بعض اوقات سٹیج کے قریب کھڑے شائقین والا حصہ کسی انڈین شادی کی تقریب کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں مداح دلجیت دوسانجھ کے پُرجوش رقص کے انداز کی نقل کر رہے تھے۔

سنیچر کی رات کو لندن کے ویمبلی سٹیڈیم میں پانچ الفاظ گونج رہے تھے: ’پنجابی آ گئے ویمبلی اوئے۔‘
انڈین سپر سٹار دلجیت دوسانجھ اپنے تمام کنسرٹس کا آغاز اسی اعلان سے کرتے ہیں کہ ’پنجابی آ گئے۔‘
لیکن اس بار ان کے جملے میں ایک خاص بات بھی تھی۔
ویمبلی سٹیڈیم کے مطابق دوسانجھ ویمبلی سٹیڈیم میں پرفارم کرنے والے پہلے پنجابی گلوکار ہیں۔
اپنے مداحوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس موقع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’یہ لمحہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہوگا۔‘
اور جیسے ہی بھنگڑا کی دھنیں گونجیں، مداحوں کے نعروں اور خوشی کے اظہار سے ماحول گونج اٹھا۔ دوسانجھ نے اس موقع اپنے مقبول ترین کامیاب گانے گائے، جن میں ’بورن ٹو شائن‘ اور ’لور‘ شامل تھے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے میں دوسانجھ نے دنیا بھر میں مداحوں ایک ایک وسیع حلقہ قائم کیا ہے، موسیقی کے چارٹس میں سرفہرست رہے ہیں اور ایڈ شیرن جیسے فنکاروں کے ساتھ بھی سٹیج پر پرفارم کیا ہے۔
انہوں نے امریکی ٹی وی میزبان جمی فیلن کے ساتھ بھنگڑا بھی کیا ہے، جنہوں نے انہیں ’دنیا کا سب سے بڑے پنجابی فنکار‘ قرار دیا تھا۔
ویمبلی سٹیڈیم میں ان کے کنسرٹ نے ان کا قد مزید بڑھا دیا ہے۔
اپنے کنسرٹ سے قبل سٹیج کے پیچھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دوسانجھ کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ان کے لیے ’خواب‘ کی طرح ہے۔

لندن میں دوسانجھ کے کنسرٹ میں موجود ہجوم کی اکثریت جنوبی ایشیائی نژاد افراد پر مشتمل تھی، تاہم حاضرین صرف اسی برادری تک محدود نہیں تھے۔
ان کی پرفارمنس سے قبل لوگوں کا جوش و خروش دوپہر ہی سے بڑھنا شروع ہو گیا تھا اور مداح اچھی جگہ حاصل کرنے کے لیے جلد پہنچنے لگے تھے۔
ایک مداح نے کہا ’ایم جے (مائیکل جیکسن) اور میڈونا ہمارے لیے جس مقام پر ہیں، دلجیت دوسانجھ ہمارے لیے اسی درجے کے فنکار ہیں۔‘
ایک اور مداح نے کہا ’وہ بہت خوبصورت ہیں اور اتنے ہی عاجزمزاج۔‘
تیسرے مداح کہتی ہیں کہ ’دلجیت، میں آپ سے اپنے شوہر سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں۔‘
جب وہ رات آٹھ بجے سے کچھ دیر بعد روایتی لباس میں ملبوس سٹیج پر آئے تو اسٹیڈیم نعروں اور خوشی کے شور سے گونج اٹھا اور اگلے دو گھنٹے سے زیادہ تک چیخ و پکار اور جوش و خروش کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔
ان کی سُریلی آواز پورے سٹیڈیم میں گونجتی رہی اور انہوں نے مقامی پنجابی موسیقی کو ریپ اور ہپ ہاپ کے ساتھ یکجا کر کے پیش کیا۔
’جشن کا لمحہ‘
پورے شو کے دوران حاضرین اپنے موبائل فونز کی لائٹین لہرا کر، گانوں کے ساتھ گنگنا کر اور رقص کر کے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ موقع کا لطف لیتے رہے۔
بعض اوقات سٹیج کے قریب کھڑے شائقین والا حصہ کسی انڈین شادی کی تقریب کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں مداح دلجیت دوسانجھ کے پُرجوش رقص کے انداز کی نقل کر رہے تھے۔
تاہم اتنے بڑے مقام پر پرفارم کر کے دوسانجھ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اپنے مداحوں کے ساتھ ذاتی سطح پر رابطہ قائم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وہ مداحوں کو سٹیج پر بھی لائے، انہیں تحائف دیے اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ انہوں نے 90 ہزار نشستوں والے سٹیڈیم کی پچھلی قطاروں میں موجود شائقین کا بھی خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ وہ ’جذبے سے بھرپور‘ ہیں۔
انھوں نے انڈیا میں موجود اپنے مداحوں کو خوشخبری دی کہ وہ نومبر میں احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں پرفارم کریں گے۔
کنسرٹ کا اختتام ایک جذباتی لمحے پر ہوا، جب ان کا گانا ’میں ہوں پنجاب‘ شاندار آتش بازی کے مظاہرے کے ساتھ پیش کیا گیا۔
کنسرٹ میں شریک امیت اور رانی نے بی بی سی کو بتایا ’کیا ہی شاندار شو تھا، ایسے ماحول کی مثال نہیں ملتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز تھا بلکہ ’پنجابی ثقافت کے لیے جشن منانے کا ایک یادگار لمحہ بھی تھا۔‘

