ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی ڈرامے میں ایک ہی جگہ شوٹ کیا گیا 20 منٹ طویل سین صرف دو کرداروں پر مشتمل ہو مگر ناظرین اس کا ایک، ایک ڈائیلاگ مکمل یکسوئی سے سُنیں اور پھر یہ ڈائیلاگ بحث کا موضوع بھی بن جائیں۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی ڈرامے میں ایک ہی جگہ شوٹ کیا گیا 20 منٹ طویل سین صرف دو کرداروں پر مشتمل ہو مگر ناظرین اس کا ایک، ایک ڈائیلاگ مکمل یکسوئی سے سُنیں اور پھر یہ ڈائیلاگ بحث کا موضوع بھی بن جائیں۔
اس کی تازہ مثال ہم ٹی وی کے ڈرامے ’آپ کی عزت‘ کی حالیہ قسط ہے جس میں میاں بیوی کے کردار تابش (احسن خان) اور بینا (عروہ حسین) ایک تھانے میں موجود ہیں۔
ایک طرف بینا اپنے گھر سے فرار کے بعد کسی دوسرے مرد کے ساتھ تھانے لائی گئی ہیں جبکہ دوسری طرف تابش اپنی بیوی سے اس انتہائی قدم پر سوال کرنے کے لیے بے چین ہیں۔
اس سین میں بینا کے ڈائیلاگز کافی پسند کیے جا رہے ہیں کیونکہ وہ مظلوم نہیں دکھائی گئیں بلکہ بے وفائی پر سوال کیے جانے پر مرد کو اس کی بے وفائی یاد دلاتی ہیں۔
مگر بعض صارفین ان ڈائیلاگز پر تنقید بھی کرتے نظر آئے۔
اس ڈرامے کے ڈائریکٹر سیف حسن نے اس ڈرامے کی مقبولیت کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اندازہ تھا کہ یہ ڈرامہ خواتین میں زیادہ مقبول ہو گا لیکن اتنا زیادہ رسپانس اُن کی توقع سے بڑھ کر ہے۔
تابش اور بینا کے بیچ مکالمہ: ’دین تمھیں حق دیتا ہے کہ تم بے حیائی کرو؟‘
اس سے قبل ڈرامہ میں دکھایا جا چکا ہے کہ تابش نے 14 سال کی لوو میرج (پسند کی شادی) کے بعد ’ناز‘ نامی ایک عورت سے تعلق رکھا اور بینا کو بتائے بغیر اس سے شادی کی تیاری بھی کر لی۔ شوہر کی دوسری شادی کے دن بینا نہ صرف گھر چھوڑ کر چلی گئیں بلکہ معلوم ہوا کہ وہ ایک سبزی فروخت کرنے والے کے ساتھ ’بھاگ‘ گئی ہیں۔
جبکہ فلیش بیکس میں دونوں کی جوانی کی محبت کی کہانی دکھائی گئی ہے جس میں بینا ایک بہترین بیوی کے طور پر اچھے بُرے وقت میں تابش کے ساتھ کھڑی رہیں، مالی مشکلات کے دنوں میں اپنی بچت اور زیور اس پر خرچ کیا اور ہر قسم کے حالات میں، اپنی ذاتی خواہشات کو چھوڑ کر، صبر، شکر اور وفا شعاری سے کام لیا۔
یعنی ڈرامے میں دکھائی گئی ’بینا‘ بیوی کی انہی قسموں میں شامل تھی جو ڈرامہ ناظرین عموماً پاکستانی ڈراموں میں دیکھنے کی عادی ہیں اور جن کے لیے بات ہمدردی اور ’ہائے بیچاری‘ تک محدود رہتی ہے۔
لیکن بات وہاں پلٹ گئی جہاں بینا نے مرد کو اُسی کی بے وفائی پر ردعمل دیا، اور یہ وہ منظر ہے جہاں ناظرین چونکنے پر مجبور ہوئے۔
ٹرینڈنگ سین میں تابش کے سوالوں کے بعد بینا نے وہ جملے کہے جو عموماً سکرین پر بھی نہیں کہنے دیے جاتے۔
گفتگو کے دوران تابش اپنی صفائی میں دین کو بیچ میں لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ مرد ہے، وہ کر سکتا ہے، لیکن بینا تو ایک باکردار عورت ہے وہ کیسے ایسا کام کر سکتی ہے، اسے کیا ہو گیا۔
جس کے جواب میں بینا کہتی ہیں ’کیا ہو گیا ہے مجھے؟ کہیں میں تمہارے جیسی تو نہیں ہو گئی۔ تم سے ہی تو سیکھتی ہوں سب کچھ۔ یہ جو دیکھ کر بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے، تمہارا ہی تو عکس ہوں۔ یہ بے حیائی ، یہ خود غرضی۔‘
