نیٹ فِسکل فلو میں کمی اداروں کی خرابی نہیں، وزارت خزانہ

image

وزارت خزانہ نے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی مالی کارکردگی، حکومتی مالیاتی بہاؤ اور جاری اصلاحات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ فِسکل فلو میں کمی کو ایس او ایز کی مالی کارکردگی یا مالی صحت میں خرابی قرار دینا درست نہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق فِسکل فلو اور ایس او ایز کی مالی کارکردگی دو الگ پیمانے ہیں۔ فِسکل فلو میں حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان لین دین، حکومتی معاونت، ٹیکسز، منافع، لیویز اور دیگر ادائیگیاں شامل ہوتی ہیں، جبکہ ایس او ایز کی مالی کارکردگی کا جائزہ منافع، نقصانات اور دیگر مالی و آپریشنل اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران منافع کمانے والے سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر 423.3 ارب روپے منافع حاصل کیا، جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا مجموعی خسارہ 342.8 ارب روپے رہا۔ وزارت کے مطابق خسارے کو محدود رکھنا جاری ایس او ای اصلاحاتی اور نگرانی کے نظام میں پیش رفت کی اہم علامت ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس عرصے کے دوران ایس او ایز حکومت کے لیے مجموعی طور پر 35.8 ارب روپے کے خالص مالی معاون رہے۔ سرکاری اداروں سے حکومت کو 839.8 ارب روپے کی آمدن ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے ایس او ایز کو 804 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ ایکویٹی انجیکشن، اداروں کی تنظیم نو اور گردشی قرضے کے انتظام سے متعلق مالی معاونت تھی۔ اس دوران سرکاری اداروں کی جانب سے ادا کیے جانے والے منافع میں 26 فیصد جبکہ ٹیکس ادائیگیوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ نیٹ فِسکل فلو میں تبدیلیوں کو حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان لین دین کے وقت اور نوعیت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، اسے ایس او ایز کے منافع یا مجموعی مالی کارکردگی کا واحد پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایس او ای اصلاحات کا جائزہ صرف چھ ماہ کے مالیاتی بہاؤ سے لینا بھی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے آپریشنز بند کر دیے ہیں، پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کو تحلیل کیا جا رہا ہے، جبکہ فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری مکمل کی جا چکی ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ بجلی کے شعبے میں نو بجلی تقسیم کار کمپنیاں بھی نجکاری پروگرام میں شامل ہیں، جن میں فیسکو، گیپکو، آئیسکو، لیسکو، میپکو، حیسکو، سیپکو، پیسکو اور ہیزکو شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے معاملات نجکاری کے مختلف مراحل میں ہیں، جبکہ وسیع تر ایس او ای تنظیم نو اور نجکاری پروگرام کے تحت پہلے مرحلے کے لیے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں دلچسپی بھی موصول ہوئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں میں گورننس اصلاحات کے ذریعے آزاد اور پیشہ ور بورڈز، کاروباری منصوبوں پر جواب دہی، کارکردگی کی نگرانی اور شفاف و ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کے حجم میں کمی، گورننس اور احتساب کا فروغ، شفافیت میں اضافہ، تجارتی نظم و ضبط بہتر بنانا اور مالیاتی خطرات میں بتدریج کمی لانا ہے۔ حکومت ایس او ای پورٹ فولیو کے بعض حصوں میں موجود چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور اداروں کی صورتحال کے مطابق تنظیم نو، بندش، نجکاری اور بہتر کارکردگی کے انتظام کے ذریعے ان مسائل سے نمٹ رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US