نہرِ سوئز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم کو آپس میں ملاتی ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان مختصر ترین بحری تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے۔
آبنائے باب المندب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر غیر معمولی سٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ مصر کی نہرِ سوئز تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔
نہرِ سوئز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم کو آپس میں ملاتی ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان مختصر ترین بحری تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے۔
اسی لیے آبنائے باب المندب کی بندش یا یہاں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹنہرِ سوئز اور یہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور جزیرہ نما عرب میں یمن کو افریقی ساحل پر واقع جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے۔
یہ آبی گزرگاہ تقریباً 29 کلومیٹر چوڑی ہے، جس کی وجہ سے دونوں سمتوں میں بحری جہازوں کی آمد و رفت نسبتاً آسانی سے ممکن ہوتی ہے۔ یہ مشرق سے مغرب کی جانب سامان کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ بھی ہے، خصوصاً ایشیا سے یورپ جانے والی تجارت کے لیے جو نہرِ سوئز کے ذریعے گزرتی ہے۔
افریقی اور جغرافیائی سیاسی امور پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ریمنڈ قلتہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں باب المندب کی مکمل بندش اور خطرات کے باوجود جہاز رانی جاری رہنا، دونوں منظرناموں میں فرق ہے۔ تاہم دونوں صورتوں میں نہرِ سوئز متاثر ہوتی ہے، لیکن اثرات کی شدت اور ان کے طریقۂ کار مختلف ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’آبنائے باب المندب کی مکمل بندش عملی طور پر اس جنوبی دروازے کو بند کرنے کے مترادف ہے جس پر نہرِ سوئز تک پہنچنے والی بحری آمد و رفت کا انحصار ہے کیونکہ نہرِ سوئز کو بحیرۂ احمر اور باب المندب سے الگ ایک راہداری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک پورے بحری نقل و حمل کے نظام کا حصہ ہے۔‘
حوثیوں کی پیش قدمی
یمن کے مغربی علاقوں میں حالیہ پیش قدمی کے دوران حوثی تنظیم انصار اللہ نے بحیرۂ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے اطراف واقع متعدد سٹریٹجک مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ان علاقوں میں مخا شہر اور بندرگاہ، حنیش جزائر، ساحلی قصبہ ذو باب اور آبنائے باب المندب کے وسط میں واقع جزیرہ میون شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ان مقامات سے حکومت نواز یمنی افواج کے انخلا کے بعد سامنے آئی۔
حوثیوں کی اس پیش قدمی میں صوبہ تعز کے ساحلی علاقوں کی جانب جانے والے متعدد علاقوں اور رسد کی گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل تھا۔
حوثی مخا شہر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو بحیرۂ احمر کے قریب اور آبنائے باب المندب سے تقریباً 75 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث غیر معمولی سٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
انھوں نے ذوباب کے علاقے تک بھی پیش قدمی کی، جو باب المندب آبنائے کے شمالی داخلی راستے کے قریب بحیرۂ احمر پر واقع ہے۔ یہ علاقہ فوجی اور سٹریٹجک اعتبار سے اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اس ساحلی شاہراہ پر واقع ہے جو مخا کو آبنائے باب المندب سے ملاتی ہے۔
آبنائے باب المندب کے عین وسط میں حوثیوں نے جزیرہ میون پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو باب المندب کو دو بحری گزرگاہوں یا جہاز رانی کے چینلز میں تقسیم کرتا ہے، ایک آنے اور ایک جانے والے جہازوں کے لیے۔
اس جزیرے کا منفرد محلِ وقوع اسے غیر معمولی طور پر اہم بناتا ہے کیونکہ جو فریق اس پر کنٹرول رکھتا ہے اسے آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بین الاقوامی جہاز رانی کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور پیشگی نگرانی کا مرکز حاصل ہو جاتا ہے۔
یہ علاقے یمن کے مغربی ساحل پر اپنے محلِ وقوع اور آبنائے باب المندب سے قربت کے باعث غیر معمولی سٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے، اور نہرِ سویز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان ہونے والی عالمی سمندری تجارت کے بڑے حصے کی راہداری فراہم کرتی ہے۔
’مکمل کنٹرول‘
ڈاکٹر ریمنڈ قلتہ کا خیال ہے کہ ’یمن میں حالیہ دنوں میں ہونے والی زمینی پیش رفت، جس میں حوثیوں کا مخا پر قبضہ اور مغربی ساحلی پٹی پر ان کی پیش قدمی شامل ہے، ضروری نہیں کہ آبنائے باب المندب پر مکمل کنٹرول کے حصول کے مترادف ہو۔‘
