میں اس دور کا عینی شاہد ہوں جب ممبئی کی فلم انڈسٹری پر انڈر ورلڈ کا خاصا اثر تھا۔ بڑے اداکاروں اور اداکاراؤں پر فلمیں سائن کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا یہاں تک کہ انڈر ورلڈ سے وابستہ لوگ فلموں کے سیٹ پر آکر شوٹنگ دیکھا کرتے تھے۔ لیکن شاہ رخ خان ان لوگوں میں سے تھے جو کسی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں تھے۔ جب انہیں دھمکیاں دی گئیں اور اپنی مرضی کے منصوبوں میں کام کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے کہا تھا میں پٹھان ہوں گولی مارنی ہے تو مار دو، میں تم سے نہیں ڈرتا۔
بالی ووڈ کے فلمساز سنجے گپتا نے 90 کی دہائی کے اس دور سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جب ممبئی کی فلمی دنیا پر انڈر ورلڈ کا اثر نمایاں سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت فلم انڈسٹری سے وابستہ کئی بڑے نام بھی ایسے دباؤ سے محفوظ نہیں تھے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ماضی کو یاد کرتے ہوئے سنجے گپتا نے بتایا کہ ان دنوں انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے افراد فلمی معاملات میں مداخلت کرتے تھے۔ اداکاروں پر مخصوص فلموں میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات یہ لوگ فلموں کے سیٹ تک بھی پہنچ جاتے تھے اور شوٹنگ کا مشاہدہ کرتے تھے۔
فلمساز کے مطابق اس ماحول میں شاہ رخ خان کا رویہ دوسروں سے مختلف تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپر اسٹار نے انڈر ورلڈ کے دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے واضح طور پر اپنا مؤقف برقرار رکھا۔
سنجے گپتا نے دعویٰ کیا کہ شاہ رخ خان کو بھی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق فلم یا شو میں کام کرنے کے لیے کہا گیا۔ تاہم اداکار نے مبینہ طور پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا۔
فلمساز کے مطابق شاہ رخ خان نے اس موقع پر ایسا جواب دیا جس نے ان کے مضبوط مزاج کو ظاہر کیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر انہیں گولی مارنی ہے تو مار دیں، لیکن وہ دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر کسی کے لیے کام نہیں کریں گے۔
سنجے گپتا کی جانب سے بیان کیا گیا یہ واقعہ بالی ووڈ کے اس دور کی ایک مختلف تصویر سامنے لاتا ہے، جب فلمی ستاروں کی مقبولیت کے ساتھ انہیں کئی غیر معمولی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔
شاہ رخ خان کے حوالے سے سنایا گیا یہ واقعہ اب ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں اداکار کے کیریئر کے ابتدائی دور میں اختیار کیے گئے ایک بے خوف رویے کا ذکر سامنے آتا ہے۔