مقامی اور غیر ملکی کوچز سے دوہرا رویہ رکھا جاتا ہے: مصباح الحق

image

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق جنہوں نے حال ہی میں قومی سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے انہوں نے پاکستان کرکٹ میں مقامی اور غیر ملکی کوچز کے ساتھ کیے جانے والے دوہرے رویے پر گلے شکوے کا اظہار کیا ہے۔

انگلینڈ میں قومی ٹیم کے اندرونی ردوبدل کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سلیکٹرز کو نوٹس جاری کیے جانے پر استعفیٰ کی پیشکش کرنے والے مصباح کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کوچز بطور ہیڈ کوچ یا کوچ زیادہ اختیارات اور طاقت کا لطف اٹھاتے ہیں۔

ایک ٹیلی ویژن شو میں بات کرتے ہوئے مصباح نے کہا یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کرکٹ میں مقامی اور غیر ملکی کوچز کے ساتھ الگ رویہ رکھا جاتا ہے۔ غیر ملکی کوچز کے مقابلے میں مقامی کوچز کو زیادہ کڑی تنقید اور چھان بین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی ایک وجہ تھی کہ 2019ء میں جب انہیں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بننے کی پیشکش ہوئی تو وہ فوری طور پر تیار نہیں ہوئے تھے، اور پی سی بی انتظامیہ کے شدید اصرار کے بعد ہی انہوں نے یہ عہدہ قبول کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا میرا یہ ماننا نہیں ہے کہ غیر ملکی کوچز رکھنے میں کوئی برائی ہے لیکن جو بات مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم (شائقین، ناقدین، میڈیا اور پی سی بی) غیر ملکی کوچز کے لیے ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم کی کارکردگی کی بات آتی ہے تو غیر ملکی کوچز کو زیادہ رعایت دی جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مقامی کوچز کے معاملے میں برداشت کا معیار بہت کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا ہم غیر ملکی کوچز کو زیادہ اختیارات اور طاقت دیتے ہیں اور اگر ٹیم کی کارکردگی خراب ہو تو انہیں کم ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مقامی کوچز کو ہر طرف سے تنقید اور احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مصباح نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین، ناقدین، سابق کھلاڑیوں اور بورڈ کو چاہیے کہ وہ مقامی کوچز کی زیادہ حمایت کریں اور صرف تنقید برائے تنقید نہ کریں۔انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ آج کل پاکستان کرکٹ میں کھلاڑیوں پر تنقید کے تیر چلانا اور ان پر دباؤ بڑھا کر انہیں ذہنی طور پر نیچے گرانا ایک بہت منفی رجحان ہے۔ "اس سے ہمارے کھلاڑیوں کے لیے دوبارہ فارم اور اعتماد حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کا بنیادی مسئلہ ٹیم کے لیے مزید تسلسل، صبر اور طویل مدتی منصوبے کی ضرورت ہے۔مصباح نے کہا ہمیں دباؤ میں آ کر حواس باختہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی محض ظاہری تبدیلیوں (کاسمیٹک سرجری) کا سہارا لینا چاہیے۔ ہمیں کارکردگی اور صورتحال کا درست جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا بدقسمتی سے ہم پاکستان کرکٹ میں صرف ردِعمل کے طور پر فوری فیصلے کرنے کے عادی ہیں۔

پی سی بی نے لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ ہارنے کے بعد انگلینڈ کے دورے پر موجود اسکواڈ میں سات کھلاڑیوں کو تبدیل کر دیا تھا جبکہ بورڈ نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل سے ذمہ داریاں واپس لے کر اس ہفتے ایجبسٹن میں ہونے والے آخری ٹیسٹ کے لیے غیر ملکی وائٹ بال کوچ کو عبوری ریڈ بال کوچ کے طور پر نامزد کر دیا۔

سلیکٹرز سے یہ وضاحت بھی طلب کی گئی کہ ٹیم سے نکالے گئے کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کو دورے کے لیے کیوں منتخب کیا گیا تھا اور ان کے انتخاب کا معیار کیا تھا۔

مصباح نے کہا کہ بھارتی کرکٹ اس لیے آگے بڑھی ہے کیونکہ وہ دباؤ میں سراسیمگی کا شکار نہیں ہوتے اور اپنے منصوبوں پر قائم رہتے ہیں۔انہوں نے بھارتی کرکٹ سیٹ اپ سے روہت شرما اور ویراٹ کوہلی کی مثالیں دیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاکستان پر حاوی ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے کھلاڑیوں کو زیادہ ایکسپوژر ملتا ہے اور وہ دباؤ میں کارکردگی دکھانے کے لیے پیشہ ورانہ اور ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہا ہمارے نوجوان کھلاڑی بہت زیادہ وائٹ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں اور ریڈ بال کرکٹ میں ان کا تجربہ محدود ہے۔ چار روزہ کرکٹ کا کافی موقع نہیں مل رہا، جس کا مطلب ہے کہ دباؤ میں ان کے ناکام ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت راتوں رات ایک مضبوط ٹیم نہیں بنا بلکہ یہ برسوں کی منصوبہ بندی اور اس پر مسلسل قائم رہنے کا نتیجہ ہے۔بھارت نے اپنے نظام کو سمجھنے اور تیار کرنے کے لیے وقت لیا اور 90 کی دہائی کے بعد سے اپنے سسٹم میں تدریجی سرمایہ کاری کی۔ کرکٹ کے نظام کی بہتری کا کوئی فوری یا شارٹ کٹ حل نہیں ہوتا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US