تمام ڈیزائنرز کو چاہیے کہ بس ڈیٹرجنٹ پاؤڈر کھانا شروع کردیں۔
میڈم، آپ نے اجرک کی چادر کو ہی کُرتے میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس آنٹی کو خود کو شرمندہ کرنے کا اتنا شوق کیوں ہے؟ آخر ایسے کپڑے کون پہنتا ہے؟ بہت سے غیر معروف ڈیزائنرز بھی اس سے کہیں بہتر کپڑے بنا رہے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں گھومتی ہیں اور لاہور جیسے شہر میں رہتی ہیں، لیکن اپنے اردگرد نظر ڈال کر یہ نہیں دیکھتیں کہ آج کل کتنے اسٹائلش ملبوسات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کی بیٹی کا اعتماد بھی کمال ہے، وہ خود مغربی لباس پہنتی ہیں۔ کوئی اس آنٹی کو سمجھائے کہ اب پرانے زمانے کے ڈیزائن نہیں چلتے۔
میڈم، براہِ کرم ایک تھیم منتخب کرکے اسی کے مطابق ڈیزائن تیار کریں، اس طرح ڈیزائننگ کا عمل بھی آسان ہوجائے گا۔
پاکستان کی سینئر اداکارہ اسماء عباس اپنی جاندار اداکاری کے باعث شائقین میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ ڈم پخت، جی ٹی روڈ، اکبری اصغری، رنجھا رنجھا کردی، چپکے چپکے، چوہدری اینڈ سنز، من جوگی اور دیگر ڈراموں میں اپنی پرفارمنس سے داد سمیٹنے والی اداکارہ اب فیشن کے شعبے میں بھی سرگرم ہیں۔
اسماء عباس نے اپنا کپڑوں کا برانڈ شروع کر رکھا ہے اور لاہور میں وقتاً فوقتاً اپنی نئی کلیکشن متعارف کرواتی رہتی ہیں۔ ان کی گزشتہ کلیکشن کو بھی سوشل میڈیا پر رنگوں، کٹس اور ڈیزائنز کے حوالے سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب اداکارہ نے ایک اور کلیکشن پیش کی ہے، جس میں سندھی اجرک سے متاثر بڑے اور نمایاں پرنٹس شامل کیے گئے ہیں۔ اسماء عباس نے ویڈیو کے ذریعے اپنی نئی کلیکشن کے مختلف ملبوسات بھی دکھائے، تاہم اس بار بھی سوشل میڈیا صارفین نے ڈیزائنز پر اپنی رائے دینے میں کوئی نرمی نہیں برتی۔
کچھ صارفین نے لباس کے پرنٹس اور ڈیزائن کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بعض نے طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ اجرک کے روایتی انداز کو جدید لباس میں شامل کرتے ہوئے ڈیزائننگ پر مزید توجہ دینی چاہیے تھی۔
سوشل میڈیا پر آنے والے تبصروں سے واضح ہے کہ اسماء عباس کی نئی کلیکشن صارفین کے درمیان بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں کچھ لوگوں نے ڈیزائنز کو سخت ناپسند کیا تو بعض نے انہیں مزید بہتر اور جدید انداز اپنانے کا مشورہ دیا۔