دلجیت دوسانجھ کو ’پہلا‘ ہونے کا اعزاز حاصل کرنا پسند ہے۔
پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس فنکار نے 2023 میں اس وقت تاریخ رقم کی، جب وہ امریکی موسیقی میلے کوچیلا میں پرفارم کرنے والے پہلے پنجابی گلوکار بنے۔
انہوں نے میٹ گالا میں بھی پہلی بار شرکت کی اور شاندار پنجابی لباس میں ملبوس ہو کر خاصی توجہ حاصل کی۔
ان کی برق رفتار کامیابی نے انہیں امریکہ اور یورپ بھر میں پرفارم کرنے کا موقع دیا ہے، جبکہ وہ سیا سے لے کر ایڈ شیرن تک متعدد عالمی پاپ ستاروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔
ان کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب ان کی سادگی اور اپنی شناخت کے ساتھ وابستگی ہے۔ وہ اپنی پنجابی جڑوں سے جڑے رہے ہیں، اپنی پگڑی کو فخر کی علامت کے طور پر پہنتے ہیں اور اپنی مادری زبان میں گاتے ہیں۔
موسیقی کے علاوہ دوسانجھ بالی ووڈ کے ایک مقبول اداکار بھی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی خاصے مقبول ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جنہوں نے ان کی موسیقی نہیں سنی، غالباً ان کی مزاحیہ انسٹاگرام ویڈیوز دیکھ چکے ہوں گے، مثلاً وہ ویڈیو جس میں وہ ایک ایمیزون الیکسا ڈیوائس کے ساتھ بحث کرتے نظر آتے ہیں، جو ان کے لہجے کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔

اب وہ ایسے سٹیج پر پرفارم کر چکے ہیں، جہاں اس سے قبل ٹیلر سوئفٹ سے لے کر کولڈ پلے تک موسیقی کی دنیا کے بڑے نام جلوہ گر ہو چکے ہیں۔
دوسانجھ اور دنیا بھر میں موجود ان کے لاکھوں مداحوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجابی موسیقی، پنجابی ثقافت اور پنجابی جوش و جذبہ ایک تاریخی مقام تک پہنچ چکا ہے۔
کنسرٹ سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہاں پہنچنے پر ’شکر گزار‘ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’جب ہم اس مقام کی بکنگ کرنے جا رہے تھے تو ہر کوئی کہتا تھا: ’اتنے بڑے سٹیڈیم کی بکنگ سے پہلے دوبارہ سوچ لو۔‘
’میں نے کہا: ’جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے لوگ خوش ہوں اور یہ کہہ سکیں کہ ہاں، ہم بھی یہ کر سکتے ہیں!‘
انہوں نے خود سے پہلے ویمبلی سٹیڈیم میں پرفارم کرنے والے متعدد فنکاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نقشِ قدم پر چلنا ’بہت، بہت معنی رکھتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’شاید یہ کسی ہیری سٹائلز جیسے فنکار کے لیے اتنا اہم نہ ہو جتنا ہمارے لیے ہے۔ وہ اس طرح کے سٹیجز پر پرفارم کر چکے ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ بہت خاص ہے۔ ایک گاؤں سے یہاں تک پہنچنا، یہ واقعی بہت خاص ہے۔‘
’میں خود اچھا محسوس کر رہا ہوں، میں خوش ہوں اور میں اپنے لوگوں کے لیے خوش ہوں۔ میں اگلی نسل کے لیے خوش ہوں۔‘