’دین تمہیں حق دیتا ہے کہ تم بے حیائی کرو، ساری رات دوسری عورت سے عشق کی باتیں کرو۔ اپنے گھر کی پاکباز عورت کو پاؤں کی جوتی بناؤ؟ جب وقت بُرا ہو تو پلو پکڑ کر بیوی کے پیچھے پیچھے چلو، جب اچھا وقت آئے تو چیونٹی کی طرح مسل کر پھینک دو، یہ دین نہیں کہتا۔ یہ تمہاری خود غرضی کہتی ہے، تمہاری بے شرمی کہتی ہے۔ تمہارا کنٹرول کہتا ہے۔‘
ڈرامہ انڈسٹری سے منسلک ناقدین کا کہنا ہے کہ دین کے نام پر مرد کے اِسی کنٹرول پر ایسی بحث اور اتنے کُھلے الفاظ میں ڈرامہ سکرین پر شاید پہلی بار ہوئی ہے۔
اس سے پہلے ایک معروف ڈرامہ میں جب عورت نے بے وفائی کی اور شادی ختم کر کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو اسے ’دو ٹکے کی عورت‘ کہا گیا تھا، مگر آپ کی عزت ڈرامہ میں اس کے برعکس دکھایا گیا۔
اسی سین کے دوران بینا یہ بھی کہتی ہے کہ ’تم نے بچوں کو میرے پیروں کی زنجیر بنا دیا۔۔۔ کیوں کھاتے تھے میرے کردار کی قسمیں، تاکہ تم باہر جا کر جو چاہے کرو، اور یہ بیوقوف نکمی عورت عزت بچا کر گھر بیٹھی رہے۔‘
ڈرامے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ شادی کے کئی برسوں کے بعد عورت کے حصے میں گھر کی ذمہ داریاں رہ جاتی ہیں، اور اُن کی ذاتی خواہشات، کیریئر، تعلیم، شخصیت حتی کہ اس کی صحت کے معاملات بھی ان ذمہ داریوں تلے دب جاتے ہیں۔
ادھیڑ عمر میں مرد اسے احساس دلاتا ہے کہ اب وہ ویسی پُرکشش نہیں رہی، اسے اس سے ’سکون نہیں ملتا‘ اور وہ خود اپنی زندگی میں دوسری عورت سے وہ راحت پانے کا حق رکھتا ہے۔
تابش بھی بینا پر اُن کی عمر، جسمانی ساخت اور فیشن سینس کی بنیاد پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور اسے ’مذاق‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ فلیش بیکس میں بینا یہ سوچنے پر مجبور رہتی ہیں کہ جوانی کے وہ دن جو انھوں نے تابش کے نام کیے، اُن دنوں کے التفات اب کہاں گئے۔
انھیں اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ شکایت کرنے پر انھیں ’ناشکری عورت‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کا شوہر اُن پر کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے اور ہر طرح کی آسائش انھیں گھر پر میسر ہے۔
’یہ سین اور مکالمہ ایک شاہکار ہے‘
سوشل میڈیا پر ناظرین خصوصاً خواتین اس موضوع پر بحث کر رہی ہیں۔
ثمن سہگل نامی صارف نے فیس بُک پر لکھا کہ ’اتنے سالوں سے جو دل میں دبا پڑا تھا، وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹا ہے۔‘
فیس بُک پر ہی خواتین کے ایک گروپ میں ایک خاتون نے لکھا کہ ایک طویل تھکا دینے والے دن کے بعد ان کے شوہر نے کھانے کی میز پر مذاق کے نام پر اُن کی ہتک کرنے کی کوشش کی، تو انھوں نے احتجاج کیا اور اسے برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ جرات انھیں یہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد ملی۔‘
خواتین کا کہنا ہے کہ مردوں کی طرف سے جو بات انھیں چُپ چاپ برداشت کرنے کا سبق دیا گیا ہے، وہ جب مرد پر بیتی تو وہ کیسے تڑپ رہا ہے۔ ڈرامے میں تابش کا کردار بیوی کے قتل تک پر آمادہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے اپنی عزت بچانی ہے۔
یوٹیوب پر ڈرامے کی ویڈیو کے کمنٹس میں ایک خاتون نے لکھا کہ ’جب مجھے میرے شوہر نے چھوڑا اور طلاق دی تو مجھے بھی ہر بات پر ایسے ہی ماضی کے خیالات آتے تھے، یہ 16 طویل سال تھے۔‘
لیکن خود مرد اس بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بالعموم معروف مرد انفلوئنسرز نے مردوں کے اس رویے کو تسلیم کیا ہے۔
