کہانی، وہی غلطیاں اور وہی مایوس کن نتیجہ‘
پاکستان کی شکست کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر بحث چھڑ گئی اور کرکٹ فینز نے ٹیم کی کاکردگی کو آڑہ ہاتھوں لیا۔
ایکس پر عروج نامی صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کی شرمناک شکست کا سلسلہ جاری۔۔۔ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر انگلینڈ کی کنڈیشنز میں بری طرح ناکام رہی، نہ بیٹنگ میں مزاحمت نظر آئی اور نہ ہی بولنگ میں وہ جارحیت دکھائی دی جس کی اس ٹیم سے توقع تھی۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ 30 سال سے انگلینڈ کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا۔ ایک بار پھر وہی کہانی، وہی غلطیاں اور وہی مایوس کن نتیجہ۔ آخر پاکستان کو انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کے لیے مزید کتنے سال انتظار کرنا ہوگا؟‘
سردار افتخار نامی صارف نے دل جلے انداز میں لکھا،
’نہ بیٹ چلا، نہ بال چلی، نہ میچ بچا—بس شکست نے پھر سلامی دی۔ لگتا ہے پاکستان ٹیسٹ کھیلنے نہیں، انگلینڈ کو پریکٹس کروانے گیا تھا۔‘