میچ کے بعد نشرا ساندھو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ ٹورنامنٹ کے دوران وکٹیں بولرز کو مدد دے رہی ہیں۔
پاکستان ویمنز ٹیم نے ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کی ٹیم کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے اور اب جمعے کے دن سری لنکا سے فائنل میں رسائی کے لیے مقابلہ ہو گا۔
دبئی میں کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستان ویمنز ٹیم نے ٹاس جیت کر پلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے شوال ذوالفقار نے 35 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنائے اور ٹاپ سکورر رہیں۔ ان کے علاوہ عائشہ ظفر نے 26 جبکہ کپتان فاطمہ ثنا نے 24 رنز بنائے۔ تاہم چھ پاکستانی کھلاڑی سنگل فگر سے زیادہ سکور نہیں کر پائیں۔
ہانگ کانگ کی جانب سے جولین کور نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور چار اوورز میں ا19 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔ اقرا سحر اور کیری چان نے دو دو وکٹیں لیں۔
پاکستان کی بولنگ نے آغاز میں ہی ہانگ کانگ کو ہلا کر رکھ دیا۔ پہلے اوور میں فاطمہ ثنا نے مارکو ہل کو اس وقت آؤٹ کیا جب سکور صرف ایک رن تھا۔ دوسرے اوور کی پہلی گیند پر ہانگ کانگ کی کپتان نتاشا مائلز بھی آؤٹ ہوئیں تو ایک رن پر دو وکٹیں گر چکی تھیں۔
لیکن پاکستان کی جانب سے باؤلنگ میں اصل کمال نشرا سندھو نے دکھایا جنھوں نے صرف سات رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی میں چھ وکٹیں لینے والی پہلی خاتون کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انھیں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی ملا۔
میچ کے بعد نشرا ساندھو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ ٹورنامنٹ کے دوران وکٹیں بولرز کو مدد دے رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ہر میچ میں ایک ہی مائنڈ سیٹ ہوتا ہے چاہے ہلکی ٹیم ہو یا سینئر ٹیم ہو۔ اگر میری ہنگر (بھوک) ختم ہو جائے تو اس طرح سے وکٹیں نہیں ملیں گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج میں نے کچھ ایکسٹرا نہیں سوچا تھا، کچھ مختلف کرنے کی کوشش نہیں کی، میرا پلان سادہ ہی ہوتا ہے کہ اچھی بولنگ کرنا۔‘
’اس ٹائم پر میں جیسی بولنگ کروں گی مجھے اسی طرح رزلٹ ملتے ہیں۔ تو میں یہ نہیں سوچتی کہ مجھے ریکارڈ بنانے ہیں۔‘
یاد رہے کہ 28 سالہ لیفٹ آرم سپنر نشرا سندھو اب تک 88 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 89 وکٹیں لے چکی ہیں۔

سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہو گی۔ اس سے پہلے انڈیا کے ہاتھوں ٹیم کی یکطرفہ شکست کے دوران پوری ٹیم صرف 55 رنز بنا پائی تھی۔
سنیچر کی شب دبئی سٹیڈیم میں ویمنز ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بہتر ثابت نہ ہو سکا۔
پاکستان کی جانب سے منیبا علی اور شوال ذوالفقار نے 3۔4 اوورز میں 27 رنز بنا کر اننگز کا پراعتماد آغاز کیا، لیکن اس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے لگیں اور پوری ٹیم 1۔18 اوورز میں 55 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
پاکستان کے آٹھ کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ انڈیا کی جانب سے پریما راوت، شری گھرانی نے تین، تین جبکہ دپتی شرما نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں انڈیا کی ٹیم نے ہدف صرف نویں اوور میں پورا کر کے میچ جیت لیا جبکہ اس کی صرف تین وکٹیں گری تھیں۔
اس بات کا ادراک کپتان فاطمہ ثنا کو بھی ہے جنھوں نے ہانک کانگ کو شکست دینے کے بعد کہا کہ ’ہمیں بہتر بیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے، سٹرائیک گھمانے کی اور زیادہ پارٹنر شپ لگانے کی۔‘
انڈیا سے میچ ہارنے کے بعد کوچ وہاب ریاض نے کہا تھا کہ ’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کہ یہ جو خواتین کھلاڑی ہیں ان میں مہارت ہے اور میں ابھی بھی اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اس ایونٹ کی سب سے بہترین ٹیم ہے اور ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے فیورٹ ہے۔‘
پاکستان ویمنز ٹیم نے ایشیا کپ میں اپنے پہلے میچ تھائی لینڈ کو 36 رنز سے شکست دی تھی۔ لیکن دوسرے میچ میں اسے روایتی حریف انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