میں صرف 18 سال کی تھی۔ مسرت مصباح کی یہ دوسری شادی تھی اور ان کے شوہر عامر میرے لیے ایک بھائی جیسے تھے۔ اس وقت مسرت کی اپنی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار تھی اور وہ مجھے کچھ چیزوں سے روکنے کی کوشش کرتی تھیں لیکن میں اتنی کم عمر تھی کہ ان حالات کی پیچیدگی کو سمجھ نہیں پاتی تھی۔ بعد میں ان دونوں کی طلاق ہوگئی اور چونکہ میں ایک نوجوان ماڈل تھی اس لیے اس معاملے کا الزام میرے نام سے جوڑ دیا گیا۔ مجھے بعض جگہوں پر کام کرنے سے بھی روک دیا گیا، لیکن میں نے اپنا کیریئر جاری رکھا اور کامیاب ماڈل بنی۔
پاکستانی فیشن انڈسٹری کی معروف ماڈل اور اداکارہ جیا علی نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور سے جڑے ایک پرانے اور متنازع اسکینڈل پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔ جیا علی نے بتایا کہ انہوں نے 18 سال کی عمر میں مسرت مصباح کے سیلون سے کام شروع کیا تھا جہاں بعد میں انہیں مبینہ طور پر ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
اس زمانے میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ جیا علی کے مسرت مصباح کے اُس وقت کے شوہر عامر کے ساتھ تعلقات تھے جس کے باعث دونوں کی ازدواجی زندگی متاثر ہوئی اور بعد ازاں ان کی طلاق ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد جیا علی کا نام طویل عرصے تک اسی تنازع سے جوڑا جاتا رہا۔
جیا علی کے مطابق وہ اس وقت بہت کم عمر تھیں اور حالات کی نزاکت کو پوری طرح سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکینڈل کے باعث انہیں فیشن انڈسٹری میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور بعض مقامات پر کام کرنے سے روکا گیا، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بعد میں ماڈلنگ اور اداکاری میں اپنی جگہ بنائی۔
ان کے حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس پرانے معاملے پر بحث شروع ہوگئی۔ بعض صارفین نے جیا علی کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ لوگوں نے مسرت مصباح کے مؤقف اور کردار کا دفاع کیا۔ یوں کئی برس پرانا اسکینڈل ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