سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تحقیقات پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی یونٹی فوڈز میں 5 ارب روپے سے زائد کے مبینہ مالی فراڈ اور بے ضابطگیوں پر سابق سی ای او اور دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف 29 اگست کو مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے ممکنہ فوجداری جرائم کا معاملہ سیکشن 41-B کے تحت ایف آئی اے کو بھجوایا گیا تھا، جس کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یونٹی فوڈز نے رائٹ ایشو کے ذریعے شیئر ہولڈرز سے 3.75 ارب روپے حاصل کیے تھے، جس میں سے تقریباً 2.87 ارب روپے مقررہ مقاصد کے بجائے دیگر مدات میں استعمال کیے گئے۔
ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی فنڈز سے سابق سی ای او کی والدہ کو مبینہ طور پر 5.318 ارب روپے قرض کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ ذیلی کمپنی کے ذریعے 2.6 ارب روپے دو نامعلوم فریقوں کو ایڈوانس دیے گئے۔
مزید برآں، شائع شدہ اکاؤنٹس اور اندرونی SAP ریکارڈ میں تقریباً 44.7 ارب روپے کے فرق کی نشاندہی ہوئی ہے، جبکہ کمپنی کے ریکارڈ اور فزیکل اسٹاک میں 5.2 ارب روپے کی انوینٹری کا فرق بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 5 ارب روپے کے پرانے واجبات کے مقابل اشیاء کی فراہمی کے شواہد بھی نہیں مل سکے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا ہے کہ لسٹڈ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کے فنڈز کا تحفظ اور شفاف مالی رپورٹنگ یقینی بنائی جائے گی۔ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق کا تحفظ ایس ای سی پی کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سرمایہ کاروں سے حاصل کردہ فنڈز صرف بتائے گئے مقاصد کے لیے ہی استعمال ہونے چاہئیں، جبکہ درست اور شفاف مالی معلومات کی فراہمی شیئر ہولڈرز کا بنیادی حق ہے۔