ایڈ شیرن کا دورۂ امریکہ، میکلمور کا ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ اور معاون فنکاروں کی علیحدگی: معاملہ کیا ہے؟

برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکہ کے دورے میں شامل باقی تمام معاون فنکاروں نے اس دورے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ معاون فنکاروں کی جانب سے یہ فیصلہ ریپر میکلمور کو سٹیج پر غزہ کے حق میں بیانات دینے کے باعث دورے کے شیڈول سے ہٹائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
Ed Sheeran
Getty Images
ایڈ شیرن نے منگل کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ میکلمور کو امریکی دورے سے نکالنے کا فیصلہ منتظمین (پروموٹرز) کا تھا، ان کا نہیں۔

برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکہ کے دورے میں شامل باقی تمام معاون فنکاروں نے اس دورے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ معاون فنکاروں کی جانب سے یہ فیصلہ ریپر میکلمور کو سٹیج پر غزہ کے حق میں بیانات دینے کے باعث دورے کے شیڈول سے ہٹائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

جن معاون فنکاروں نے اس دورے سے علیحدگی اختیار کی ہے ان میں مشہور گلوکارہ بلی ایلش کے بھائی فنیاس بھی شامل ہیں۔

فنیاس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’فنکاروں کو مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کروانا چاہیے۔‘

آئرش گلوکار اور نغمہ نگار ایرن رو اور ڈنمارک کے بینڈ لوکاس گراہم نے بھی دورے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایڈ شیرن کے ساتھ ہر رات سٹیج پر پرفارم کرنے والے آئرش فوک بینڈ بیوگا نے بھی اس دورے سے علیحدگی اختیار کر لی۔

فنکاروں کی جانب سے یہ اعلانات ایڈ شیرن کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ غزہ کے معاملے پر عوامی بحث میں شامل نہیں ہوں گے، اور یہ بھی واضح کیا کہ میکلمور کو دورے سے ہٹانے کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

انسٹاگرام پر جاری بیان میں ایڈ شیرن کا کہنا تھا کہ ’میکلمور کو دورے سے ہٹانے کا فیصلہ منتظمین (پروموٹر) کا تھا، میرا نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ان مداحوں کو مایوس نہیں کر سکتا تھا جنھوں نے پہلے ہی اپنے منصوبے بنا لیے تھے، اور نہ ہی میں اس دورے پر کام کرنے والے عملے، دیگر معاون فنکاروں اور موسیقاروں کو چھوڑ سکتا تھا، جو روزگار اور اپنی گزر بسر کے لیے اس ٹور پر منحصر ہیں۔‘

میکلمور، جن کا اصل نام بینجمن ہیگرٹی ہے، نے اس مہینے کے آغاز میں امریکی ریاست نیو جرسی میں ہونے والے دو کنسرٹس کے دوران ’فری فلسطین‘ (آزاد فلطین) کا نعرہ لگایا تھا اور غزہ میں تباہی کی تصاویر بھی دکھائی تھیں۔

بعض یہودی تنظیموں نے ان کے بیانات کی تنقید کی تھی جس کے بعد بعض کنسرٹ کے مقامات کے منتظمین نے اس دورے کے منتظمین پر میکلمور کو پروگرام سے ہٹانے پر دباؤ ڈالا تھا۔

Singer/songwriter Ed Sheeran (L) and rapper Macklemore perform during the 2014 iHeartRadio Music Festival at the MGM Grand Garden Arena on September 20, 2014 in Las Vegas, Nevada. Sheeran is wearing a checked shirt and holding a guitar. Macklemore is wearing a black jacket.
Getty Images
2014 میں لی گئی ایڈ شیرن اور میکلمور کی ایک تصویر۔

ایڈ شیرن کا کیا کہنا ہے؟

اپنے بیان میں ایڈ شیرن کا کہنا تھا کہ انھوں نے پورا ہفتہ مختلف کنسرٹ مقامات کے منتظمین سے تفصیلی بات چیت کی اور ’دونوں فریقوں کے درمیان دوریاں کم کرنے‘ کی کوشش کی تھی، تاہم آخرکار پروموٹنگ کمپنی میسینا ٹورنگ گروپ نے میکلمور کو دورے سے الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ایڈ شیرن کا کہنا تھا کہ انھیں ’اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع سے شدید صدمہ پہنچا ہے‘ اور یہ کہ ’دونوں جانب ہونے والا دکھ اور تکلیف ایک انسانی المیہ ہے‘۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ وہ سیاسی معاملات پر عوامی سطح پر اظہارِ خیال سے کیوں گریز کرتے ہیں۔

