اس بحث کی بنیادی وجہ خود سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے کیونکہ اس کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے گذشتہ ماہ پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس میں اعلان کیا تھا کہ مرکزی بینک کرنسی نوٹوں کی آئندہ سیریز میں سے 10 روپے کے نوٹ کے خاتمے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے سینیٹ فنانس کمیٹی کو گذشتہ مہینے آگاہ کیا کہ سٹیٹ بینک دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کا سکہ جاری کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہےپاکستان میں 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ 10 روپے مالیت کا سکہ جاری کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پر افواہوں اور پوسٹوں کی بھرمار ہے۔
اس بحث کی بنیادی وجہ خود سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے کیونکہ اس کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے گذشتہ ماہ پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس میں اعلان کیا تھا کہ مرکزی بینک کرنسی نوٹوں کی آئندہ سیریز میں سے 10 روپے کے نوٹ کے خاتمے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کہا گیا کہ دس روپے کے نوٹ کی بجائے دس روپے کا سکہ جاری کیا جائے گا۔
سٹیٹ بینک کے اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی غیر مصدقہ پوسٹوں کی بھرمار نظر آئی جن میں 10 روپے کے کرنسی نوٹ کے خاتمے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نوٹ کے تبادلے کے لیے اس مہینے کی آخری تاریخ ڈیڈ لائن ہے۔
تاہم اب تک سٹیٹ بینک کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ایسا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی نوٹ ختم کر کے سکہ جاری کرنے کی کوئی تاریخ دی گئی ہے۔
بی بی سی اردو نے اس سلسلے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور مالیاتی امور کے ماہرین سے رابطہ کیا کہ کیا واقعی مرکزی بینک دس روپے کے نوٹ کو ختم کر رہا ہے اور اگر ایسی پیش رفت ہو رہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
10 روپے کے نوٹ کو سکے سے بدلنے کی بات کہاں سے شروع ہوئی؟
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے سینیٹ فنانس کمیٹی کو گذشتہ مہینے آگاہ کیا کہ سٹیٹ بینک دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کا سکہ جاری کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک کے اعلیٰ اہلکار کی جانب سے دیے گئے بیان کے بعد دس روپے کے کرنسی نوٹ کے خاتمے کے بارے میں بی بی سی اردو نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کر کے کسی ایسی ممکنہ پیش رفت کے بارے میں پوچھا تو ترجمان مرکزی بینک نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے ابھی تک کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس بارے میں کوئی فیصلہ یا بحث ہوئی ہے تو انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے جس میں اس سلسلے میں کسی ایسی پیش رفت کا ذکر ہو۔
راشد کے مطابق جب کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے تو کم مالیت کے نوٹ اور سکے اپنی قوتِ خرید کھو دیتے ہیںکرنسی نوٹوں کا خاتمہ کن بنیادوں پر کیا جاتا ہے؟
سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کی جانب سے دس روپے کے نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کے سکے جاری کرنے کے بارے میں غور کے بیان سے کیا واقعی دس روپے کا کرنسی نوٹ ختم ہو جائے گا؟ اس بارے میں سٹیٹ بینک نے کوئی باضابطہ بیان ابھی تک جاری نہیں کیا۔
تاہم پاکستان میں ماضی میں کرنسی نوٹوں کو ختم کر کے ان کی جگہ سکے جاری کیے گئے ہیں۔ ماضی میں ایک، دو اور پانچ روپے کے کرنسی نوٹوں کو ختم کر کے ان کی جگہ سکے جاری کیے گئے ہیں۔
کرنسی نوٹوں کا خاتمہ کن وجوہات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے؟ اس بارے میں سٹیٹ بینک کے سابق گورنر سلیم رضا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق کرنسی کی ویلیو سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب کرنسی کی ویلیو کم ہوتی ہے تو چھوٹے نوٹوں کی ویلیو بھی کم ہوتی ہے اور ان سے کچھ نہیں خریدا جا سکتا۔
انھوں نے بتایا کہ آج دس روپے کی مالیت بہت کم ہو چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ پھٹ جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے جبکہ سکہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کم ویلیو والے کرنسی نوٹ کے بدلے میں سکے جاری کیے جاتے ہیں۔
مالیاتی امور کے ماہر راشد مسعود عالم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کرنسی نوٹ میں اس کی قوتِ خرید دیکھی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب ایک کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید بہت کم ہو جاتی ہے تو پھر اسے آہستہ آہستہ ختم کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ کے بدلے میں سکہ جاری کرنے کی بات اس لیے عجیب ہے کہ سکے پر آنے والی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اصل مقصد کسی خاص نوٹ کی کم مالیت کی وجہ سے اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کی مالیاتی ویلیو بہت کم ہو جاتی ہے۔
راشد نے کہا کہ ماضی میں ایک، دو یا پانچ روپے کے کرنسی نوٹ ختم کر کے ان کے سکے جاری کیے گئے تھے، تاہم کیا اب وہ سکے کہیں نظر نہیں آتے۔
راشد کے مطابق جب کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے تو کم مالیت کے نوٹ اور سکے اپنی قوتِ خرید کھو دیتے ہیں اور پھر ان کا استعمال بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔
مالی سال 26-2025 میں کرنسی نوٹوں پر چھپائی کی لاگت 29.6 ارب روپے رہیکیا سکے کے مقابلے کرنسی نوٹ کی چھپائی کی لاگت زیادہ ہے؟
ملک میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کے سکے جاری کرنے کے بارے میں ڈپٹی گورنر کے بیان کے مطابق اس کی وجہ کرنسی نوٹ کی چھپائی کی زیادہ لاگت ہے۔
پاکستان میں سٹیٹ بینک کی جانب سے اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹ برائے مالی سال 26-2025 میں ظاہر کیا گیا ہے کہ پورے سال میں کرنسی نوٹوں پر چھپائی کی لاگت 29.6 ارب روپے رہی، جو اس سے ایک سال قبل 27.8 ارب روپے تھی۔
سٹیٹ بینک نے تمام کرنسی نوٹوں پر آنے والی مجموعی لاگت کے اعداد و شمار دیے ہیں جن میں مختلف مالیت کے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کے اخراجات الگ سے ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔
راشد مسعود نے اس سلسلے میں بتایا کہ بلاشبہ کرنسی نوٹ کی ایک لاگت ہوتی ہے اور اس کی سیاہی اور کاغذ بھی مہنگا ہوتا ہے اور ایک خاص جگہ سے خریدا جاتا ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ اس کی چھپائی آسان ہوتی ہے۔ دوسری جانب سکے کو ڈھالنے کا عمل مشکل ہوتا ہے اور وہ مہنگا بھی ہے کیونکہ اس میں شامل دھات بھی مہنگی ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اصل میں کرنسی نوٹ ختم کرنے کے پس پردہ چھپائی کی لاگت نہیں بلکہ اس کرنسی نوٹ کی ویلیو کا کم ہونا ہے کیونکہ اس کے اندر قوتِ خرید کے ختم ہونے سے اس کی طلب ختم ہو جاتی ہے۔