چائلڈ ماڈلنگ کوئی نئی چیز نہیں، یہ ایک باقاعدہ شعبہ ہے۔ برانڈز بچوں کے لیے کپڑے تیار کرتے ہیں تو ظاہر ہے ان کے ملبوسات کی تشہیر کے لیے بچوں ہی کو ماڈلنگ کرنا ہوتی ہے۔ بالغ افراد بچوں کے کپڑے تو نہیں پہن سکتے۔ اگر آپ حالیہ فیشن شو کی بات کر رہے ہیں جہاں لڑکیوں نے ٹاپس کے ساتھ لہنگے پہن کر ریمپ پر واک کی تو پاکستان میں 18 سال سے کم عمر لڑکیاں روایتی لباس پہنتی ہیں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہمارے ہاں کئی چائلڈ اسٹارز اداکاری اور ماڈلنگ کرتے ہیں اور وہ یہاں اپنے والدین کی اجازت سے ہی آتے ہیں۔ بچے اشتہارات میں کام کرتے ہیں تو پھر ریمپ پر واک کرنے کو اتنا بڑا مسئلہ کیوں بنایا گیا؟ کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا انہوں نے خود اعتماد کے ساتھ یہ سب کیا۔ میرے خیال میں وہ پُراعتماد تھیں، فحش نہیں۔
پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور ڈینٹسٹ نادیہ حسین نے حالیہ فیشن شو میں کم عمر لڑکیوں کی ماڈلنگ پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کھل کر اپنا مؤقف پیش کردیا۔
نادیہ حسین نے ایف ایچ ایم کے پوڈکاسٹ میں میزبان عدنان فیصل سے گفتگو کرتے ہوئے چائلڈ ماڈلنگ کا دفاع کیا اور کہا کہ بچوں کا فیشن شوز، اشتہارات اور ماڈلنگ میں حصہ لینا کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق اگر والدین کی اجازت سے بچے اشتہارات اور ڈراموں میں کام کرسکتے ہیں تو فیشن ریمپ پر واک کرنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟
اداکارہ کا کہنا تھا کہ حالیہ شو میں شریک کم عمر لڑکیاں روایتی ملبوسات میں نظر آئیں اور انہوں نے اپنی مرضی اور اعتماد کے ساتھ ریمپ پر واک کی۔ نادیہ حسین نے واضح کیا کہ انہیں اس عمل میں کوئی فحاشی نظر نہیں آئی بلکہ وہ اسے بچوں کے اعتماد اور فیشن انڈسٹری میں شرکت کے طور پر دیکھتی ہیں۔
نادیہ حسین کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد چائلڈ ماڈلنگ اور کم عمر بچوں کی فیشن انڈسٹری میں شرکت کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