انھوں نے لکھا ’میں اس میں شامل نہیں ہوں۔ اس تباہ کن تنازع کے بارے میں میری اپنی ذاتی آرا ہیں۔ صرف اس لیے کہ میں عوامی طور پر ان کا اظہار نہیں کرتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میری کوئی رائے نہیں، یا مجھے اس کی پروا نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے طور پر مختلف مقاصد کی حمایت نہیں کرتے۔

ایڈ شیرن نے کہا ’میں اپنے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کو سیاست کے لیے اس لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ میرے سامعین میں ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان، حتیٰ کہ بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔‘

’جو لوگ میرے کنسرٹس میں آتے ہیں، وہ کسی سیاسی فورم کی توقع نہیں رکھتے۔ میں میکلمور کے اس عزم کا احترام کرتا ہوں کہ وہ جس بات پر یقین رکھتے ہیں اس کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور بلند آواز میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ تاہم ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔‘

ایڈ شیرن کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی شہرت اور پلیٹ فارم کو ایک محفوظ اور پُرسکون جگہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہوں، جہاں سفارت کاری کو فروغ دیا جا سکے اور بات چیت کے دروازے بند ہونے کے بجائے کھلے رہیں۔ اگر ہم ہماری توجہ صرف سب سے اونچی آواز اٹھانے پر ہو گی تو کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ تبدیلی کے لیے آواز اٹھانے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔‘

ایڈ شیرن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دیگر تمام معاون فنکاروں کی طرح‘ میکلمور کو بھی اپنی پرفارمنس کے لیے گانوں کی فہرست خود منتخب کرنے کی آزادی دی گئی تھی۔

اگر ایڈ شیرن کا بیان جاری کرنے کا مقصد اپنے مداحوں اور دورے میں شریک دیگر فنکاروں کے خدشات کم کرنا تھا تو بظاہر اس کا الٹا اثر پڑا۔

لوکاس گراہم نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ہمیں جنگ کے بارے میں بات کرنے، عام شہریوں کے قتل پر آواز اٹھانے اور ان بچوں کے حق میں بولنے کی آزادی ہونی چاہیے جنھیں بڑے ہونے کا حق ہے۔ چاہے وہ کہیں بھی اور کسی بھی پرچم کے تلے رہتے ہوں۔‘

ایرن رو، کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دورے سے الگ ہونے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ یاد رہے کہ ایرن رو نے اس سال کے آغاز میں ایڈ شیرن کے آسٹریلوی دورے میں افتتاحی پرفارمنس دی تھی اور جون میں امریکی دورے کے لیے دوبارہ معاون فنکار کے طور پر شامل ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایڈ میرے دوست رہے ہیں اور انھوں نے میری زندگی بدل دی ہے۔ اس کے لیے میں ان کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔‘

آئرش فوک بینڈ بیوگا نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’بطور موسیقار، ہر رات ایسے مجمع کے سامنے پرفارم کرنا ایک خواب جیسا ہے، لیکن ایسے مقامات پر پرفارم کرنا جہاں آزاد فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خاموش کروا دیا جاتا ہے، ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘

Macklemore
AFP via Getty Images
امریکی ریپر میکلمور۔ فائل فوٹو

ہنڈز ہال کی پرفارمنس اور آزاد فلسطین کا نعرہ

اس تنازعے کا آغاز چار ستمبر کو اس وقت ہوا جب میکلمور امریکی ریاست نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں ایڈ شیرن کے کنسرٹ میں پرفارم کر رہے تھے۔

پرفارمنس کے دوران انھوں نے حاضرین سے کہا ’میرا اس دورے میں شامل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میں ایسے بڑے سٹیڈیمز میں کھڑے ہو کر دو ایسے الفاظ کہہ سکوں جو میرے دل کے بہت قریب ہیں: فری فلسطین۔‘

اس کے بعد انھوں نے اپنا گانا ’ہِنڈز ہال‘ پیش کیا، جو کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حامی مظاہرین کے نام منسوب ہے اور جس میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی گئی ہے۔ اس پرفارمنس کے دوران بڑی سکرینوں پر غزہ میں ہونے والی تباہی کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔

سامعین میں سے بعض نے اس پر انھیں بھرپور داد دی، تاہم اس کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

میکلمور کے اس بیان کے بعد اسرائیلی امریکن کونسل نے انھیں اس دورے سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایکپٹیشن شروع کی۔ دوسری جانب کیمپین گروپ ’سٹاپ اینٹی سیمیٹزم‘ نے الزام عائد کیا کہ موسیقار نے مداحوں کو سیاسی پراپیگنڈا سننے پر مجبور کیا۔ پاپ گلوکارہ پنک نے بھی انسٹاگرام پر اس مؤقف کو دوبارہ شیئر کیا۔