وہ مزید کہتے ہیں ’یہاں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ خطرہ اب صرف یمنی ساحل سے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا بلکہ ان جغرافیائی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش سے جڑا ہے جو بحری آمد و رفت کے لیے ان کے خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔‘
سات اعشاریہ چار ملین سے زیادہ بیرل تیل روزانہ آبنائے باب المندب سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا سے یورپ جانے والی عالمی تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ اور یورپ کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کا تقریباً 25 فیصد حصہ بھی اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

غزہ کی جنگ کے دوران گذشتہ برسوں میں آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملے بارہا دیکھنے میں آئے ہیں۔ حوثی گروپ ان حملوں کو ’غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کے ردِعمل‘ کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔
عرب اکیڈمی برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور میری ٹائم ٹرانسپورٹ کے نمائندے اور بحری امور کے ماہر محمد عبدالسلام داؤد کے مطابق ’حوثی، جو اس وقت اس اہم آبی گذرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی ہیں۔ لہٰذا ایران انھیں امریکہ کے ساتھ اپنے بحران کو بین الاقوامی سطح تک پھیلانے اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا عکس آبنائے باب المندب میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘
عالمی تجارت کو دھچکہ
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے داؤد نے کہا کہ ’آبنائے باب المندب توانائی کے شعبے، بین الاقوامی جہاز رانی اور ایشیا سے یورپ تک سامان اور تجارتی اشیا کی نقل و حمل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی سٹریٹجک محلِ وقوع رکھتی ہے۔ُ
انھوں نے مزید کہا ’توانائی کا بحران اب عالمی تجارتی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اب متبادل راستے کے طور پر دماغۂ امیدِ نیک (کیپ آف گڈ ہوپ) کے گرد چکر لگا کر سفر کرنا ہوگا، جس کی صورت میں ایشیا سے یورپ تک سفر کا دورانیہ 10 دن سے بڑھ کر 14 دن تک ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں نقل و حمل اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘
داؤد نے پیش گوئی کی کہ اگر آبنائے باب المندب بند ہو جاتی ہے تو کنٹینر بردار جہازوں کے آپریٹنگ اخراجات میں 70 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحری امور کے ماہر نے مزید کہا کہ ’تہران حالیہ عرصے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ پیدا ہونے والے بحران کو، یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے، جوابی حکمتِ عملی کے طور پر آبنائے باب المندب تک منتقل کر رہا ہے۔‘
کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تعطل کی صورت میں نہرِ سوئز ممکنہ طور پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والا راستہ ہوگی، کیونکہ باب المندب وہ واحد جنوبی بحری دروازہ ہے جس کے ذریعے جہاز نہرِ سویز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
لائیڈز لسٹ ویب سائٹ کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران نہرِ سوئز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو سال بہ سال تقریباً 28 فیصد بڑھ کر 1,232 جہازوں تک پہنچ گئی۔
خام تیل بردار ٹینکروں کی آمدورفت تقریباً حوثی حملوں سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ چکی ہے، تاہم کنٹینر بردار جہازوں اور گاڑیاں لے جانے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت اب بھی 2023 کی اوسط سطح سے کافی کم ہے۔

تاہم لائیڈز لسٹ ویب سائٹ کا اندازہ ہے کہ اس ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے کیونکہ اگرچہ نہرِ سوئز کو تجارتی راستوں کی تبدیلی سے فائدہ پہنچا ہے، لیکن حوثیوں کی جانب سے دوبارہ سامنے آنے والے خطرات نے باب المندب کے راستے بحری آمدورفت کی بحالی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔
بحری امور کے ماہر داؤد نے پیش گوئی کی کہ ’نہرِ سویز کی آمدنی شدید متاثر ہوگی، اسی طرح سعودی عرب کی تیل آمدنی بھی متاثر ہوگی کیونکہ وہ ایشیا کو تیل باب المندب کے راستے اور یورپ کو بحری راستوں کے ذریعے برآمد کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مصر اکیلا حوثیوں کو آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا اس کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔‘
کیا یہ کوئی نیا بحران ہے؟
ڈاکٹر ریمنڈقلتہ کہتے ہیں کہ ’2023 کے اواخر سے بحیرۂ احمر میں پیدا ہونے والے بحران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہی شپنگ کمپنیوں کو اپنے تجارتی راستے تبدیل کر کے رأس الرجا الصالح (کیپ آف گُڈ ہوپ) کے گرد طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 کے وسط تک نہرِ سوئز سے گزرنے والے جہازوں کے مجموعی بوجھ اٹھانے کی صلاحیت کے لحاظ سے 2023 کے اواخر کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کمی آ چکی تھی۔‘
