’الفا براوو چارلی‘ کے گل شیر کا والدین سے متعلق کون سا پچھتاوا آج بھی انہیں تڑپاتا ہے؟

image

مجھے اپنی والدہ کے حوالے سے دو مواقع کا سب سے زیادہ افسوس ہے۔ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا اور موبائل فون استعمال کر رہا تھا۔ وہ تقریباً 15 منٹ میرے پاس بیٹھ کر مجھ سے بات کرتی رہیں لیکن میری توجہ ان کی بجائے فون پر زیادہ تھی جیسے آج کل ہم سب کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے مجھے نہیں معلوم میرے کتنے دن باقی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ امی آپ بھی جذباتی ہوجاتی ہیں آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن صرف 20 دن بعد وہ انتقال کر گئیں۔ یہ بات آج بھی میرے لیے ایک بڑا پچھتاوا ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وقت اتنا کم ہے تو میں اس لمحے کو مختلف انداز میں گزارتا۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور خاندان کے ساتھ ملنے والے وقت کو بھرپور انداز میں گزاریں۔

ایک اور موقع مجھے آج تک یاد ہے۔ میں ایک تقریب کے لیے پنو عاقل جا رہا تھا تو والدہ نے پوچھا کہ کتنے دن کے لیے جا رہے ہو؟ میں نے کہا دو دن۔ انہیں یہ مدت بھی بہت زیادہ محسوس ہوئی جب میں واپس آیا تو میری والدہ انتقال کر چکی تھیں۔

مجھے اپنے والد کے ساتھ کیے گئے ایک سخت رویے کا بھی افسوس ہے۔ جب وہ شدید بیمار تھے اور میری نئی نئی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے بھی اپنے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ اسلام آباد لے جاؤ۔ میں نے غصے میں انہیں سخت لہجے میں جواب دیا کہ اس روڈ ٹرپ پر آپ کے ہمارے ساتھ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعد میں مجھے فوراً احساس ہوا کہ میں نے غلط کیا ہے اور میں نے ان سے معذرت بھی کی لیکن تب تک وہ لمحہ واپس نہیں آسکتا تھا۔

الفا براوو چارلی کے معروف کردار کیپٹن گل شیر سے شہرت حاصل کرنے والے کرنل ریٹائرڈ قاسم شاہ نے حالیہ ٹی وی پروگرام ’زبردست‘ میں اپنے والدین سے جڑے ان واقعات کا ذکر کیا۔ ان کی گفتگو میں شہرت یا اداکاری سے زیادہ وہ ذاتی لمحات نمایاں رہے جنہیں وہ آج بھی اپنی زندگی کے اہم پچھتاووں میں شمار کرتے ہیں۔

قاسم شاہ نے بتایا کہ والدہ کے ساتھ پیش آنے والے دونوں واقعات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اپنوں کے ساتھ گزارا جانے والا وقت ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں رہتا۔ خاص طور پر موبائل فون میں مصروف رہنے والا وہ مختصر سا لمحہ، جسے اس وقت شاید معمولی سمجھا گیا بعد میں ان کے لیے ایک ایسی یاد بن گیا جسے وہ چاہ کر بھی بدل نہیں سکتے۔

والد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بھی ان کا کہنا تھا کہ بیماری کے دنوں میں کی گئی سخت بات کا انہیں فوراً احساس ہوگیا تھا۔ انہوں نے معذرت کی لیکن اس تجربے نے انہیں یہ سبق دیا کہ بعض اوقات معافی مانگنے کے باوجود گزرے ہوئے لمحے واپس نہیں آتے۔

قاسم شاہ کی یہ گفتگو دراصل والدین کے ساتھ تعلق کی ایک عام مگر اہم حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ مصروف زندگی، موبائل فون اور روزمرہ کی الجھنوں کے درمیان اپنے قریبی لوگوں کے لیے وقت نکالنا شاید معمولی بات لگے، لیکن بعض اوقات یہی چھوٹے لمحات بعد میں زندگی کی سب سے قیمتی یادیں بن جاتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US