کئی روز کی قیاس آرائیوں اور افواہوں کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ نے پیر کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایک اندرونی انضباطی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔
پی سی بی کے میڈیا ہیڈ عامر میر کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے ایک مبہم بیان میں اعلان کیا گیا کہ ڈسپلن اور طرزِ عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد پی سی بی نے اندرونی انضباطی انکوائری شروع کر دی ہے جس کا فی الوقت اندرونی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا پی سی بی ایسے معاملات کو اپنے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نمٹاتا ہے۔ یہ عمل پی سی بی کے قوانین کے تحت جاری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام متعلقہ افراد کو پورا موقع اور انصاف دیا جائے۔
لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کی شکست کے بعد پی سی بی کی جانب سے انگلینڈ سے سات کھلاڑیوں جن میں سینئر کھلاڑی محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا شامل ہیں کو واپس بلائے جانے کے بعد سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ بعض کھلاڑیوں کو دورے کے دوران بدنظمی پر انکوائری اور کارروائی کا سامنا ہے۔
پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف نے بھی ایک ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ڈریسنگ روم میں یقیناً کوئی مسئلہ تھا، اسی وجہ سے پی سی بی نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا میں یہ قدم اٹھانے پر بورڈ کی ہمت کی داد دیتا ہوں۔ ان کھلاڑیوں کو واپس لانا ضروری تھا کیونکہ ٹیم کی اصلاح کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا تھا۔
پی سی بی کے عہدیدار نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس یا غیر تصدیق شدہ دعوؤں، بالخصوص بیرونی یا مخاصمانہ ذرائع سے آنے والی خبروں کو قابلِ اعتماد نہ سمجھا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ پی سی بی اس وقت اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔
پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بھی بڑے پیمانے پر سامنے آئی ہیں کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد جب کھلاڑی ہوٹل پہنچے تو ان کے موبائل فونز کی جانچ کی گئی اور ان کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔
ابتدا میں یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے موبائل فون ضبط کر لیے ہیں جس کے بعد جیو نیوز پر بتایا گیا کہ کھلاڑیوں کی ہوٹل واپسی پر وہاں موجود ایک سیکیورٹی افسر نے ان کے فونز سے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا۔