اگلی رات میکلمور دوبارہ اسی سٹیج پر آئے اور حاضرین میں موجود اپنے ’یہودی بھائیوں اور بہنوں‘ سے براہِ راست مخاطب ہوئے کہا ’اسرائیل پر تنقید، نسلی امتیاز پر مبنی نظام (اپارتھائیڈ) پر تنقید، یا نسل کشی کی مخالفت، کسی بھی طرح سے آپ پر تنقید نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں رہنے والے لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انھیں بھلایا نہیں گیا ہے۔

اسرائیل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اس کی فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق اور اپنے دفاع کے تحت کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد غزہ میں فوجی مہم شروع کی تھی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے دوران 73,780 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اس وزارت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتبار سمجھتی ہے۔

Gaza
AFP via Getty Images
غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے دوران 73,780 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

’سمجھ سکتا ہوں کہ ایڈ شیرن کس مشکل میں پھنس گئے تھے‘

کئی روز تک میڈیا میں چلنے والی خبروں کے بعد پیر کے روز میکلمور نے بتایا کہ انھیں دورے کی لائن اَپ سے نکال دیا گیا ہے۔

انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کے بائیکاٹ کے پیچھے رابرٹ کرافٹ ہیں، جو امریکی ریاست میساچوسٹس کے جلیٹ سٹیڈیم کے ارب پتی مالک ہیں۔

رابرٹ کرافٹ، جنھوں نے ماضی میں اپنی شادی کی تقریب میں ایڈ شیرن کو پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا تھا، نے تصدیق کی کہ انھوں نے ہی میکلمور کو اپنے سٹیڈیم میں پرفارم کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا سٹیڈیم ’نفرت انگیز تقریر کے لیے کوئی پلیٹ فارم فراہم نہیں کرے گا۔‘

کرافٹ نے الزام لگایا کہ میکلمور ماضی میں بھی یہود مخالف بیانات دیتے آئے ہیں۔

رابرٹ کرافٹ کا کہنا تھا کہ ’میں میکلمور سے متفق ہوں کہ بہت جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور بے حد تکلیف برداشت کی گئی ہے، لیکن صرف چنیدہ معلومات پیش کرنا اور حماس کے اقدامات کو نظرانداز کرنا دیانت دارانہ طرزِ عمل نہیں، بلکہ اس سے مزید تقسیم اور نفرت کو فروغ ملتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ انھوں نے دیگر کنسرٹ مقامات پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی تاکہ میکلمور کو پرفارم کرنے سے روکا جا سکے۔

دوسری جانب، دورے کے منتظم میسینا ٹورنگ گروپ نے رولنگ سٹون میگزین کو بتایا کہ انھیں متعدد کنسرٹ مقامات کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ میکلمور کو پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’اس صورتِ حال کے نتیجے میں پورا دورہ منسوخ ہو سکتا تھا، جس سے لاکھوں کے قریب مداحوں اور دورے سے وابستہ افراد متاثر ہوتے۔‘

منگل کی شب دورے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے بہت سے فنکاروں نے کہا کہ اس سارے معاملے میں رابرٹ کرافٹ کا کردار بھی ان کے فیصلے پر اثر انداز ہوا ہے۔

ڈینش بینڈ لوکاس گراہم کا کہنا کہ ’دولت آپ کو یہ حق نہیں دیتی کہ آپ گفتگو پر اجارہ داری قائم کر لیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے تھا ’کسی شخص کا بینک بیلنس اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون بول سکتا ہے یا ہمیں کس کے دکھ اور تکلیف کو تسلیم کرنے کی اجازت ہے۔‘

اپنے بیان میں میکلمور کا کہنا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایڈ شیرن کس مشکل صورتِ حال میں پھنس گئے تھے۔ تاہم انھوں نے برطانوی گلوکار پر واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر تنقید بھی کی۔

انھوں نے لکھا ’کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ پیسہ، برانڈ معاہدے، سپانسرشپس، میوزک فیسٹیولز، نجی پرفارمنسز، تعلقات اور مواقع، ان سب سے ہاتھ ڈھونا پڑ سکتا ہے۔ میں یہ سب کھو چکا ہوں۔ لیکن جابر اور مظلوم کے درمیان کوئی غیر جانبدار مؤقف نہیں ہوتا۔‘

میکلمور کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اس دورے میں صرف دو ہی شوز میں پرفارم کر سکے، لیکن انھیں اس بات پر اطمینان ہے کہ ان کے پیغام نے فلسطین کے مسئلے کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US