انھوں نے نشاندہی کی کہ ’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جنوری 2024 میں ریکارڈ کیا کہ نہرِ سوئز کی آمدنی میں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہوئی، جو جنوری 2023 کے مقابلے میں تقریباً 375 ملین ڈالر کے برابر بنتی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھی یہ نوٹ کیا کہ اکتوبر 2024 میں آبنائے باب المندب سے یومیہ گزرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد 33 تھی، جو اس سے پہلے کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 57 فیصد کم تھی۔ یہ کمی ایسے وقت میں دیکھی گئی جب متعدد بحری جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے کیپ آگ گُڈ ہوپ سے سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔
قلتہ کا خیال ہے کہ ’اگر باب المندب میں رکاوٹ نہرِ سوئز پر دباؤ بڑھاتی ہے تو اس کی مسلسل بندش اس دباؤ کو ٹرانزٹ اور آمدنی کے حوالے سے ایک بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔‘
اگرچہ حوثیوں کے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں میں ممکنہ خلل پر تشویش پائی جاتی ہے، تاہم حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایکس پر کہا کہ ’بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کی آزادی کے حوالے سے صورتحال محفوظ اور معمول کے مطابق ہے اور اس بارے میں بین الاقوامی برادری کو کسی تشویش کی ضرورت نہیں کیونکہ یمن کی جانب سے اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔‘
مصر اس بحران سے کیسے نمٹ رہا ہے؟
ڈاکٹر ریمنڈ قلتہ کے مطابق ’مصر کو بیک وقت تین متوازی سطحوں پر کام کرنا چاہیے: بحری راہداری کا تحفظ، بحران کے معاشی اثرات سے بچنے کا انتظام اور سیاسی و سفارتی اقدامات۔‘
انھوں نے کہا ’بحری سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے مصر صرف نہرِ سوئز کا تحفظ کر کے اپنے مفادات کا دفاع نہیں کر سکتا کیونکہ نہرِ سوئز میں جہاز رانی کا تحفظ سٹریٹجک اعتبار سے بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے سے شروع ہوتا ہے۔‘
انھوں نے تجویز پیش کی کہ مصر اس مقصد کو مختلف ذرائع سے حاصل کر سکتا ہے، جن میں مثال کے طور پر: بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن سے متصل ممالک کے ساتھ بحری اور انٹیلی جنس تعاون، بحری خطرات، ڈرونز اور میزائل حملوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ، ابتدائی انتباہی نظام اور بحری نگرانی کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانا اور جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے اجتماعی انتظامات میں تعاون‘ شامل ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے باب المندب کے تحفظ میں براہِ راست مفاد رکھنے والے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، جبوتی، اریٹیریا اور یمن کے ساتھ سکیورٹی تعاون اور ہم آہنگی اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہو سکتی ہے۔
انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اگر آبنائے باب المندب بند ہو جاتی ہے تو مصر کو پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ڈاکٹر ریمنڈ قلتہ کے بقول مصری حکومت ’اس بحری راستے کے استعمال میں ہچکچاہٹ کا شکار جہازوں کے لیے لچکدار نرخوں اور مراعاتی پالیسیوں کو اختیار کر سکتی ہے اور بڑی شپنگ کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست رابطوں کو مزید فعال بنا کر انھیں درست اور تازہ ترین سکیورٹی جائزے فراہم کر سکتی ہے۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’نہرِ سوئز کی آمدنی میں ممکنہ کمی سے پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانا ضروری ہے، خصوصاً غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن کے حوالے سے اور اس مقصد کے لیے آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہوگا۔‘
ان کے مطابق سیاسی اور سفارتی سطح پر مصر کا براہِ راست مفاد اس بات میں ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا جائے کیونکہ باب المندب کا بحران محض بحری قزاقی کا مسئلہ نہیں بلکہ یمنی تنازع اور وسیع تر علاقائی کشیدگیوں کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہے۔
’مصر اپنی سفارتی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر سکتا ہے کہ باب المندب پر کنٹرول جہاز رانی کے لیے مستقل خطرے کا باعث نہ بنے۔ اسی طرح وہ یمن میں ایسے سیاسی حل کی حمایت کر سکتا ہے جو یمنی جغرافیے کو بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے سے روکے اور اس سلسلے میں علاقائی و بین الاقوامی قوتوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔‘