حمیرا بانو اور عثمان پیرزادہ نے شادی کی افواہوں کی تردید کردی

image

آپ لوگ سوشل میڈیا کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ گزشتہ 45 سال سے میری ایک ہی بیوی ہے اور میری دعا ہے کہ اگلے 50 سال بھی میری یہی بیوی رہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ صرف پیسوں اور زیادہ کلکس کے لیے ایسی جھوٹی خبریں کیوں بناتے ہیں۔ میرا اور حمیرا بانو کا نام جوڑنے کی وجہ بھی مجھے معلوم نہیں۔ اس افواہ سے ہمارا تو کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن ہمارے مداح ضرور پریشان ہوئے اور مجھے ان کی طرف سے بہت سے فون آئے۔”

سینئر پاکستانی اداکار عثمان پیرزادہ نے اداکارہ حمیرا بانو سے شادی اور اپنی اہلیہ ثمینہ پیرزادہ کو طلاق دینے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ گزشتہ 45 برس سے ان کی ازدواجی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

حمیرا بانو کی شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد اس وقت قیاس آرائیوں نے جنم لیا جب اداکارہ نے اپنے نکاح کا اعلان تو کیا، تاہم اپنے شوہر کا چہرہ سوشل میڈیا پر ظاہر نہیں کیا۔ اسی بات کو بنیاد بنا کر بعض سوشل میڈیا پیجز اور یوٹیوب چینلز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عثمان پیرزادہ سے شادی کی ہے۔

افواہ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ عثمان پیرزادہ نے اپنی اہلیہ ثمینہ پیرزادہ کو طلاق دے دی ہے۔ خبر پھیلنے کے بعد معاملہ اتنا بڑھا کہ خود عثمان پیرزادہ کو ایک مارننگ شو میں وضاحت دینا پڑی۔

اداکار نے کہا کہ ایسی افواہیں ان کے بارے میں پہلے بھی کئی مرتبہ پھیلائی جا چکی ہیں اور انہیں اس قسم کی باتوں سے خاص فرق نہیں پڑتا۔ تاہم اس بار ان کے مداحوں میں تشویش ضرور پیدا ہوئی، جس کے باعث انہیں مسلسل فون کالز موصول ہوتی رہیں۔

عثمان پیرزادہ نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر حمیرا بانو اور ان کے شوہر سے بھی بات کی اور سب نے اس افواہ کو سنجیدہ لینے کے بجائے ہنسی میں اڑا دیا۔

دوسری جانب حمیرا بانو نے بھی ایک ویڈیو کال کے دوران واضح کیا کہ ان کی شادی عثمان پیرزادہ سے نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا شوبز سے کوئی تعلق نہیں، وہ نہ اداکار ہیں اور نہ ہی ڈائریکٹر۔

بعد ازاں حمیرا بانو کے شوہر کی تصویر بھی سامنے آگئی، جس کے بعد عثمان پیرزادہ سے ان کی شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کی حقیقت واضح ہوگئی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر دکھاتا ہے کہ کسی شخصیت کی نجی زندگی سے متعلق خبر کو تصدیق کے بغیر آگے بڑھانا کس طرح غیر ضروری الجھن پیدا کرسکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US