مکرم کلیم ’کیا ڈرامہ ہے‘ نامی شو کے میزبان ہیں جس میں ڈراموں کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ سین اور مکالمہ پاکستانی ڈرامہ میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے، اس میں اس قدر باریکی سے عورت کا نقطہ نظر دکھایا گیا ہے کہ مرد اس انداز سے سوچتے ہی نہیں۔‘
خصوصاً دین میں اجازت کی توجیح کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دین کا پردہ ڈال کر تابش نے دوسری شادی کی بات کی تو ڈرامے میں بہت خوبصورت طریقے سے بتایا گیا ہے کہ کیسے مذہب کی طرف جھکاؤ نہ رکھنے والے بھی ایک مقصد کے لیے دین کا استعمال کرتے ہیں۔
احسن خان یہ کردار نبھانے پر کیوں مان گئے؟
دوسری طرف کچھ مرد صارفین نے ڈرامے پر تنقید کی ہے کہ یہ عورتوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ نصر گل زمان نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا ’اگر مرد بُرا ہے تو تم پھر بھی نامحرم سبزی والے کے ساتھ نہیں بھاگ سکتیں۔ ہماری جنریشن کے ذہنوں میں یہ گندگی اور زہر نہ بھرو۔‘
ہم ٹی وی سے پیش کیا گیا یہ ڈرامہ عمیرہ احمد نے لکھا ہے، جبکہ سیف حسن اس کے ہدایتکار ہیں۔
ناقدین کے مطابق اس ڈرامے کی منفرد بات عورت کا ’پش بیک‘ ہے، لیکن زیادہ حیران کُن بات یہ ہے کہ عورت کا یہ احتجاج عمیرہ احمد کے قلم سے سکرین تک پہنچا ہے، جن کے بارے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ وہ خواتین کرداروں کی وفا اور قربانی کو ان کی بہترین اہلیت بتاتی ہیں۔
احسن خان: ’گرے کیریکٹرز کم لکھے جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی ایکٹر کے لیے آئیڈیل سکرپٹ تھا‘ (فائل فوٹو)اس ڈرامے کے ڈائریکٹر سیف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمیرہ احمد کی سکرپٹ سے پہلے اُن کا تاثر یہی تھا کہ عمیرہ احمد کا کام نظریاتی طور پر ان کے کام سے مختلف ہوتا ہے، لیکن سکرپٹ دیکھنے کے بعد انھیں خوشگوار حیرت ہوئی۔
’عمیرہ سے سکرپٹ پر کئی بحثیں ہوئیں۔ کچھ باتوں پر میں نے انھیں قائل کر لیا اور زیادہ تر باتوں پر انھوں نے مجھے قائل کر لیا۔ زیادہ کریڈٹ عمیرہ کا ہی ہے۔‘
ڈرامے کی مقبولیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اُن کی نظر میں ٹارگٹ آڈئینس تھی اور انھیں اندازہ تھا کہ یہ خواتین میں مقبول ہو گا، لیکن اتنا زیادہ رسپانس اُن کی توقع سے بڑھ کر ہے۔
ڈرامے میں مرکزی کردار احسن خان اور عروہ حسین کے علاوہ تابش کی والدہ کا کردار کرنے والی ثانیہ سعید کی اداکاری کو بھی پسند کیا گیا ہے۔ خصوصاً احسن خان اور عروہ نے ینگ ٹو اولڈ، عمر کے مختلف حصوں کے کردار کامیابی سے کیے۔
ایکٹر احسن خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے کردار کے متعلق کہا کہ ’عمیرہ احمد کیریکٹر کے ساتھ اُس کی نفسیات کو بھی لکھتی ہیں۔ وہ صرف کیریکٹر کا ظاہر نہیں دکھاتیں بلکہ اُس کی تہیں دکھاتی ہیں جو ایک ایکٹر کے لیے بہت اچھا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسے پراجیکٹ کا انتخاب کرتے ہیں جو ایک بحث کو بھی جنم دے۔ اُن کے مطابق اس سکرپٹ میں اُن کے کیریکٹر کے بہت شیڈز ہیں۔ ’گرے کیریکٹرز کم لکھے جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی ایکٹر کے لیے آئیڈیل سکرپٹ تھا۔‘
تابش کے کردار کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے آس پاس ایسے کئی کردار دیکھے ہیں جو مکمل طور پر تابش نہ سہی، لیکن کچھ حد تک ایسے ہی ہیں۔